BA.5: اومیکرون وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل سکتی ہے

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 13, 2022

عالمی سطح پر کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ BA.5 سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے اس نئی قسم کو ''قابل تشویش وائرس‘‘ کی درجہ بندی میں رکھا ہے۔ جرمنی میں صحت کے اعلیٰ ادارے کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں موسم گرما میں اس انفیکشن کے بڑھنے کا امکان ہے۔

جرمنی کی نیشنل پبلک ہیلتھ آرگنائزیشن 'روبرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ‘ (آر کے آئی) نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اومیکرون کے سب ویریئنٹس BA.4 اور BA.5 باقی تمام اقسام سے زیادہ تیزی سے پھیل رہے ہیں اور جلد ہی کورونا کہ زیادہ تر مریضوں کی تعداد انہی نئے ویریئنٹس کا شکار ہو سکتی ہے۔

BA.5 ویریئنٹ پہلے سے ہی موجودہ انفیکشنز کا 10فیصد بنتا ہے اور یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں دگنا ہو چکی ہے۔  

BA.5 کا آغاز جنوبی افریقہ سے

BA.5 ویریئنٹ نے مئی کے اوائل میں ہی جنوبی افریقہ میں خدشات پیدا کر دیے تھے لیکن اس کے بعد آنے والی لہر نسبتاً چھوٹی تھی اور فی الحال کم ہو رہی ہے۔

تاہم یورپی ملک پرتگال میں BA.5 پہلے سے ہی تمام نئے انفیکشنز کے 80 فیصد کے لیے ذمہ دار ہے۔ ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کی دوسری اقسام کی نسبت یہ قسم زیادہ متعدی ہے۔ تاہم یہ قسم کورونا وائرس کی ڈیلٹا جیسی دیگر اقسام کی نسبت کم جان لیوا یا نقصان دہ ہے۔

کیا ویکیسن اس کے خلاف کارآمد ہے؟

کووڈ ویکسینز یا ماضی کے انفیکشن کے ذریعے فراہم کردہ تحفظ آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جسم میں موجود اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی آتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی BA.5 سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ یعنی ویکیسن یا بوسٹر کے باوجود نئے مریضوں کے تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔

لیکن ابھی تک اس وائرس سے متاثرہ افراد کی اموات کی شرح کم ہے اور اس سے متاثرہ افراد کی ہسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح بھی کم رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لاکھوں افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے یا ان میں اینٹی باڈیز موجود ہیں، جس سے آبادی کی عمومی قوت مدافعت اس وبائی مرض کے آغاز کے مقابلے میں اب زیادہ ہے۔

اس کے باوجود جرمن ادارے نے عمررسیدہ اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مزید ایک بوسٹر لگوائیں تاکہ وہ اس وائرس سے محفوظ رہیں۔

گودرون ہائیسے ( ا ا / ع ا)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More