قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان پر حملوں کا آغاز کردیا

سماء نیوز  |  May 07, 2022

قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) نے پنج شیر میں طالبان کیخلاف مزاحمتی حملوں کا اعلان کردیا۔ سابق کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے مسلح بغاوت میں حملوں کی قیادت کررہے ہیں، احمد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان سے لڑائی کے دوران تین شمالی اضلاع کا قبضہ واپس لے لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) نے کہا ہے کہ وادیِ پنج شیر میں کارروائی طالبان فورسز کے خلاف پہلی مسلح جارحیت ہے۔

قومی مزاحمتی فورسز نے گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کیخلاف آخری بار مزاحمت کی تھی مگر وہ امریکا کے حمایت یافتہ سرکاری فوجیوں کے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے چند ہفتے کے بعد ستمبر میں وادیِ پنج شیر میں پسپا ہوگئی تھیں اور طالبان نے ان کی جگہ پہلی بار وادی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

این آر ایف کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی نزاری نے اے ایف پی کو بتایا کہ کل رات (جمعہ کو) احمد مسعود نے اپنی فورسز کو جارحانہ مزاحمت شروع کرنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد سے پنج شیر میں 3 بڑے اضلاع کو آزاد کرالیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این آر ایف نے ان اضلاع کی مرکزی شاہراہوں، چوکیوں اور دیہات کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ضلعی صدر دفاتر میں طالبان جنگجوؤں کا محاصرہ کرلیا ہے۔

علی نزاری نے دعویٰ کیا کہ ’’بہت سے طالبان جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالنے کیلئے وقت مانگا ہے اور دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ این آر ایف کی مسلح جارحانہ کارروائی افغانستان کے ان 12 شمالی صوبوں میں جاری رہے گی جہاں اس کی فورسز موجود ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکومت نے قومی مزاحمتی محاذ کے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنج شیر یا ملک کے کسی اور حصے میں کوئی ’’فوجی واقعات‘‘ نہیں ہوئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ذرائع ابلاغ میں کچھ باغیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ہیں جبکہ وادیِ پنج شیر کے مکینوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ رات کے وقت شدید لڑائی ہوئی ہے۔

ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ لوگ لڑائی کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ایک اور افغان نے بتایا کہ این آر ایف کے جنگجوؤں نے طالبان کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی ہے۔

طالبان کے ایک مقامی کمانڈر داد محمد بطار نے تصدیق کی ہے کہ ان کی این آر ایف جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی ہورہی ہے لیکن ہمیں گھیرا گیا ہے اور نہ ہی گھات لگا کر ہم پر کوئی حملہ کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More