قدیم زمبابوے کے عظیم شہر کے آثارِ قدیمہ جنھیں یورپ نے مٹانے کی کوشش کی

بی بی سی اردو  |  Oct 02, 2022

Getty Images

قدیم زمبابوے کا عظیم شہر تعمیری لحاظ سے تعمیرات کا ایک کمال تھا۔ تاہم ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اس کی تعمیر کا سہرا کبھی الفینیقیون کے سر باندھا کبھی بابلیون کے اور کبھی عربوں کے، سوائے افریقیوں کے جنھوں نے اصل میں اسے تعمیر کیا تھا۔

عظیم زمبابوے کی بلند و بالا پرشکوہ دیواروں تک چلنے کا تجربہ آپ کو ایک بہت ہی کمزور انسان ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ میں جتنا ان کے قریب آتا گیا اُتنا ہی ان کے سامنے میں نے اپنے آپ کو ایک بونا محسوس کیا - اور پھر بھی آثار قدیمہ کے اس مقام کی جانب اس کی مقناطیسیت مجھے کھینچے جا رہی تھیں۔ یہ کسی لاوارث یا اجڑے ہوئے فصیل بند شہر یا قلعے کی طرح محسوس نہیں ہوتا تھا جسے کوئی یورپ کے تاریخی طور پر کسی ترقی یافتہ شہر میں دیکھا سکتا ہے۔ یہ عظیم زمبابوے کی ایک ایسی جگہ تھی جہاں لوگ رہتے تھے اور کام کرتے تھے، ایک ایسی جگہ جہاں وہ عبادت کرنے آتے تھے - اور اب بھی کرتے ہیں۔ اس قدیم شہر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں آج بھی زندگی رواں دواں ہے۔

عظیم زمبابوے ایک قدیم شہر کے وسیع پتھر کی باقیات کا نام ہے جو سنہ 1100 اور سنہ 1450 عیسوی کے درمیان زمبابوے کے جدید دور کے 'ماسفينغو' (ماسونگو) نامی شہر کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ شونا (جو آج کل زمبابوے کی آبادی کی اکثریت پر مشتمل ہے) اور ممکنہ طور پر اس شہر کی تعمیر دیگر معاشروں کا کام سمجھا جاتا ہے جو پورے علاقے میں تاریخ کے مختلف ادوار میں ہجرت کرتے رہے تھے۔ یہ شہر بڑا اور طاقتور تھا، جس میں اُس وقت کے لندن کی آبادی کے برابر لوگ آباد تھے۔ اس شہر میں اس کے عروج کے دور میں بیس ہزار لوگ رہتے تھے۔ عظیم زمبابوے ایک نفیس تجارتی نیٹ ورک کا حصہ تھا (عرب، انڈین اور چینی تجارتی سامان سبھی اس جگہ پر پائے گئے تھے)، اور اس کا تعمیراتی ڈیزائن حیران کن تھا: بے پناہ پتھروں کی دیواروں اور ٹاوروں سے بنا ہوا تھا، جن میں سے اکثر ابھی تک کھڑے ہیں۔

تاہم ایک صدی کے قریب تک، 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل کے یورپی نوآبادکاروں نے اس کی تعمیر کا سہرا خود افریقیوں کے سر باندھنے کے بجائے بیرونی لوگوں اور باہر سے آباد ہونے والی قوموں کے سر باندھا۔

درحقیقت عظیم زمبابوے کے پہلے تحریری یورپی ریکارڈ کے مصنف اس خیال سے حیران و پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ اس نوعیت کے شہر کی تعمیر ممکن بھی ہو سکتی تھی۔ پرتگالی مہم جو جواؤ ڈی بوروس نے سنہ 1552 میں لکھا تھا کہ '(اِن دیواروں کے) اندر اور باہر چنائی کی گئی ہے، جو ایک شاندار سائز کے پتھروں سے بنی ہوئی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ ان میں کوئی تعمیراتی مسالہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔'

