ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا، سپریم کورٹ

بول نیوز  |  May 16, 2022

آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت میں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ضمیر کےمطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا۔ 

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بدیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت سے کہا کہ اٹارنی جنرل کو لاہورمیں تاخیرہوگئی ہے۔ اٹارنی جنرل اشتراوصاف لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں، عامر رحمان نے جواب دیا کہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آرہے ہیں، 3 بجے تک پہنچ جائیں گے۔

اسسٹنٹ اے جی نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب کے معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے۔

تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں، یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے۔ اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا۔  ‏ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے۔ یہ دونوں وکلا صاحبان ایک فریق کے وکیل ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ایک سرکارکے وکیل ہیں دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں۔ اب لگتا ہے اپ اس معاملہ میں تاخیرکرنا چاہتے ہیں۔

معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان سترہ مئی کو واپس آجائیں گے۔ مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں۔ اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے بینچ دستیاب نہ ہو۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لارجر بنچ پورا ہفتہ دستیاب ہے۔ معذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے۔ مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں۔ تحریری طورپربھی دلائل دے سکتے ہیں۔

معاون وکیل نے جواب دیا کہ مخدوم علی خان سے رابطہ کرکے آگاہ کروں گا۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ مخدوم علی خان کو پیغام دے دیں۔ لارجر بینچ کا ہر رکن ان کا بڑا احترام کرتا ہے۔ یہ کیس آئینی تشریح کا بڑا اہم مقدمہ ہے۔ ایڈوکیٹ جنرلز اور بی این پی کے وکیل کو سن لیتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا بھی انتظار کریں گے۔

وکیل بی این پی مصطفٰی رمدے نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے میں تمام طریقہ کار موجود ہے۔ اگرآرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار موجود نا ہوتا توعدالت آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ کی طرف دیکھ سکتی تھی۔

مصطفٰی رمدے نے دلائل دیے کہ یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو۔ اس بات کو مدنظررکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے۔ انحراف خالصتاً سیاسی اختلافات پربھی ہوسکتا ہے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے۔

وکیل بی این پی نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کارسے ہٹ کرمزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے۔ ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کرچکا ہے۔

مصطفٰی رمدے نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف جبکہ آدھے ارکان نے دوسری طرف ووٹ دیا۔ اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔

عدالت نے کہا کہ رات تاخیرتک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں۔ یہ خدمت کا کام ہے ہم کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے۔ عدالت تو چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اٹارنی جنرل کو تین بجے سن لیں گے۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آئین جمہوریت کو فروغ دیتا ہے۔ آئین سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثرانحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ ارٹیکل تریسٹھ اے کسی سیاسی جماعت کے سسٹم کو بچاتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک سیاسی جماعت ہے ان کے ارکان نے پالیسی سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ ارٹیکل تریسٹھ اے ایک سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ بھی کرتا ہے۔  آرٹیکل تریسٹھ اے رکن کو چارچیزوں پر پالیسی کا پابند کرتا ہے۔

وکیل بی این پی نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے پالیسی کا پابند کرتا ہے۔ ارٹیکل تریسٹھ اے انحراف سے منع کرتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرے ایسی صورت میں اس رکن کی سزا تو نہ ہوئی۔

مصطفٰی رمدے نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔  عدالت پارٹی سربراہوں کے کنڈیکٹ کو بھی سامنے رکھے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہوسکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کرلے۔

وکیل بی این پی نے کہا کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی جہموریت نہیں ہے۔ سیاسی پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ جہموریت کا فروغ کیسے ہوگا ہررکن اپنی مرضی کرے گا۔ کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے۔

رکن لارجربنچ نے کہا کیا دس پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟ کیا چند افراد سسٹم کو ڈی ریل کرسکتے ہیں؟

وکیل مصطفٰی رمدے نے کہا کہ عدالت کی ابزرویشن بڑی اہم ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ انفرادی شیخصیت کون ہے۔ ارٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے وہ مرضی سے ووٹ دیں۔  کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا۔

بی این پی کے وکیل نے کہا کہ کیا ارٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جہموریت کو فروغ ملے گا۔ کیا سزا بڑھانے سے پارٹی سربراہ کی آمریت میں اضافہ ہو گا، عدالت یہ باتیں بھی دیکھے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ انحراف سے بہتر ہے استعفیٰ دے دیں۔ استعفیٰ دینے سے سسٹم بھی بچ جائے گا۔ استعفیٰ دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائے گا۔ آئین کی تشریح کریں، تشریح کیلئے معاملے کے تمام پہلو کا جائزہ لیں گے۔

رکن لارجربنچ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ضمیرکےمطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے آئین ضمیر کے مطابق ووٹ دینے والے کے اقدام کو بھی قبول نہیں کرتا۔

وکیل بی این پی نے کہا کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد ہوئی۔ پارٹی سربراہ نے کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا۔ آزاد کشمیر میں وزیراعظم تبدیل ہوا پارٹی سربراہ نے کسی کے خلاف ایکشن نہیں لیا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئین انحراف کی اجازت دیتا ہے؟ کیا جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ انحراف کس قسم کا ہے، ووٹ شمار ہوگا یا نہیں ہوگا۔

