سی پیک: پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کا پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر کیا اثر پڑا؟

بی بی سی اردو  |  Jun 24, 2022

Getty Images

پاکستان کے مختلف علاقوں میں چینی شہریوں اور بلوچستان کے جنوبِ مغرب میں بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے بعد سی پیک پر کام کی رفتار پہلے سے قدرے کم بتائی جا رہی ہے۔

اس کے بارے میں سی پیک سے جڑے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد چینی افراد، خاص طور سے وہ جن کا تعلق سی پیک منصوبوں سے ہے، انھیں ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے جبکہ جن منصوبوں پر تاحال کام جاری ہے ان پر افرادی قوت کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چینی حکام کی جانب سے اس فیصلے کے بارے میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور سپیشل انیشیئٹو احسن اقبال نے اس اطلاع کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں تو ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی بلکہ یہ ضرور ہے کہ چینی اب نئے منصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’انٹیلیجنس اداروں کو سابق حکومت کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں ایسے عناصر (شدت پسندوں) نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چین کی جانب سے اپنی حفاظت خود کرنے کے بارے میں کوئی مراسلہ یا بات موصول نہیں ہوئی۔‘

احسن اقبال نے کہا کہ ’چین نے پاکستان سے اپنے شہریوں کو کم نہیں کیا بلکہ وہ تو مزید نئے منصوبوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب سی پیک کے منصوبوں سے جڑے ایک ترجمان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سی پیک کے جاری منصوبوں پر حالیہ حملوں کا تین طریقے سے اثر پڑا ہے۔

’پہلا یہ کہ لوگوں میں ڈر بیٹھ گیا ہے جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ دوسرا یہ کہ موجودہ منصوبوں کے دوسرے فیز کے لیے اب لوگ درکار ہیں اور ان میں یہاں آنے کے بارے میں خوف ہے۔‘

’تیسرا یہ کہ لوگوں کی آمدورفت کو محدود کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کام کرنے کے گھنٹے پورے نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے منصوبوں کو پورا کرنے میں پہلے سے زیادہ وقت لگتا ہے۔‘

Getty Images

سی پیک کے تحت کتنے منصوبے جاری، کتنے مکمل ہو چکے ہیں؟

حکومت کی سی پیک سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق اس وقت سی پیک کے تحت منصوبوں کی تعداد 21 ہے، جن میں سے 10 پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ چھ منصوبے زیرِ تعمیر ہیں اور باقی رہ جانے والے زیرِ غور ہیں۔

ان تمام جاری یا زیرِ غور منصوبوں میں بجلی (ہائیڈرو پاور، سولر، تھر کول (یعنی کوئلہ) اور وِنڈ پاور) منصوبوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ان منصوبوں میں 70 فیصد سرمایہ بجلی میں لگایا گیا ہے اور رہ جانے والے اور زیرِ غور منصوبوں میں بھی بجلی کے منصوبے زیادہ ہیں۔

سی پیک منصوبوں کی کُل تعداد کے حوالے سے حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان منصوبوں پر لگنے والی رقم 49 ارب ڈالر ہے۔

اس سے پہلے متعدد بار یہ رقم 62 ارب بتائی گئی تھی لیکن چند منصوبوں کے کم ہونے کی وجہ سے حکومت نے وضاحت کی کہ یہ رقم 49 ارب ڈالر ہے۔

Getty Images’پچھلے تین سال میں کسی نئے منصوبے پر کام شروع نہیں ہوا‘

حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کا بجٹ متعارف کراتے ہوئے تقریباً 14 نکات پر خاص زور دیا گیا تھا۔

ان میں سے ایک سی پیک کے تحت نئے منصوبے شروع کرنے کے بارے میں تھا، جس کے بارے میں حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان منصوبوں کے لیے مزید فنڈز جاری کیے جائیں گے اور ان پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔

لیکن سی پیک کے منصوبوں پر کام کرنے والے وفاقی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ چینی حکام نے خاصے واضح الفاظ میں حکومت کو کہا ہے کہ وہ ’پہلے سے جاری منصوبوں کو نمٹانے کے بعد ہی کسی نئے منصوبے پر بات کریں گے۔‘

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پچھلے تین سال میں کسی نئے منصوبے پر کام شروع نہیں کیا گیا اور اس بات کا تعین کہ حکومت کسی نئے منصوبے کے لیے فنڈز جاری کرے گی یا نہیں وہ جوائنٹ کوارڈینیشن کمیٹی یعنی جے سی سی کی ایپکس میٹنگ کے ذریعے ہی طے ہو گا۔‘

Getty Imagesکیا منصوبوں میں سست رفتاری اور چینی حکام کے محتاط رویے کی وجہ حالیہ حملے ہیں؟

ترجمان نے بتایا ہے کہ اس محتاط رویے کی ایک واضح کڑی حالیہ مہینوں میں چینی افراد پر ہونے والے حملوں سے جڑتی ہے۔

