محمد بن سلمان: سعودی عرب کے وزیرِاعظم مقرر ہونے والے ولی عہد محمد بن سلمان کا عرب دنیا کے طاقتور ترین رہنما تک کا سفر

بی بی سی اردو  |  Sep 28, 2022

Getty Images

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے منگل کی شام کابینہ میں رد و بدل کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو وزیرِ اعظم مقرر کر دیا ہے۔

سعودی عرب میں عام طور پر بادشاہ ہی وزیرِ اعظم ہوتا ہے۔

محمد بن سلمان کو گذشتہ کئی برسوں سے سعودی سلطنت کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے والد بادشاہ سلمان کی سربراہی میں بطور نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

محمد بن سلمان نے گذشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب میں کئی ثقافتی اور سماجی تبدیلیاں مرتب کیں لیکن ساتھ ہی اُن کی نگرانی میں مخالف آوازوں کو سلب کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

بطور وزیرِ دفاع ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان نے لی ہے جو اس سے قبل نائب وزیرِ دفاع تھے۔

بادشاہ سلمان کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، جسے سرکاری سعودی پریس ایجنسینے شائع کیا ہے، متعدد وزرا جو دیگر اہم وزارتوں کی سربراہی کر رہے ہیں وہ اپنی عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

محمد بن سلمان کو سنہ 2015 میں وزیرِ دفاع بنایا گیا تھا جو بعد میں اُن کے ملک کے اہم فیصلہ کرنے کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنا۔

ایک سعودی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمد بن سلمان کے لیے یہ نیا عہدہ ان ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے جو انھیں بادشاہ کی جانب سے پہلے ہی سونپی جا چکی ہیں جن میں سلطنت کی غیر ملکی دوروں پر نمائندگی کرنا اور سعودی عرب کی جانب سے جن سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کی جاتی ہے اُن کی سربراہی کرنا۔

Getty Images

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار نے بتایا کہ ’ولی عہد پہلے ہی بادشاہ کے احکامات کے مطابق ریاست کے ایگزیکٹیو اداروں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کر رہے تھے اور اُن کا بطور وزیرِ اعظم نیا عہدہ بھی اسی ضمن میں ہے۔‘

سعودی عرب کی جانب سے 86 سالہ بادشاہ سلمان کی صحت کے حوالے سے خدشات کو نظر انداز کرنے کی کوششش کی گئی ہے جو سنہ 2015 سے اس منصب پر فائز ہیں۔

سنہ 2017 میں سلطنت کی جانب سے ایسی رپورٹس اور پیشنگوئیوں کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا جن میں یہ کہا گیا تھا کہ بادشاہ سلمان شہزادہ محمد بن سلمان کے حق دستبردار ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بادشاہ سلمان کو اس سال طبعیت کی ناسازی کے باعث دو مرتبہ ہسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے۔ آخری مرتبہ ایسا مئی کے مہینے میں ہوا تھا جب سعودی میڈیا کے مطابق انھوں نے ہسپتال میں طبی ٹیسٹ کروانے کے لیے ایک ہفتہ گزارا تھا۔

محمد بن سلمان کون ہیں؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں سنہ 2019 میں بی بی سی اردو کے صفحات پر فرینک گارڈنر کی تحریر شائع ہوئی تھی جس میں ولی عہد کے پسندیدہ بیٹے سے عرب دنیا کے طاقتور ترین رہنما بننے تک کے سفر سے کچھ اقتسابات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔

عام طور پر ایم بی ایس کے نام سے مشہور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب جیسے انتہائی قدامت پسند معاشرے کو بدلنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن دوسری طرف انھوں نے سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں جھونکا ہے، اور حقوق کے لیے مظاہرے کرنے والی خواتین، مذہبی علما اور بلاگرز کو قید کروایا۔ بہت سے لوگ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ سعودی حکومت کے نقاد صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں قتل میں بھی اُن کا ہاتھ تھا۔