وکیل مصطفٰی رمدے نے کہا کہ ووٹ شمارنہ کرنے کی دلیل پر سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے زور نہیں دیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہیں۔ ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے۔ تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے۔ عدالت کا کام آئین کا تحفظ اورتشریح کرنا ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے۔

وکیل بی این پی نے دلائل میں کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو کالعدم کردیتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا اس اقدام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے؟

مصطفٰی رمدے نے کہا کہ میں یہ بلکل نہیں کہہ رہا میں حقیقت بتا رہا ہوں۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ڈی سیٹ کرتا ہے کہیں اختلاف پر ووٹ دینے سے نہیں روکتا۔

جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آرٹیکل تریسٹھ اے کی زبان بڑی واضح ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح میں واقعات کو بھی دیکھنا ہوگا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ دنیا کے دو سو ممالک میں سے 32 ملکوں میں انسداد انحراف قانون ہے۔ ان 32 ممالک میں صرف 6 ملکوں میں اس قانون پرعمل ہوتا ہے۔ ان 6 ممالک میں انحراف پرارکان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے۔ اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین انحراف کی اجازت کیوں دیتا ہے۔

وکیل مصطفٰی رمدے نے کہا کہ یہ ریفرنس سیاسی مفاد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے سے آرٹیکل 95 کو غیرمؤثر نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ کیا آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کو اپنے وزیراعظم کیخلاف ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے؟

وکیل بی این پی نے جواب دیا کہ آرٹیکل 95 ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس دلیل سے آپ نے سیاسی پارٹی کو ختم کردیا۔ اس طرح سے سیاسی پارٹی tea پارٹی بن جائے گی۔ ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا سربراہ پارٹی کے ساتھ ہوئےغلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردیں تو یہ آئین کے خلاف ہوگا؟ کیا پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں۔

وکیل تحریک انصاف بابراعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے۔

وکیل مصطفٰی رمدے نے کہا کہ اگراختلاف پر ارکان استعفی دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہوگا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا۔

مصطفٰی رمدے نے کہا کہ ارٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے۔

عامررحمان نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل ساڑھے تین چاربجے تک پہنچ جائیں گے جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تو پھر چار بجے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے کہا سماعت کل تک ملتوی کردیں۔

چیف جسٹسن عمرعطا بندیال نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل پیش ہوں گے۔ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل دے دیں۔ کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے وکیل پی ٹی آئی بابراعوان کو جواب الجواب دینے سے منع کردیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بابراعوان صاحب آپ جوش خطابت میں عدالت کو اپنا جلسہ سمجھ لیتے ہیں۔ جواب الجواب نہیں تحریری گزارشات دے دیں۔

وکیل بابراعوان نے کہا کہ جوش خطابت میں آج یہاں آزاد کشمیر قیادت کا بھی ذکر ہوا۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے شمائل بٹ نے دلائل میں کہا کہ آئین میں آزادانہ ووٹ کا اختیارعام شہری کو دیا گیا ہے۔ ارکان اسمبلی کو نہیں۔ آرٹیکل اکاون آزادانہ ووٹ کی بات کرتا ہے جوعام شہری سے متعلق ہے۔

شمائل بٹ نےدلائل میں کہا کہ منتخب ارکان کے لیے ضروری ہے ڈسپلن کیلئے پارٹی پالیسی پرعمل کریں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگرعدم اعتماد کی تحریک سے قبل اراکین مستعفی ہو جائیں تو کیا حکومت کا تختہ الٹے گا نہیں۔

عدالت نے کل تک کیس پر سماعت مکمل ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل اشتراوصاف کل دلائل دیں گے۔

مزید پڑھیں34 seconds agoملک بھر میں گرمی کی لہر برقرار رہنے کی پیشگوئی

ملک اس وقت شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے جو اس...

1 min agoشیخ خلیفہ کے انتقال سے پاکستان ایک مخلص دوست سے محروم ہو گیا ہے، عاصم افتخار

عاصم افتخار نے کہا ہے کہ شیخ خلیفہ کے انتقال سے پاکستان...

12 mins agoارسا نے خود کہا پانی غائب ہو رہا ہے، جام خان شورو

جام خان شورو نے کہا ہے کہ ارسا نے خود کہا پانی...

22 mins agoسندھ پولیس کو سیاسی طور پر استعمال کیا جارہا ہے، خرم شیر زمان

خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ سندھ پولیس کو سیاسی طور...

32 mins agoافسوس کی بات ہے عمران خان کے ایک سپاہی سے یہ لوگ اتنا خوفزدہ ہیں، حلیم عادل شیخ

حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے...

33 mins agoہر حکومت نے عدلیہ کو استعمال کرنے کی کوشش کی ، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ہر حکومت نے...

تازہ ترین نیوز پڑہنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں بول نیوزایپ

General Rectangle – 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More