کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اہلکار کا قتل، معاملہ کیا ہے؟

اردو نیوز  |  Nov 22, 2022

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں مسلح شخص کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ 

پیر کی رات کو ڈیفنس کے علاقے میں مسلح شخص کی فائرنگ سے شاہین پولیس فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں ہلاک ہونے والے شاہین پولیس فورس کے اہلکار کے ساتھی امین الحق نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ڈیفنس کےعلاقے میں عبدالرحمان اور وہ معمول کی گشت پر تھے کہ ڈیفنس فیز فائیو خیابان شمشیر نزد 26 سٹریٹ سگنل کے قریب ایک مشکوک گاڑی تیز رفتار میں گزری۔

بیان کے مطابق ’گاڑی سے خاتون کے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ مشکوک گاڑی دیکھ کر ہم نے گاڑی کا پیچھا کیا اور گاڑی کو رُکنے کا اشارہ دیا، کار سوار نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ ہم نے گاڑی کا تعاقب کیا اور کلفٹن بلاک 4 کے قریب گاڑی کو روک لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عبدالرحمان گاڑی کے رکنے پر گاڑی کی اگلی سیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے، گاڑی کے رکتے ہی اس میں سوار لڑکی اتر کر بھاگ گئی۔

’اس دوران کار سوار اور شاہین فورس کے اہلکار کے درمیان بات چیت جاری تھی کہ کار سوار نے پولیس اہلکار عبدالرحمان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں عبدالرحمان زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔‘

ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ شاہین فورس کے اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم کا نام خرم نثار ہے جس کے والد سابق ڈپٹی کمشنر ہیں۔

عرفان بلوچ کے مطابق ’ملزم تین ہفتے قبل سوئیڈن سے کراچی پہنچا تھا اور نشے کاعادی ہے۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے کیس کے شواہد اکھٹے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

’ملزم کی رہائش جائے وقوعہ سے قریب ہی ہے۔ ملزم کی رہائش گاہ سے استعمال ہونے والی گاڑی اور اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ اسلحے کا فرانزک کرایا جا رہا ہے۔‘

عرفان بلوچ نے مزید کہا کہ ’قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی صورت نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ملزم کی سفری دستاویزات حاصل کر لی گئی ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں اور ایئر پورٹس پر بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔‘ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More