بھارت میں مسلم دشمن ہندو انتہا پسند وکلا کا اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

بھارت میں صرف ہندو سادھو اور سیاستدان ہی نہیں بلکہ اب خود کو پڑھا لکھا تعلیم یافتہ کہلانے والا کالا کوٹ طبقہ بھی مسلم دشمنی میں میدان میں آگیا ہے۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو انتہاپسند سوچ کے حامل وکلا نے ریاست کے وزیر داخلہ اور شہر کے ڈیویژنل کمشنر کو ایک یادداشت بھیجی ہے۔

یاداشت میں کہا گیا ہے کہ مساجد سے دی جانے والی اذان کی آواز کو دور تک پہنچانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صوتی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اس لئے اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

مزید پڑھیے: ہندو انتہا پسندوں کی سکھ مسلم فساد کی سازش

ہندو انتہا پسند وکلا کی اس یاداشت میں مسلم علما اور وکلا برادری بھی میدان میں آگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سبھی مذاہب کی عبادت گاہوں میں ہوتا ہے۔

مسلمانوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ صوتی آلودگی صرف مذہبی عبادت گاہوں میں استعمال ہونے والے لاؤڈ سپیکر سے نہیں بلکہ سیاسی ،سماجی تقریب،شادیوں میں بجنے والے بینڈ باجے اور گاڑیوں سے بھی صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔

دوسری جانب مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ انہیں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق ایک یاداشت موصول ہوئی ہے، جسے جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ محکمہ میں بھیج دیا گیا ہے، اس حوالے سے رپورٹ آنے کے بعد کوئی بات کی جا سکتی ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More