جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کو فوکس میں لانے کا مشکل ترین مرحلہ شروع

بول نیوز  |  Jan 14, 2022

ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کو فوکس میں لانے کا چار ماہ کا مشکل ترین عمل شروع کر دیا ہے۔

10 ارب ڈالرز مالیت کی یہ مشاہدہ گاہ یہ مشکل ترین مرحلہ چار ماہ میں مکمل کر کے موسمِ گرما کے شروع میں کائنات کی گہرائیوں میں نگاہ مارنا شروع کرے گی۔

کرسمس کے دن گیانا اسپیس سینٹر سے لانچ کی جانے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے متعلق ناسا نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا 21 فٹ کا سونا چڑھا پرائمری آئینہ مکمل طور پر نصب کیا جاچکا ہے جس سے پہلے سن شیلڈز اور چھوٹا اور ثانوی آئینہ نصب کیا گیا تھا۔

پرائمری آئینے کی تنصیب نے اسپیس کرافٹ کی تمام اہم تنصیبات کو حتمی کیا اور ٹیلی اسکوپ کو سائنس آپریشن کے لیے تیار کر دیا۔ لیکن اب ناسا کے انجینئرز اس کے فوکس کی سیٹنگ کریں گے تاکہ کائنات کی واضح اور صاف تصویر کا عکس آ سکے۔

یہ عمل مکمل ہونے کے بعد جیمز ویب سئ پہلی تصویر مئی میں آنا متوقع ہے، جس کے بعد اس کو جون میں جاری کرنے سے قبل اس پر مزید ایک ماہ کام کیا جائے گا۔

ٹیلی اسکوپ فی الحال سیکنڈ لیگرینجین پوائنٹ (L2)کی جانب گامزن ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سورج اور زمین کے درمیان کشش ثقل متوازی ہوجاتی ہے۔ اس مقام پر یہ ٹیلی اسکوپ ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزارے گی اور انفراریڈ میں کائنات کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھائے گی۔

ناسا کے مشن کنٹرول انجینئرز نے اپنی ابتدائی ہدایات بھیج کر ٹیلی اسکوپ کو فوکس کرنے کی شروعات کر دی ہے۔

انجینئرز نے ’ایکچوایٹرز‘ نامی چھوٹی موٹرز کو اپنی ہدایات بھیجی  ہیں جو ٹیلی اسکوپ کے پرنسپل آئینے کو آہستہ آہستہ پوزیشن میں لائے گی اور سیٹنگ کرے گی۔

ان ایکچوایٹرز کو خلاء کے منفی 240 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں آگے بڑھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More