عظیم زمبابوے میں آنے والے سیّاح آج بھی اس قدیم شہر کے تین حصوں کو تلاش کر سکتے ہیں: پہاڑی کھنڈرات (سب سے قدیم، ایکروپولس کے ساتھ ایک شاہی شہر سمجھا جاتا ہے)؛ عظیم دیوار (ایک بڑی، اونچی دیوار سے گھیرے ہوئے ہے اور 11 میٹر اونچے مخروطی میناروں کی تعمیرات) اور وادی کے کھنڈرات (مٹی اینٹوں کے مکانات کا مجموعہ جہاں اس قدیم شہر آبادی کی اکثریت رہتی تھی)۔ زمبابوے کی قومی شناخت کے بارے میں لکھنے والی مصنفہ، شاعرہ اور ورثے کی ماہر سنتھیا مارنگوندا نے وضاحت کی کہ 'کچھ لوگ اسے 'عظیم زمبابوے کے کھنڈرات' کہنا چاہتے ہیں، لیکن میں اس سے متفق نہیں ہوں: اس پر غور کرتے ہوئے کہ جس طرح کی یورپی مداخلت اس نے برداشت کی ہے، یہ اب بھی بہت اچھی طرح سے قائم و دائم کھڑا ہوا ہے۔'

Getty Imagesعظیم زمبابوے سنہ1100 اور سنہ 1450 عیسوی کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا یہ بڑا اور طاقتور شہر تھا۔

شونا زبان میں، زمبابوے کا ترجمہ تقریباً 'پتھر کے گھر' بنتا ہے، اور سائٹ کے سائز اور وسعت کی وجہ سے، یہ عظیم زمبابوے کے نام سے جانا جانے لگا۔ اس کے علاوہ یہ واحد 'زمبابوے' نہیں تھا، نمیبیا کے صحرائے کالاہاری سے موزمبیق تک تقریباً 200 چھوٹی بستیوں یا تجارتی سرائے کی باقیات پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہیں۔

گریٹ زمبابوے یونیورسٹی میں آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے پروفیسر منیارادزی من ینگا کے مطابق، ان بستیوں میں عظیم زمبابوے کے محلِّ وقوع پر بڑے پیمانے پر بحث ہوتی رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے قیاس کیا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی ریاست کا دارالحکومت تھا، لیکن من ینگا کے نزدیک ایسا ممکن نہیں لگتا ہے۔ '(اگر ایسی رہاستیں ہوتی تو وہ) بہت بڑی ہوتی۔ کوئی اس طرح کی حد اور سائز کا انتظام نہیں کر سکتا تھا۔ لہذا زیادہ تر تشریحات ان کے بارے میں بات کرتی ہیں کہ وہ عظیم زمبابوے سے متاثر ہوئے ہیں۔' انہوں نے مزید کہا کہ مملکت زمبابوے کو عظیم زمبابوے اور اس کے قریب واقع چھوٹی بستیوں پر مشتمل ایک ملک سمجھا جاتا ہے۔

سائٹ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس کی دیواریں ہیں۔ جیسا کہ من ینگا نے وضاحت کی کہ 'خشک پتھر کی دیواروں کا انداز اور پیمانہ جو عظیم زمبابوے کو تشکیل دیتا ہے افریقہ اور اس سے آگے کہیں اور بے مثال ہے۔' عظیم شہر کی فصِیلیں 6 میٹر چوڑی اور 11 میٹر اونچی ہیں، اور وہ تقریباً 250 میٹر دور تک چلتی ہیں جس سے یہ دیوار سب صحارا افریقہ کا انسان کا تعمیر کیا ہوا سب سے بڑا ڈھانچہ بنتا ہے اور کل رقبے کے لحاظ سے براعظم کا دوسرا سب سے بڑا ڈھانچہ ہے، جبکہ رقبے کے لحاظ سے پہلا بڑا انسان کا تعمیر کردہ ڈھانچہ اہرامِ مصر ہیں۔

Getty Imagesگرینائٹ پتھر سے بنی ہوئی دیواریں ابھی تک بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور انہیں جگہ پر رکھنے کے لیے کوئی گتعمیراتی مسالہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔

دیواریں، جو کہ گرینائٹ سے بنی ہیں، بالکل ٹھیک ٹھاک حالت میں اب بھی کھڑی ہیں اور انہیں جگہ پر رکھنے کے لیے کوئی تعمیراتی مسالہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ ۔ من ینگا نے کہا کہ 'گرینائٹ کی کھدائی، موسم کے قدرتی عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اسے باقاعدہ بلاکس کی شکل دینا ان نوآبادیاتی کے دور سے پہلے کی کمیونٹیز کا ایک بڑا انجینئرنگ کام تھا۔' بلاکس کو کاٹنے کے لیے ضروری اوزار بنانے کے لیے لوہے کی دھات کاری کی ضرورت تھی۔ بعد میں سائٹ پر پائے جانے والے تجارتی سامان بنانے کے لیے بھی اس کی ضرورت تھی۔ یہ سب ایک انتہائی منظم اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ معاشرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

عظیم زمبابوے کی آبادی 15 ویں صدی کے وسط میں کم ہونا شروع ہوئی کیونکہ زمبابوے کی بادشاہت کمزور پڑ گئی تھی (زوال کے ممکنہ نظریات میں کان کنی کی پیداوار میں کمی، زیادہ مویشیوں کے لیے کم ہوتی ہوئی خوراک، اور وسائل کی کمی شامل ہیں)، لیکن خود اس شہر کو ترک نہیں کیا گیا تھا۔ من ینگا نے وضاحت کی کہ 19ویں صدی کے آخر میں انگریزوں کی نوآبادیات تک روحانی وجوہات کی بناء پر مختلف شونا گروپس باقاعدگی سے اس شہر کا دورہ کرتے تھے۔

من ینگا نے کہا کہ 'اس وقت (نوآوادیتی زمانے)کے نسلی تعصبات کے زمانے میں مغرب سے آنے والے آبادکار یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ عظیم زمبابوے کی شان و شوکت افریقی عوام سے وابستہ ہو سکتی ہے، جو اس وقت پہاڑیوں پر چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں انتہائی دیہی طرز زندگی گزار رہے تھے۔' مغربی ممالک سے آنے والے ابتدائی مہم جوؤں نے فرض کیا کہ یہ ایک طویل عرصے سے کھوئی ہوئی یورپی تہذیب یا انجیل میں مذکور کسی جگہ کا مقام ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر سنہ 1871 میں سونے کے متلاشی کارل ماؤچ کو یقین تھا کہ اسے بادشاہ سلیمان کا ہیکل مل گیا ہے (اس امید پر کہ اس کی سونے کی کانیں قریب ہی ہوں گی) یا شیبا کی ملکہ کا محل یہیں کہیں ہوگا۔ برطانوی ماہر آثار قدیمہ جیمز تھیوڈور بینٹ نے سنہ 1891 میں ایک کھدائی کی قیادت کرنے کے بعد ایک کتاب لکھی جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ افریقی اس قابل نہیں ہیں کہ وہ جو کچھ پایا اسے تعمیر کر سکیں۔ بینٹ نے نوادرات کو بھی پھینک دیا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ سائٹ انجیل کے زمانے کی نہیں ہے (شاید بعد کی ہے)۔

Getty Images19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل کے یورپی باشندوں نے اس تعمیر کو افریقیوں کے بجائے باہر کے لوگوں اور مہم جوؤں سے منسوب کیا۔

ایک دہائی بعد رائل جیوگرافک سوسائٹی سے خطاب میں برطانوی صحافی رچرڈ این ہال نے خود ان آثارِ قدیمہ کا دورہ کرنے کے بعد بینٹ کے نقطہ نظر کی حمایت کی۔ اس نے یہ نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے کہ سینکڑوں کانوں پر محیط سونے کی کان کنی کے آپریشن کی'حیرت انگیز ہنر و مہارت' کے بارے میں بات کی جو سنگِ صابون کے نقش و نگار کی فنکارانہ قدر کے بارے میں بتائی گئی، 'یہ کافی حد تک اخلاقی طور یقین کیا جا سکتا ہے کہ (ان سائنسز کے خام طریقے بھی) یہاں کے لوگوں کے اپنے نہیں تھے۔ اس شہر کے تعمیر کے طریقے اور اوزار مشرق وسطی سے درآمد کیے گئے تھے اور اس کی ابتدا جنوب مشرقی افریقہ میں نہیں ہوئی تھی۔' اس کے بجائے، اس کا اور اس کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ تعمیر کے طریقے اور اوزار کی تخلیق اور حتّیٰ کہ اس شہر کی تعمیر بھی الفینیقیون (فونیشین)، عربوں یا بابلیون (اہلِ بابل) نے کی تھی۔

