علی اسد: کامن ویلتھ گیمز میں تمغہ جیتنے والے پاکستانی پہلوان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ گیا

بی بی سی اردو  |  Sep 23, 2022

پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ پہلوان علی اسد کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے اور انھیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

علی اسد نے انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے پہلوانی مقابلوں کی 57 کلوگرام کیٹگری میں نیوزی لینڈ کے سورج سنگھ کو صرف 55 سیکنڈ میں ہرا کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں پہلوانی کے مقابلوں میں چاندی کے دو اور کانسی کے تین تمغے جیتے تھے۔

پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر ارشد ستار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علی اسد کے تین ڈوپ ٹیسٹ ہوئے تھے اور تینوں کے نتائج ایک جیسے آئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ علی اسد سمیت قومی کیمپ میں شریک تمام دس پہلوانوں کے ڈوپ ٹیسٹ کامن ویلتھ گیمز میں جانے سے قبل ہوئے تھے۔

ان ٹیسٹ کے نتائج کامن ویلتھ گیمز کے دوران اس وقت آئے تھے جب پہلوانی کے مقابلے ختم ہو چکے تھے۔

علی اسد کا دوسرا ڈوپ ٹیسٹ ان کی کُشتی کے بعد ہوا تھا۔ دونوں ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے، جس کے بعد علی اسد نے 300 ڈالر کی فیس جمع کرا کر بی سیمپل کے ٹیسٹ کی درخواست دی تھی تاہم اس کا نتیجہ بھی مثبت آ گیا۔

علی اسد سے کیا غلطی سرزد ہوئی؟

پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر ارشد ستار کا کہنا ہے کہ علی اسد نے پہلی بار کسی بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

واپڈا سے تعلق رکھنے والے علی اسد ان دس پہلوانوں میں سے ایک ہیں جنھیں قومی کیمپ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اسی کیمپ میں ان تمام پہلوانوں کے ڈوپ ٹیسٹ لیے گئے تھے۔

ارشد ستار کا کہنا ہے کہ علی اسد سے جب ان کے ڈوپ ٹیسٹ کے بارے میں معلوم کیا گیا تو انھوں نے یہ بتایا کہ انھوں نے مقامی طور پر تیار کردہ ایک فوڈ سپلیمنٹ استعمال کیا تھا لیکن وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے جان بوجھ کر ممنوعہ طاقتور ادویات کا استمعال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کامن ویلتھ گیمز 2022: پاکستانی ویٹ لفٹرز اور پہلوانوں پر سب کی نظریں

کامن ویلتھ گیمز میں شامل دو پاکستانی باکسر انگلینڈ میں ’غائب‘: ’سامان موجود تھا لیکن وہ غائب تھے‘

پاکستانی پہلوان چاندی اور کانسی کے تمغوں کو گولڈ میڈل میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟

اب کیا ہو گا؟

علی اسد کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے انھیں فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور انھیں کسی بھی سطح کے مقابلے میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی طرف سے جو بھی سزا مقرر کی جائے گی اس پر پاکستان ریسلنگ فیڈریشن مکمل عمل کرے گی۔

اس بات کا امکان ہے کہ علی اسد پر چار سال کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

علی اسد نے کامن ویلتھ گیمز میں جو کانسی کا تمغہ جیتا تھا، اب وہ بھی انھیں واپس کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ یہ تمغہ جیتنے پر انھیں پاکستان سپورٹس بورڈ کی طرف سے دس لاکھ روپے کا جو کیش انعام دیا گیا تھا، وہ بھی انھیں واپس کرنا ہو گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More