پاکستان کے75 برس: یادگاری نوٹ کے ڈیزائن کا مطلب کیا ہے اور اس پر سرسیّد احمد خان اور مارخور کیوں ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Aug 15, 2022

پاکستان کے سنٹرل بینک کی جانب سے ملک کے قیام کے 75 برس پورے ہونے پر 75 روپے کے ایک یادگاری نوٹ کی رونمائی کی گئی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے 14 اگست کو اس خصوصی یادگاری نوٹ کی رونمائی کی۔

سبز رنگ کے اس نوٹ کے ایک طرف بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور سر سید احمد خان کی تصاویر موجود ہیں تو نوٹ کی دوسری جانب مارخور اور دیودار کے درختوں کی تصاویر موجود ہیں۔

رونمائی ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر اس نوٹ پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ایک طرف تو ستائش کی گئی تو اس کے ساتھ اس نوٹ کی مالیت، اس کے ڈیزائن، اس پر موجود تصاویر خاص کر سر سید احمد خان اور مارخور کی تصاویر پر تبصروں کی بھرمار ہے۔

ان تبصروں میں مزاحیہ انداز میں کیے جانے والے تبصروں کے ساتھ کچھ سوالات بھی پوچھے گئے ہیں جو یادگاری نوٹ سے متعلق ہیں۔ پہلے کچھ سوالوں کا جواب دے لیتے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے یہ ڈیزائن کیوں چنا؟

یادگاری نوٹ پر اہم شخصایت کے علاوہ مارخور کی تصاویرکے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تحریری طور پر موقف وضاحت کی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق اہم دنوں پر سکّے اور ڈاک ٹکٹوں جاری ہوتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کوئی یادگاری بینک نوٹ جاری کرے۔ یہ اب تک جاری ہونے والا دوسرا بینک نوٹ ہے اس سے قبل، سٹیٹ بینک نے پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر 1997میں پہلا ایسا نوٹ جاری کیا۔‘

اپنے تحریری موقف میں سٹیٹ بینک نے کہا ’نوٹ بنیادی طور پر سبز ہے، اسے پُر کشش بنانے کے لیے اس میں سفید شیڈز اور کسی قدر زرد رنگ کی آمیزش کی گئی ہے۔ سبز رنگ ترقی اور نمو کو ظاہر کرتا ہے اور ملک کی اسلامی شناخت کی علامت ہے، جبکہ سفید رنگ آبادی کے مذہبی تنوع پر زور دیتا ہے۔‘

نوٹ پر جس طرف مارخور کی تصویر ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ ’بینک نوٹ کی پشت پر مارخور اور دیودار کے درختوں کی تصویریں موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمارے قومی عزم کو اجاگر کرتی ہیں۔ مارخور اور دیودار درخت دونوں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ماحولیاتی انحطاط کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔‘

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس یادگاری نوٹ کے سلسلے میں جاری کردہ سرکلر کے مطابق سر سید احمد خان نے آزادی کی بنیاد علی گڑھ تحریک کے ذریعے رکھی اور انہیں دو قومی نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

فاطمہ جناح کی تصویر کے بارے میں سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ انھوں نے اپنے بھائی محمد علی جناح کی تحریک پاکستان میں بھرپور مدد کی اور اس کے ساتھ ان کی اس نوٹ پر تصویر کی صورت میں موجودگی تحریک پاکستان میں خواتین کے کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب نوٹ کے ڈیزائن کے بارے میں سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ مارخور اور دیودار والی سائیڈ آرٹسٹ سارہ خان کی جانب فراہم کردہ ایک ڈیزائن پر تیار کیا گیا ہے۔

اس نوٹ کے ڈیزائن اور کلر سکیم پر مرکزی بینک کی داخلی نوٹ کمیٹی نے کام کیا اور اس کی باقاعدہ منظوری وفاقی حکومت نے دی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا پاکستان کے نوجوان: ’بجٹ جنگ کے بجائے تعلیم پر لگے تو دونوں ممالک ترقی کر سکتے ہیں‘

آزادی کے 75 سال: مشرف خاندان سمیت دلی سے جانے والے خاندانوں کا سفرِ ہجرت

’ابھی ہم غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں لیکن اگلے 25 سال میں خواتین مکمل بااختیار ہوں گی‘

