صائم ایوب جن کی بیٹنگ کا موازنہ سعید انور سے کیا جا رہا ہے

بی بی سی اردو  |  Sep 22, 2022

کرکٹ کے میدان اگر پاکستان اور انگلینڈ کی 17 برس کے طویل عرصے کے بعد ہونے والی سیریز سے رنگ جمانے کے لیے تیار ہو رہے ہوں تو ایسے میں بھلا کسی دوسری بات پر کوئی کیوں توجہ دے گا؟

گذشتہ رات سے شائقینِ کرکٹ ایک نوجوان بیٹسمین کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ صائم ایوب کون ہیں؟

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے صائم ایوب نے منگل کی شب اختتام کو پہنچنے والے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہے۔

انھوں نے اس ٹورنامنٹ کی 12 اننگز میں 35 کی اوسط سے 416 رنز بنائے ہیں، اُن کا سٹرائیک ریٹ 155 رہا اور انھوں نے دو نصف سنچریاں بھی سکور کیں جن میں سب سے بڑا انفرادی سکور 92 ہے۔ یہ کارکردگی انھیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ بنا گئی لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کارکردگی نے سندھ کی ٹیم کو فاتح بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صائم ایوب اس ٹورنامنٹ کے لیے تشکیل پانے والی سندھ کی ٹیم میں شامل نہیں تھے لیکن احسان علی کے ان فٹ ہو جانے کی وجہ سے انھیں ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے بیشتر کرکٹرز کی طرح صائم ایوب کے ابتدائی کریئر پر بھی کوچ محمد مسرور کی محنت اور توجہ نظر آتی ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب صائم ایوب سکول میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ باب وولمر کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلتے تھے اور اصغر علی شاہ کرکٹ سٹیڈیم میں ہونے والے انڈر 16 میچ میں انھیں کھیلتا دیکھ کر محمد مسرورنے انھیں کراچی کی انڈر 16 ٹیم میں منتخب کیا تھا۔

صائم ایوب نے قومی انڈر 16 کے فائنل میں نصف سنچری بنائی تھی۔ ان کے سامنے جو بولرز تھے ان میں سے ایک فاسٹ بولر نسیم شاہ بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیے

نسیم شاہ: ’والد نے کہا انگریز والا کھیل مت کھیلو‘

شاہین آفریدی: ’اگر نمبر ون بولر کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو نئے کھلاڑی توقع ہی نہ رکھیں‘

بیس سالہ صائم ایوب کی سب سے شاندار کارکردگی 2017 میں پاکستان انڈر 16 ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کے دورے کے دوران رہی تھی جب آخری میچ میں پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 265رنز کا ہدف ملا تھا اور محمد صائمنے 160 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستانی ٹیم کو فتح دلا دی تھی۔

صائم ایوب کے ٹیلنٹ کو دیکھ کر پاکستان کرکٹ کلب نے انھیں اپنی ٹیم میں شامل کیا اور ساتھ ساتھ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سکواڈ میں بھی انھیں جگہ دی گئی تاہم پی ایس ایل کے سات میچوں میں وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔

صائم ایوب دو سال پاکستان کی انڈر 19ٹیم کا حصہ رہے ہیں لیکن ان کی بدقسمتی تھی کہ عمدہ کارکردگی کے باوجود وہ جنوبی افریقہ میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیممیں سلیکٹ نہیں ہو سکے تھے۔

https://twitter.com/ammarbaig55/status/1571540292230172673?s=20&t=GzeqWMOpKt6WS0t4oFp_WQ

سوشل میڈیا پر صائم اور سعید انور ساتھ ساتھ

صائم ایوب چونکہ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں اس لیے ہر کوئی ان میں ماضی کے نامور بیٹسمین سعید انور کی جھلک دیکھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اسی بات پر دلچسپ تبصرے ہو رہے ہیں۔

ایک صارف وقاص علوی نے لکھا ہے ’صائم ایوب کو ابھرتے ہوئے اور سعید انور اور ڈیوڈ وارنر کے انداز میں کھیلتے ہوئے دیکھنا اچھا لگا۔ اگر وہ اسی طرح کھیلتے رہے تو قومی ٹیم سے انھیں باہر رہنا مشکل ہو گا۔ اس کا کریڈٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جاتا ہے۔‘

https://twitter.com/Rehan_ulhaq/status/1571908975263875072?s=20&t=GzeqWMOpKt6WS0t4oFp_WQ

ایک صارف معظم کا کہنا ہے کہ کلاسی اوپنر نے مجھے سعید انور کی یاد دلا دی۔

تجزیہ کار ریحان الحق لکھتے ہیں ʹصائم کی ایک اور اچھی اننگز۔ میں جب بھی صائم کو بیٹنگ کرتا دیکھتا ہوں مجھے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نبیل ہاشمی کی یہ بات یاد آ جاتی ہے کہ دادا دیکھنا یہ لڑکا بہت بڑا پلیئر بنے گا۔ ساری دنیا دیکھے گی۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More