تو آخر ایم بی ایس کہلانے والے یہ شخص کون ہیں؟

Getty Images’چُپ چاپ نوٹس لینے والا لڑکا‘

ستمبر 2013 میں جدہ کی چلچلاتی دھوپ میں شاہی محل کے گارڈز نے مضبوط آہنی دروازوں سے آتی ہوئی ہماری گاڑی کو اندر جانے دیا۔ اس وقت کے عمر رسیدہ ہو چکے سعودی ولی عہد اور وزیرِ دفاع سلمان بن عبدالعزیز سے ملنے کا وقت لینے کے لیے ہمیں کئی دن انتظار کرنا پڑا تھا۔

مجھے ہلکا سا یاد ہے کہ اس شاہی مجلس کے دوران میں نے کمرے میں میرے پیچھے بیٹھے ایک شخص کو چپ چاپ نوٹس لیتے ہوئے بھی دیکھا۔

میں سمجھا کہ وہ کوئی سینیئر سرکاری ملازم یا ولی عہد کے پرائیویٹ سیکریٹری ہوں گے۔ میں یہ دیکھ سکتا تھا کہ وہ اونچے قد اور مضبوط جسم کے مالک تھے جبکہ اُن کی داڑھی نفاست سے تراشی ہوئی تھی۔ وہ ’بشت‘ کہلانے والا عربی روایتی چوغہ پہنے ہوئے تھے جس پر کی گئی سنہری دھاگے کی کشیدہ کاری سے اس شخص کے درجے اور رتبے کا پتہ چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اثر و رسوخ کی کہانی

وہ مفادات جو شہزادہ محمد بن سلمان کو ترکی لے جا رہے ہیں

’اگر صدر بائیڈن کو میرے متعلق غلط فہمی ہے تو مجھے بھی پرواہ نہیں‘

ملاقات ختم ہونے کے بعد میں نے خاموشی سے نوٹس لینے والے شخص سے اپنا تعارف کروایا۔ ہاتھ ملانے کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو اُن کا جواب تھا کہ ’میں شہزادہ محمد بن سلمان ہوں۔‘ انھوں نے انکساری سے بتایا کہ ’میں ایک وکیل ہوں اور آپ میرے والد سے بات کر رہے تھے۔‘

جدہ کی اس شدید گرم دوپہر میں مجھے اس وقت خیال تک نہیں آیا کہ یہ آہستہ بولنے والا اور نسبتاً گمنام 28 سالہ شخص ایک دن عرب دنیا کے آج تک کے سب سے زیادہ طاقتور اور متنازع رہنماؤں میں سے ایک بن کر اُبھرے گا۔

شہزادے سے ولی عہد تک کا سفر

محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے تھے اور وہ اس وقت کے شہزادے اور موجودہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔

ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شہزداہ محمد نے کئی سرکاری اداروں میں کام کیا۔ اُن کی ایک ہی بیوی ہیں جن سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

انھیں 2009 میں اپنے والد کا مشیرِ خصوصی مقرر کیا گیا جو اُس وقت ریاض کے گورنر تھے۔

شہزادہ محمد کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ اپریل 2015 میں اُس وقت آیا جب شاہ سلمان نے اپنی جانشینی کی قطار میں نئی نسل کو شامل کیا۔

شاہ سلمان نے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو ہٹا کر اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کیا جب کہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کر دیا۔

اس فیصلے کے بعد محمد بن سلمان کی تخت تک رسائی ممکن بنانے کے لیے بس محمد بن نائف کو ہٹنا تھا جو کہ کچھ عرصے بعد کر دیا گیا۔

ولی عہد کے پاس نائب وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کا عہدہ بھی تھا۔ شہزادہ محمد 29 برس کی عمر میں دنیا کے سب سے نو عمر وزیر دفاع بنے تھے۔

Getty Imagesجمال خاشقجیجمال خاشقجی کا قتل

دو اکتوبر 2018 کو دوپہر ایک بج کر 14 منٹ پر جمال خاشقجی استنبول کے علاقے لیونٹ کی ایک سادہ سی خاکستری رنگ کی عمارت میں داخل ہوئے تھے۔

ایم بی ایس پر کھلم کھلا تنقید کرنے والے ممتاز لکھاری جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے میں اپنے طلاق کے کاغذات کی تصدیق کروانے آئے تھے۔

