’افغان قوم کو بحران سے نکالنے کیلئے امارات اسلامیہ افغانستان کو تسلیم کیا جائے‘

بول نیوز  |  Jan 17, 2022

امارات اسلامیہ افغانستان کو درپیش مسائل پر منعقدہ کل جماعتی قومی کانفرنس کا  اعلامیہ  جاری کردیا گیا۔

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ کل جماعتی قومی کانفرنس کی صدارت جمعیت کے مرکزی امیر مولانا حامدالحق حقانی نے کی جس میں علماء کرام ، مشائخ عظام ،زعمائے ملت، قومی قائدین اور دینی ، سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے شرکت کی اور امارت اسلامیہ اورافغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے عنوان پر تبادلہ خیال اور اپنی تجاویز پیش کیں۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک نے دوحہ معاہدہ سے انحراف کی راہ اختیار کرتے ہوئے افغان حکومت کوناکام بنانے کے لئے اقدامات شروع کررکھے ہیں جن کا عالمی قوانین اور اقدار کے اعتبار سے کوئی جواز نہیں۔ 14 اگست 2021  سے آج پانچ ماہ گزرنے کے باوجود امارت اسلامیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے اوراس حکومت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جارہا ہے اور اس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں بلکہ خود افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو منجمد کرکے افغان قوم کی زندگی اجیرن کرنے کا طرز عمل اختیا رکیا گیا ہے۔

شرکائے کانفرنس نے مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت، عالمی برادری مسلم ممالک اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان قوم کو مالی اور سیاسی بحران سے نکالنے کیلئے امارات اسلامیہ افغانستان کو فوری طورپر تسلیم کیا جائے۔

شرکاء نے کہا کہ سفارتی تعلقات بحال کرکے پوری دنیا میں تمام ممالک سے سفارتی سرگرمیاں جاری کرنے کے مواقع فوری طورپر کھولے جائیں۔ امارت اسلامیہ کی اقوام متحدہ میں رکنیت بحال کی جائے ۔ افغانستان کے منجمد اثاثے واگذار کئے جائیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ افغان حکومت کو تعلقات قائم کرنے کا راستہ ہموار کیا جائے۔

شرکاء کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ افغان عوام کا معاشی مقاطعہ کرنے کے بجائے ان کے فنڈز اور امداد بحال کی جائے ۔ افغان قوم کو اپنے ملک میں اپنی مرضی کا آزاد ریاستی نظام قائم کرنے اور خطے میں امن بحال کرنے کے لئے دوحہ معاہدے کی پاسداری کی جائے ۔ افغانستان میں نظام اورمعاشرت کے سلسلہ میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت ختم کی جائے۔

کانفرنس میں تمام شریک جماعتوں کے نمائندوں پرمشتمل 20 رکنی کمیٹی قائم کی گئی جو مذکورہ بالا مطالبات کے سلسلہ میں مسلم سفراء اور مسلم ریاستوں کے معزز سربراہان کوملاقات اور خط و کتابت کے ذریعہ اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی طرف توجہ دلائے گی۔

کانفرنس میں طے کیا گیا کہ افغان قوم اورافغان عبوری حکومت کے حق میں آواز بلند کرنے اور رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے تمام ذرائع اختیار کئے جائیں گے۔ کانفرنس کے زعما نے پاکستان اور عالم اسلام کے باضمیر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کی بھرپور مالی امداد کے لئے تمام اقدامات اختیار کریں اس سلسلہ میں کانفرنس کی قائم کردہ کمیٹی ان کی رہنمائی کرے گی۔

شرکاء نے کہا کہ اس طرح امارت اسلامیہ مضبوط ہوگی تو افغان قوم کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے مسائل اوردنیابھر کی مظلوم اقوام کی اپنے مسائل کے سلسلہ میں جاری جدوجہد کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان کے بعد کشمیر اور فلسطین بھی بیرونی جارحیت سے آزاد ہوں گے اوردنیا بھر میں امن کی فضا قائم ہوگی۔

آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء میں امیر جمعیت علما اسلام و چیئرمین دفاع پاکستان کونسل مولانا حامد الحق حقانی ، اسپیکر قومی اسمبلی محمد اسد قیصر، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے پروفیسر ساجد میر، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، پاکستان مسلم لیگ (ض) محمد اعجاز الحق، تحریک نوجوانان کے محمد عبداللہ گل شامل تھے۔

اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر طلحہ محمود، مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان ، معروف صحافی حامد میر،سلیم صافی، پاکستان علماء کونسل کے حافظ طاہر محمود اشرفی، انصار الامہ کے مولانا فضل الرحمن خلیل، انٹرنیشنل ختم نبوت کے مولانا محمد الیاس چنیوٹی، ملی مسلم لیگ کے مولانا محمد امیر حمزہ،افغان مہاجرین کے مولانامحمد سعید ہاشمی، سلیمان خیل قوم کی نمائندگی مولانا اسعد اللہ حقانی،  اہل سنت والجماعت کے مولانا عطاء محمد دیشانی، جمعیت علماء پاکستان کے قاری زوار بہادر نے بھی شرکت کی۔

جمعیت علماء اسلام (ق) کے مولانا احمد علی ثانی، مولانا سید چراغ الدین شاہ، شریعت کونسل  کے عبدالرؤف محمدی، وفاق المدارس کے عبدالقدوس محمدی ،عبدالشکور نقشبندی، اشاعت التوحید کے مولانا اشرف علی ، مجلس احرار کے عبداللطیف چیمہ، انجمن تاجران کے اجمل بلوچ ، تحریک غلبہ اسلام کے مولانا قاری منصور احمد، پاکستان تحریک مجاہدین کے مولانا محمد امین ربانی بھی پروگرام میں شریک ہوئے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا سید محمد یوسف شاہ، مولانا عبدالخالق، مولانا عبدالواحد،مولانا عبدالقدوس نقشبندی، مولانا محمد ایوب خان ،مولانا محمد اسد درخواستی، مولانا قاری حسنات،مولانا عبدالحئی، مولانا راشد الحق سمیع، عبدالقیوم میرزئی، مفتی عبدالواحد بازئی، سردار نسیم، شفیق دولت زئی ،مولانا عرفان الحق ،مولانا اسامہ سمیع، مولانا خزیمہ سمیع ،صاحبزادہ عبدالحق ثانی وغیرہ  نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More