پاکستان کے75 برس: جب انڈین کرکٹ کپتان نے طنز کیا کہ ’پاکستانی ٹیم تو سکول کی ٹیم ہے‘

یادگاری نوٹ کہاں سے ملے گا اور اس کو کیا استعمال کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی یوم آزادی پر سٹیٹ بینک کی جانب سے 75 روپے کے یادگاری نوٹ کی رونمائی تو کر دی گئی تاہم یہ نوٹ 30 ستمبر 2022 کو جاری کیا جائے گا اور سٹیٹ بینک کے کاؤنٹر پر دستیاب ہوگا۔

یادگاری نوٹ ایک باقاعدہ قانونی نوٹ ہے اور اس کی 75 روپے کی مالیت کا ضامن سٹیٹ بینک آف پاکستان ہوتا ہے۔

سٹیٹ بینک کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق اگرچہ یادگاری نوٹ کو لین دین کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم عموماً ایسا نہیں ہوتا کیونکہ لوگ یادگاری نوٹ اور سکے اپنے پاس یادگار کے طور پر جمع کر لیتے ہیں۔

اسی طرح دکانداروں کو بھی یادگاری نوٹ کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہوتی اس لیے وہ بھی اس کو لینے سے کتراتے ہیں تاہم یہ باقاعدہ ایک نوٹ ہوتا ہے اور اسے لین دین میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یادگاری نوٹ پر سوشل میڈیا پر کیے جانے والے تبصرے

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملک کے 75ویں یوم آزادی پر جاری کیے جانے والے سوشل میڈیا تبصروں میں نوٹ کی مالیت، ڈیزائن اور خاص کر اس پر موجود تصاویر کر سب سے زیادہ تبصرے موجود ہیں۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور فاطمہ جناح کی تصویروں کے ساتھ سر سیّد احمد خان کی تصویر پر بھی تبصرے کیے گئے ہیں جن میں ان کی قیام پاکستان کے لیے خدمات کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں کیونکہ ان کی وفات 1898 میں پاکستان بننے سے دہائوں قبل ہوگئی تھی۔

آمین شاہ نامی صارف نے لکھا کہ ’سر سید کا کوئی کردار نہیں تھا ان کی جگہ لیاقت علی خان کی تصویر ہونی چاہیے تھی۔‘

کچھ لوگوں نے خواتین کو دی جانے والی نمائندگی کو محض علامتی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہی میں سے ایک احسن نامی صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا ’نوٹ پر جو خاتون ہیں یہ اسی نوٹ والے ملک میں الیکشن ہار گئی تھیں۔‘

کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے نوٹ پر تنقید کو بے جا قرار دے کر اس کے حق میں تبصرے کیے۔

ایک صارف فتح محمد ملک کا کہنا تھا ’تنقید در تنقید۔۔۔ یہ ہے سوچ اورذہنیت کی بات۔۔۔ یہ لوگ جو اس نوٹ کے سامنے کی طرف ہیں وہ سیاست دان نہیں جن کو آپ دیکھتے آ رہے ہو۔۔۔ یہ عظمت کے مینار ہیں۔۔مارخور کو پیچھے اس کی تیز رفتاری کی بنا پررکھا گیا مبادا سیاست دانوں سے آگے نکل جائے۔‘

ایک صارف نے لکھا ’یعنی سیاسی لوگوں کے پیچھے ماخور ہی ہوتا ہے۔‘

ایک صارف کرن بتول نے پاکستان میں 75 برس کے دوران بار بار مارشل لا کے نفاذ اور آمریت کے دور کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ’اگر نوٹ پر ان قابلِ عزت بزرگوں کی جگہ ایوب خان، یحییٰ حان، ضیا اور مشرف کی تصاویر ہوتی تو75 ویں سالگرہ پر یہ لوگوں کے سامنے یہ پاکستان کی اصل شکل ہوتی۔‘

ایک صارف کو تو 75 روپے کی مالیت پر اعرتاض تھا۔ طیبہ مختار نے لکھا ’75 روپے کا نوٹ جاری کر کے دکان داروں کو فائدہ دیا گیا ہے جو پہلے بھی پانچ روپے واپس کرنے کے بجائے دو روپے والے ٹافی پکڑا دیتے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More