امریکا نے صحافی شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

سماء نیوز  |  May 12, 2022

فلسطین میں اسرائیل کی مبینہ فائرنگ سے قتل ہونے والی صحافی شیرین ابو عاقلہ پر امریکا نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ فلسطینی نژاد امریکی صحافیہ شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے ان کی موت کے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کارتورونس لینڈ کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔

رونس لینڈ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ان کے قتل کی فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور اسرائیلی حکام کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ میڈیا کارکنوں کو اس طرح کے حملوں میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے بھی صحافی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ امریکا سفیر کا کہنا تھا کہ قتل کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

واضح رہے کہ الجزیرہ کی رپورٹر شیرین ابو عاقلہ بدھ کی صبح اسرائیلی فوج کی مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے پناہ گزین کیمپ میں کارروائی اور جھڑپ کی کوریج کر رہی تھیں کہ اسی دوران اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئیں۔ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں جھڑپ میں ایک اور صحافی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کے مطابق ابو عاقلہ کی موت کی شفاف تحقیقات کی جانی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں فریقوں کو ان تحقیقات میں حصہ لینے کی دعوت دے رہے ہیں تاکہ ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکیں کہ یہ واقعہ کیونکر رونما ہوا ہے۔ لنڈا کا مزید کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کا تحفظ اور صحافیوں کا تحفظ امریکا کی اولین ترجیح ہے۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری صحافی شیرین ابو عاقلہ کے قتل سے تمام امریکی افسردہ اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ واقعہ کی فوری اور مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔ ان کی موت ہر جگہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کی تذلیل ہے۔

یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس نے بیان میں کہا کہ یہ ضروری ہے کہ تمام حالات کو جلد از جلد واضح کیا جائے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے وقت نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ تنازعات کے حالات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو ہر وقت تحفظ مہیا کیا جانا چاہیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More