برصغیر کی تقسیم کے تناظر میں لکھے جانیوالے ناول کی مصنفہ نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

ہم نیوز  |  May 28, 2022

لندن: برصغیر کی تقسیم کے تناظر میں لکھے جانے والے ناول کی مصنفہ گیتا نجلی نے عالمی ایوارڈ انٹرنیشنل بکر پرائز جیت لیا ہے۔

ہم نیوز نے بھارت کے مؤقر انگریزی اخبارات ڈیلی اسٹار اور دی ہندو کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہندی زبان میں لکھا جانے والا پہلا ناول ہے جسے عالمی ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

دلچسپ امر ہے کہ گیتا نجلی کے ہندی ناول ریت سمادھی کا انگریزی میں ترجمہ ڈیزی راکول نے (Tomb of Sand) کے نام سے کیا ہے۔ ڈیزی راکول امریکی مصنفہ، مصورہ اور مترجم ہیں۔

برصغیر کی تقسیم کے تناظر میں ناول لکھنے والی گیتا نے ایوارڈ جیتنے کے بعد کہا کہ وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں کہ انہیں اس اعزاز کا حقدار سمجھا جائے گا اور نہ ہی انہوں نے کبھی بھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحات ان کے لئے ناقابل بیان ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریت سمادھی تقسیم کے وقت کی ایسی کہانی ہے جس کے دو اہم کردار ہیں جو آپس میں ماں بیٹی ہیں۔ ناول میں والدہ 80 سالہ ضعیف خاتون ہیں۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل بکر پرائز ہر سال برطانیہ اور آئرلینڈ میں انگریزی زبان کی بہترین کتب میں سے انتخاب کرنے کے بعد دیا جاتا ہے۔

عالمی ایوارڈیافتہ مصنفہ گیتا نجلی کی پانچویں کتاب ہے جس نے یہ ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ ان کی مختلف کتب کے اردو، فرانسیسی، جرمن، پولش، جاپانی اور سربین زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔

گیتا نجلی نے ممتاز افسانہ نگار پریم چند کی دانشورانہ اور تخلیقی جہتوں کا احاطہ کرتی سوانع عمری Between two Worlds انگریزی زبان میں لکھی ہے۔

ناول کو انگریزی قالب میں ڈھالنے والی مصنفہ ڈیزی راکول نے اس سے قبل راولپنڈی میں پیدا ہونے والے معروف بھارتی مصنف و اداکار بھوشن ساھنی کے عالمی شہرت یافتہ ناول تماس کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ عالمی ایوارڈ جیتنے والے تخلیق کار کو 50 ہزار برطانوی پاؤنڈز کی خطیر رقم بطور انعام دی جاتی ہے۔ اس مرتبہ یہ رقم مصنفہ اور مترجم میں مساوی طور پر تقسیم کردی جائے گی۔

کمیلا شمسی کے ناول ’ہوم فائر‘ نے لندن ہیلینک پرائز جیت لیا

مقابلے کی جیوری کے سربراہ فرینک واینر نے ناول کے متعلق اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ناول تقسیم کے موضوع پر میرے مطالعے میں آنے والے تمام دیگر ناولوں سے قطعی طور پر مختلف اور منفرد ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More