لیکن جب وہ عمارت کے اندر پہنچے تو ریاض سے بھیجی ہوئی سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنٹوں کی ایک ٹیم نے انھیں قابو کرنے کے بعد قتل کیا، ٹکڑے ٹکڑے کیا اور جسم کو ایسا غائب کیا کہ وہ آج تک نہیں ملا۔

یمن کی جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر سعودی فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ایم بی ایس کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سینکڑوں سعودی باشندے جیلوں میں قید ہیں لیکن اس صحافی کے سفاکانہ قتل کی وجہ سے زیادہ تر دنیا سعودی ولی عہد کے خلاف ہو گئی۔

سعودی عرب کی سرکاری تردید کے باوجود مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو یقین ہے کہ اگر کچھ اور نہیں تو کم از کم ایم بی ایس کو خاشقجی کو خاموش کرنے کے آپریشن کا پہلے سے علم تھا۔ اطلاعات کے مطابق سی آئی اے کو یقین ہے کہ قتل کا حکم انھوں نے دیا تھا۔

29 ستمبر کو سی بی ایس کے پروگرام '60 منٹ' میں محمد بن سلمان نے یہاں تک کہا کہ وہ جو کچھ ہوا اس کی ’پوری ذمہ داری‘ لیتے ہیں۔ پی بی ایس کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ ’ان کے دور‘ میں ہوا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جرم کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں، جس کی وہ اور ان کی حکومت تردید کرتی ہے۔

ابتدائی طور پر ایک بھونڈی سی وضاحت کے بعد کہ خاشقجی کے ساتھ استنبول میں کیا ہوا ہو گا، سعودی حکام نے پوری کوشش کی کہ ایم بی ایس کو اس سکینڈل سے دور رکھا جائے۔

کہا گیا کہ یہ اپنے طور پر کی گئی ایسی کارروائی تھی جس میں لوگ دیے گئے احکامات سے آگے نکل جاتے ہیں اور معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔ لیکن سی آئی اے اور دیگر مغربی خفیہ ایجنسیوں نے وہ لرزہ خیز آڈیو ٹیپس سنی ہیں جو ترکی کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی نے سعودی قونصل خانے کے اندر سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھیں۔

Getty Imagesشہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملیولی عہد کے ’دھماکے‘

جب سے ولی عہد محمد بن سلمان منظرِ عام پر آئے ہیں اس وقت سے ہی سعودی عرب میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے۔

محمد بن سلمان کے وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالتے ہی سعودی عرب نے اپنے جنوبی ہمسایہ ملک یمن میں عملی طور پر جنگی کارروائیاں شروع کر دیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت یمنی تنازع دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان پراکسی وار ہے۔

یمن کی جنگ میں 2015 سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بھوک کی وجہ سے موت کے دہانے پر ہیں۔ لیکن ابھی بھی دونوں فریق جنگ روکنے کا نام نہیں لے رہے۔

جنگ کے علاوہ انھوں نے دوسرا دھماکہ مئی 2017 میں کیا جس میں درجنوں شہزادوں، امرا اور سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا جوا تھا جس سے شاہی خاندان کے رشتوں میں دراڑ پڑ سکتی تھی لیکن ولی عہد محمد بن سلمان نہ صرف اس میں کامیاب رہے بلکہ اطلاعات کے مطابق انھوں نے گرفتار کیے گئے شہزادوں اور امرا سے پیسے بھی نکلوائے۔

اب نوجوان سعودی ولی عہد کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہو گئی ہے اور ان کے تقریباً سارے حریف راستے سے ہٹا دیے گئے ہیں۔

Getty Imagesیمن پر سعودی فضائیہ کی بمباری اکثر و بیشتر خامیوں سے بھرپور پائی گئی ہے

ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ قدامت پسند ملک کے مذہبی علما کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔

انھوں نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی، بغیر مرد کفیل کے کاروبار شروع کرنے کا موقع دیا، ان کے ہی دور میں ایک خاتون سعودی عرب کی سٹاک ایکسچینج کی سربراہ بنیں۔ اسی طرح آماد خیالی کا سلسلہ جاری رہا اور اپریل 2018 میں 35 برس بعد سعودی عرب کے سنیما میں دوبارہ فلم دکھائی گئی، اور سعوی عرب میں پہلے اینٹرٹینمنٹ سٹی کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More