فلوریڈا میں طوفان ’ایان‘ سے 23 ہلاکتیں، اربوں ڈالر کا نقصان

اردو نیوز  |  Oct 01, 2022

امریکہ کی جنوبی ریاست فلوریڈا میں آنے والے شدید طوفان ’ایان‘ سے ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 40 ارب ڈالر کا لگایا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلوریڈا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ اکثر ہلاکتیں سیلاب میں ڈوبنے سے واقع ہوئی ہیں۔ جبکہ دیگر مقامی نیوز ایجنسیوں بشمول ٹی وی چینل سی این این نے ہلاکتوں کی تعداد 45 بتائی ہے۔

شدید طوفانی ہواؤں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور کاروبار بند ہونے کے بعد اربوں ڈالر کے نقصان کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ وسیع سطح پر بھی ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی ماہر معاشیات گریگری ڈیکو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فی الحال نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ طوفان کے باعث معاشی سرگرمیاں دس دنوں سے زیادہ تک متاثر رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ طوفان ایان کی وجہ سے پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، بجلی معطل رہی ہے اور فصلیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ماہر معاشیات گریگری ڈیکو کے اندازے کے مطابق اس طوفان کے باعث فلوریڈا کی معاشی سرگرمیوں میں 6 فیصد تک کی کمی متوقع ہے اور امریکہ کی مجموعی ملکی پیداوار میں بھی 0.3 کی کمی ہوگی۔

امریکی کمپنی ’کور لاجک‘ نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ تیز ہواؤں سے رہائشی اور کمرشل پراپرٹی تباہ ہونے سے 32 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 15 ارب ڈالر تک بھی جا سکتا ہے۔

فلوریڈا میں طوفان سے 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پیکمپنی کے مطابق سنہ 1992 میں فلوریڈا میں آنے والے طوفان اینڈریو کے بعد سے حالیہ طوفان کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ریکارڈ تعداد میں گھر اور پراپرٹیز تباہ ہوئیں۔

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ اور ایس اینڈ پی گلوبل نے کل نقصانات کا تخمینہ 40 ارب ڈالر کا لگایا ہے جبکہ موڈیز کے مطابق یہ اعداد و شمار بڑھ کر 55 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس حالیہ طوفان کو امریکہ کی تاریخ کے دس انتہائی ’مہنگے‘ طوفانوں میں شمار کیا جا رہا ہے جس سے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔

امریکہ میں سال 2005 میں آنے والے طوفان کٹرینا سے 160 ارب ڈالر، ہاروے سے 124 ارب ڈالر اور 2017 میں آنے والے طوفان سے 111 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More