افغان طالبان کو امور حکومت چلانے کیلیے ماہر افراد کی کمی کا سامنا

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

طالبان کو افغانستان کا انتظام و انصرام سنبھالے 4 ماہ سے زائد ہوگئے ہیں لیکن اب ابھی انہیں مختلف حکومتی امور کو چلانے کے لیے ماہر افراد قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

امریکی رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کا مختلف سرکاری و انتظامی عہدوں کو لوگوں کی تعیناتی کا اپنا طریقہ ہے، جس میں کسی شخص کی کسی شعبے میں مہارت کے بجائے امریکا سے جنگ میں اس کے کردار کو دیکھا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ان افراد کے پاس محکموں کا انتظام چلانے کے لیے درکار مہارت اور تجربہ نہیں۔

افغان طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس کی تردید کی ہے کہ ان کے پاس پیشہ وارانہ مہارت کے حامل عملے کی کمی ہے۔

افغان طالبان کی کونسل برائے تعلیم و تربیت کے سینیئر رکن وحید الدین ہاشمی نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے دوران انہوں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کو اس ملک سے نکال دیا تاکہ طالبان کی حکومت کو کمزور رکھا جاسکے۔

وحید الدین ہاشمی نے کہا کہ ہم دنیا کے مختلف حصوں میں موجود بڑی تعداد میں افغان شہریوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں اپنے ملک میں واپس آنے کی ترغیب دے رہے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی مدد اور مہارت کی اشد ضرورت ہے۔

افغان امور پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکام کو امور ریاست چلانے کے لیے پیشہ ور افراد پر اعتماد کرنا چاہیے اور انھیں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات کرنا چاہیے، اس کے علاوہ انہیں اہم معاملات سے متعلق فیصلہ سازی میں بھی شامل کرنا چاہیے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More