جعلی ویڈیوز کا ہنگامہ لیکن دراصل ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے؟

بول نیوز  |  May 08, 2022

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی کچھ غیر مناسب ویڈیوز کا اس وقت سوشل میڈیا پر چرچا ہے۔

یہ ویڈیوز تاحال کسی نے دیکھی نہیں اور کوئی حتمی طور پر یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ حقیقت میں ایسی کوئی ویڈیوز موجود بھی ہیں یا نہیں ۔

تاہم فواد چوہدری کے ایک بیان کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان کے حامی سوشل میڈیا پر ایک مہم چلا رہے ہیں جس میں وہ ان مبینہ ویڈیوز کو، جو ابھی منظرعام پر بھی نہیں آئیں، جعلی قرار دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی کردار کشی کی ایک نئی مہم تیار کی جا رہی ہے جس میں مبینہ طور پر جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کا استعمال کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز جعلی ہیں اور’ڈیپ فیک ٹیکنالوجی‘ کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔

آخر یہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے؟

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ٹیک ٹارگٹ ڈاٹ کام‘ کے مطابق لفظ ’ڈیپ فیک‘دو الفاظ ’ڈیپ لرننگ‘ اور ’فیک‘ کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے۔

یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے جعلی تصاویر، آڈیوز اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔

 ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے کئی مثبت استعمالات بھی ہیں، مثلاً خبریں پڑھنے میں اور اپنے ملازمین کو مختلف زبانوں کی تربیت دلوانے سمیت کئی معاملات میں کمپنیاں اور نشریاتی ادارے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں۔

خیال رہے کیونکہ  ہر ٹیکنالوجی کی طرف اس کے منفی استعمالات بھی ہیں۔

 اس کے ذریعے مشہور شخصیات کو فحش فلموں کے اداکار بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے یا پھر سیاست دانوں کی ویڈیوز بنا کر اشتعال انگیز اور گمراہ کن بیانات پھیلا دیئے جاتے ہیں ۔

ایسی جعلی ویڈیوز، آڈیوز یا تصاویر بنانے کے لیے مخصوص سافٹ ویئرز استعمال ہوتے ہیں جوڈیپ لرننگ اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ  ڈیپ فیک ویڈیو بنانے کے لیے اس سافٹ ویئر کو ٹارگٹ کے متعلق بہت سے معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں،۔

مثلاً وہ دیکھنے میں کیسا ہے، بولتا کیسے ہے، بولتے وقت اس کی حرکات و سکنات کیسی ہوتی ہیں، وہ کس طرح کی صورتحال میں کیا ردعمل دیتا ہے، وغیرہ۔

ٹارگٹ کے متعلق تمام معلومات مہیا کرنے کے بعد یہ سافٹ ویئر آپ کی مرضی کی ویڈیو، آڈیو یا تصویر بنانے کا کام شروع کر دیتا ہے اور نتیجے کے طور پر جو مواد بنتا ہے وہ حقیقت کے قریب تر ہوتا ہے جس کے جعلی ہونے کا فوری طور پر پتا چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ماہرین کا اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے کہنا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ڈیپ فیک اور حقیقی ویڈیوز میں فرق کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ یہ ان میں موجود معمولی فرق بھی ختم ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں6 hours agoفیس بک کی سرچ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کا طریقہ

 گوگل کی طرف فیس بک بھی اپنے صارفین کی سرچ ہسٹری کو...

2 days agoٹوئٹر ایلون مسک کے حوالے نہ کیا جائے ، عدالت میں درخواست دائر

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور اب ٹوئٹرکے مالک ایلون مسک کا شمار ان...

2 days agoواٹس ایپ سےاب 2GB تک فائل بھیجنا ممکن؛ آسان طریقہ جانیں

واٹس ایپ کا شمار دنیا کی سب سے بڑی میسیجنگ ایپلی کیشنزمیں...

2 days agoارجنٹینا کے مرکزی بینک نے بٹ کوائن پر پابندی عائد کردی

ارجنٹینا کے مرکزی بینک نے تمام مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی اور...

2 days agoانتظار کی گھڑیاں ختم؛ واٹس ایپ نے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کردی

واٹس ایپ پیغام رسانی کے لئے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال...

3 days agoایلون مسک ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد چیف ایگزیکٹیو کی کرسی سنبھالیں گے: رپورٹ

ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک ٹوئٹر کو...

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ

General Rectangle – 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More