گراؤنڈ ریسکیو ٹیمیں شہروز کاشف کے پاس کیمپ ٹو پہنچ گئیں: آئی ایس پی آر

اردو نیوز  |  Jul 07, 2022

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ گراؤنڈ ریسکیو ٹیمیں نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کے پاس کیمپ ٹو پہنچ گئی ہیں۔

جمعرات کو جاری بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ موسم کی صورتحال بہتر ہوتے ہی 19 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود کوہ پیماؤں کو فوج کے ایوی ایشن پائلٹس ایئر لفٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔

بدھ کو پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف کے والد کاشف سلمان نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی تھی کہ ان کے بیٹے کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے۔

کاشف سلمان کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا نانگا پربت پر 7350 میٹر بلندی پر تھا جب منگل کی صبح ساڑھے سات بجے اُس سے آخری رابطہ ہوا تھا۔‘

شہروز کاشف نے منگل کی صبح ہی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی اور ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے ہیں۔

اس ویڈیو پیغام کے چند گھنٹوں بعد ہی کاشف سلمان نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد بیس کیمپ کی جانب اترتے دیکھا گیا ہے۔ 

انہوں نے لکھا ’الحمداللہ، شہروز کاشف اور فضل علی کو بیس کیمپ سے دیکھا گیا کہ وہ کیمپ تین سے نیچے اتر رہے ہیں۔ دونوں نے اپنی قوت ارادی کے باعث سات ہزار میٹر بلندی پر 24 گھنٹے گزارے اور موسم بہتر ہونے پر اترنے کا سفر دوبارہ شروع کیا۔‘

Alhamdulillah #ShehrozeKashif and #FazalAli are seen from basecamp while descending to Camp 3 of #NangaParbat on their own. The duo survived the night at 7350m with their sheer willpower and resilience and resumed descent in the early morning as soon as weather opened. pic.twitter.com/kTW871e9jO

— Shehroze Kashif (broadboy) (@Shehrozekashif2) July 6, 2022

شہروز کاشف کے والد نے آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ دن قبل ان کے بیٹے نے دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جنگا سر کرنے کے بعد اپنی کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔

’اس کی عمر صرف 20 سال ہے، وہ اتنے بڑے بڑے کارنامے سر چکا ہے، پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More