من ینگا کے مطابق، 'وہ (اس وضاحت کو) زمبابوے کو نوآبادیاتی بنانے کے لیے اخلاقی جواز کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اگر دنیا کے اس حصے میں یہ طویل عرصے سے کھوئی ہوئی تہذیب موجود تھی، تو نوآبادیاتی نظام میں کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ وہ اس پرانی سلطنت کو دوبارہ زندہ کر رہے تھے۔'

تاہم اُس وقت کے چند ماہرینِ آثار قدیمہ نے جواب دیا کہ یہ جگہ بائبل کے زمانے جتنی پرانی نہیں تھی۔ من ینگا نے کہا کہ 'اس وقت کی نوآبادیاتی حکومت نے ان خیالات کو دبا دیا، اور عوامی میڈیا اور عجائب گھروں میں سرکاری بیانیہ یہ تھا کہ عظیم زمبابوے (کے قدیم شہر) کا تعلق غیر ملکی تہذیب سے ہے۔' تاریخ کے اس ورژن کو کالونی کی سفید فام اقلیتی حکومت نے سنہ 1960 اور سنہ 1970 کی دہائیوں میں برقرار رکھا۔ صرف سنہ 1980 میں، جب زمبابوے نے آزادی حاصل کی، آخر کار نئے رہنما اس بات کی تصدیق کر سکے کہ یہ جگہ ان کے اپنے آباؤ اجداد نے بنائی تھی۔ سنہ 1960 کی دہائی کے دوران، سیاہ فام قوم پرست یہاں تک کہ زمبابوے پر اس ملک کے نام کے طور پر آباد ہو گئے تھے جس کی وہ آزادی کی طرف لے جانے کی امید رکھتے تھے، اور عظیم زمبابوے کی طرف واپس آ رہے تھے۔

(کوٹ) 'یہ افریقی ہی تھے جنہوں نے اسے بنایا، اور ایک ہزار سال بعد بھی یہ اب بھی قائم ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کون ہیں۔'

سنہ1980کے بعد سے مقامی آثار قدیمہ کی تحقیق دوبارہ شروع ہونے میں وقت لگا اور یہ سست روی کا شکار رہی، کیونکہ اسے بڑے پیمانے پر دیکھ بھال اور مرمت کے کام سے نمٹنا تھا۔ از سرِ نو تحقیق نے عظیم زمبابوے کے قدیم شہر کی تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اس سے جڑے دیگر چھوٹے چھوٹے سراؤں اور بستیوں پر توجہ مرکوز کی ہے، کیونکہ ان سراؤں اور بستیوں پر کھدائی کے لحاظ سے کام زیادہ پیچیدہ نہیں تھا۔ من ینگا نے زور دے کر کہا کہ عظیم زمبابوے کی علمی سمجھ میں تبدیلی آئی ہے۔ 'یورپ کو مرکز مان کر سوچ کے انداز نے اس سائٹ کی تشریح اس طرح کی ہے جیسے آپ یورپ میں کسی قلعے کو دیکھ رہے ہوں۔ حالیہ کام سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ عظیم زمبابوے کو ایک طویل عرصے میں تعمیر کیا گیا تھا، یہ ایک بار نہیں بنایا گیا تھا اور پھر اس پر قبضہ نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ توسیع ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ دیواریں لگانا بعد کے مرحلے میں آیا کیونکہ اس سے پہلے عظیم زمبابوے میں کاشتکاری کی کمیونٹیاں تھیں۔'

آج، عظیم قدیم شہر زمبابوے کے لیے اتنا ہی اہم ہے۔ شونا گاؤں قریب ہی واقع ہیں، اور بہت سے رہائشی اس جگہ کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایک مذہبی مرکز بھی قریب ہی ہے، اور یہ جگہ اب بھی ان عبادت گزاروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو روایتی شونا عقائد پر عمل کرتے ہیں۔

مصنف مارانگوندا نے کہا کہ 'یہ افریقی ہی تھے جنہوں نے اسے تخلیق کیا۔ اور ایک ہزار سال بعد بھی یہ اب بھی کھڑا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کون ہیں۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More