شمالی کورین ہیکرز نے 2021ء میں 400 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی اڑائی

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز نے گزشتہ برس تقریباً 400 ملین ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی پہ ہاتھ صاف کیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ چوری کرپٹو کرنسی کے پلیٹ فارمز پر کم ازکم سات حملوں میں کی گئی۔

بلاک چین تجزیاتی کمپنی چین انیلیسز کا کہنا ہے کہ سخت پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا میں سائبر کرائم میں ملوث افراد کے لیے 2021ء کامیاب ترین سال تھا۔

ان حملوں میں ہیکرز کے نشانے پر زیادہ تر سرمایہ کاری کرنے والی فرمز اور سینٹرلائزڈ ایکسچینجز تھیں تاہم شمالی کوریا ہیکنگ کے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے۔

چین انیلیسز کے مطابق 2020ء سے 2021ء تک شمالی کوریا سے ہیکنگ حملوں کی تعداد چار سے بڑھ کر سات تک پہنچ گئی اور رقم کے تناسب کے اعتبار سے ان حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے بہت سی تکنیکیں استعمال کیں جن میں فشنگ، کوڈ کا ناجائز استعمال اور میل وئیر کے ذریعے تنظیموں کے ہاٹ والٹ سے فنڈز حاصل کرنا شامل تھا اور اس کے بعد انہیں شمالی کوریا کے زیر کنٹرول ایڈریسز پر منتقل کر دیا گیا۔

کرپٹو کرنسی کے ہاٹ والٹ دراصل انٹرنیٹ اور کرپٹو کرنسی کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے وہ ہیکنگ کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔ انہیں کرپٹو کرنسی بھجوانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ صارفین کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ دیکھ سکیں کہ ان کے پاس کتنے ٹوکن ہیں۔

بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی کی بڑی مقدار کو جس کی روزانہ ضرورت نہ ہو، ایسے کولڈ والٹ میں بھجوانا چاہیے جو انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہو۔

چین انیلیسز کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حملے نام نہاد لزارس گروپ کی جانب سے ہوئے جس پر امریکا نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

اس گروپ کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسے شمالی کوریا کی بنیادی انٹیلیجنس ایجنسی دی ریکوناسینس جنرل بیورو کنٹرول کرتا ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ برس کے حملوں کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے قبضے میں فنڈز آئے تو اس نے ان کی پردہ پوشی اور کیش آؤٹ کرنے کے لیے بہت احتیاط سے منی لانڈرنگ کا عمل شروع کیا۔

اقوام متحدہ کے پینل نے جو شمالی کوریا پر پابندیوں کا جائزہ لیتا ہے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی مدد کے لیے چوری شدہ فنڈز کا استعمال کر رہا ہے تاکہ بین الاقوامی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More