رواں سال جنوری سے بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے جاری حملوں میں سے ایک حملہ کراچی یونیورسٹی میں چینی انسٹیٹیوٹ پر اپریل میں ہوا تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ایک اثر اس بات پر پڑا کہ منصوبوں پر کام کرنے والے چینی مزدوروں یا انجینئیرز کو فوری طور پر پاکستان سے واپس چین بھیجا گیا اور ’افسران کو اسلام آباد تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی۔‘

ترجمان نے بتایا کہ ’چینی افراد اپنی حفاظت کے بارے میں خاصے پریشان ہیں اور ہر حملے کے بعد چینی حکام ایک نئی ریڈ لائن بڑھا دیتے ہیں۔‘

’اس بار انھوں نے اپنی حفاظت کا خود انتظام کرنے کی بات بھی کی لیکن اب تک پاکستان کی حکومت نے ان کا یہ مطالبہ منظور نہیں کیا۔‘

سی پیک سے ہی جڑے ایک اور افسر نے بتایا کہ ’چینی حکام اور پاکستان کے درمیان حفاظتی امور کو لے کر خاصی بات چیت ہوئی ہے لیکن ہم ان سے امید نہیں کر سکتے کہ وہ اپنے لوگوں کو یہاں مرنے کے لیے چھوڑ دیں۔‘

’اس لیے یہ بات صحیح ہے کہ ایک بڑی تعداد یہاں سے گئی ہے اور وجہ یہی ہے کہ گراؤنڈ پر کم سے کم چینی افراد نظر آئیں، جس کے نتیجے میں منصوبوں کی جو رفتار ہونی چاہیے تھی وہ نہیں۔‘

اسی سلسلے میں گوادر اور لسبیلہ سے رکنِ قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے بعد جاری منصوبوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

’اب تک وزیرِ اعظم شہباز شریف دو بار گوادر کا دورہ کر چکے ہیں اور سی پیک کے منصوبوں سے متعلق کئی بار بات کی گئی ہے۔ باور کرایا گیا ہے کہ اس بار یہ منصوبے بر وقت پورے کیے جائیں گے۔ یہ بات وہ کسی وجہ سے کررہے ہیں۔ انھیں چین کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہو گی۔۔‘

پاکستان کی موجودہ حکومت جس میں مسلم لیگ نون بھی شامل ہے، سی پیک کے منصوبوں میں خاص دلچسپی اس لیے بھی لیتی ہے کیونکہ سی پیک کی ابتدا ان کے دورِ حکومت یعنی سنہ 2013 میں ہوئی تھی۔

Getty Imagesپاکستان کی موجودہ حکومت جس میں مسلم لیگ نون بھی شامل ہے، سی پیک منصوبوں میں خاص دلچسپی اس لیے بھی لیتی ہے کیونکہ سی پیک کی ابتدا ان کے دورِ حکومت یعنی سنہ 2013 میں ہوئی تھی

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان کے لیے سی پیک آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا معاہدے کے آغاز میں تھا؟

کراچی یونیورسٹی: حملہ آور کون تھیں اور پاکستان میں خواتین خودکش حملہ آوروں کی تاریخ کیا ہے؟

کیا سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے؟

اس سے قبل پلاننگ ڈویژن اور سپیشل انیشئیٹو کے وزیر احسن اقبال نے چھ مئی کو سی پیک منصوبوں کا حفاظتی جائزہ لیتے ہوئے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے سی سی) کی میٹنگ میں جس رفتار سے سکیورٹی اقدامات پر بات ہونی چاہیے تھی ویسے پچھلے چار سال میں نہیں ہوئی۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں حملے کے بعد جہاں چینی افراد کی حفاظت ’فُول پروف‘ بنائی گئی، وہیں اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ بلوچ نوجوانوں سے بھی بات چیت جاری رکھی جائے۔

جبکہ اسی اجلاس میں شامل وزارتِ داخلہ کے ترجمان کو بھی بتایا گیا کہ جو حفاظتی پروٹوکول سی پیک پر کام کرنے والے افراد کے لیے وضع کیے گئے ہیں ’وہ ان اقدامات پر عمل بھی کروائیں۔‘

دوسری جانب کراچی یونیورسٹی میں چینی انسٹیٹیوٹ میں حملے کے بعد صوبہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں موجود درسگاہوں میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی افسر کرنل عبید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حفاظتی اقدامات کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم سب کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں لیکن ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ جانچ پڑتال کریں اور یہاں پر آنے والے ہر طالبعلم اور ٹیچر کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘

دوسری جانب سی پیک سے منسلک منصوبوں پر کام جہاں سست روی کا شکار ہے، وہیں حکومت اس بارے میں کسی قسم کے ’پروپیگینڈا‘ کو بھی روکنے میں مصروف ہے۔

حکومتی ترجمان نے اس کے بارے میں کہا کہ ’چینی افراد پر لازم نہیں کہ وہ یہیں رہیں اور خود پر ہونے والے حملوں کا سامنا کرتے رہیں۔ حکومت انھیں بہت اچھی حفاظت فراہم کر رہی ہے لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ چین پاکستان کے علاوہ مختلف ممالک میں منصوبے چلا رہا ہے تو وہ کہیں بھی جا سکتے ہیں اور چاہیں تو اپنی نفری یہاں سے کم کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More