پٹرول کے بعد اب انڈیا روسی فرٹیلائزر کا سب سے بڑا خریدار، ڈالر کی جگہ روپے میں ادائیگی

بی بی سی اردو  |  Nov 23, 2022

Getty Images

انڈیا نے روس سے تجارت میں ڈالر کی جگہ انڈین کرنسی ، روپے میں لین دین کرنے کے لیے انڈین بینکوں میں روس کے خصوصی اکاونٹ کھول دیے ہیں ۔

انڈیا نے یہ بڑا قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب وہ روس سے پٹرول کے بعد فرٹیلائزر کھادوں کا بھی سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے۔

گزشتہ پیر کو انڈیا کے ریگولیٹری ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک کے دو بڑے پرائیوٹ بینکوں، ایچ ڈی ایف سی اور کینیرا بینک کو روس سے اںڈین کرنسی، روپے میں ادائیگی کے لیے مخصوص ' واسٹرو اکاؤنٹ ' کھولنے کی اجازت دے دی ۔ واسٹرو کھاتہ ایک بینک میں دوسرے بینک بالخصوص غیر ملکی بینکوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔

ان مخصوص کھاتوں کے ساتھ  روس سے تجارت میں روپے کے ذریعے لین دین کی جائے گی ۔ انڈیا کے کامرس سکریٹری سنیل بھرتوال نے تجارت کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ '' اس سے پہلے حکومت دو دیگر پرائیوٹ بینکوں میں اس طرح کے 9 خصوصی کھاتے کھول چکی ہے۔

روس کے دو سب سے بڑے بینک ،'سبر بینک ' اور 'وی ٹی بی '  انڈیا میں اس طرح کے کھاتہ کھولنے والے پہلے بینک ہیں۔ روس کے ایک تیسرے بینک' گیز پروم 'نے بھی انڈیا مین واسٹرو کھاتہ کھول دیا ہے۔ '' ریزرو بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ ان کھاتوں کو کھونے کا مقصد غیر ممالک سے روپے میں تجارت کرنے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

ملک کے سرکردہ اقتصادی تجزیہ کار پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ '' یوکرین پر روس کے حملے کے بعد روسی بینکوں پر عالمی سطح پر لین دین کے معاملے میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ پابندیوں کے بعد چونکہ اںڈیا اور روس کی تجارت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے ان پابندیوں اور پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے دونوں ملکوں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ روپے میں ادائیگی سے انڈیا ڈالر اور یورو کے زر مبادلہ کو بھی بچا سکے گا۔ ''

پنجوئے نے بتایا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر پینکن نے روسی خبر رساں ایجنسی تاس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ روس رفتہ رفتہ اپنی تجارت یورو اور ڈالر میں کم کر دے گا تاکہ ان کرنسیوں پر تجارت کا انحصار کم ہو سکے۔

اس دوران خبر رساں ایجنسی روئٹر نے خبر دی ہے کہ روس اب انڈیا کو فرٹیلائزر فراہم کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ ایک سیںئیر حکومتی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس برس اپریل سے چھ مہینوں میں روس سے انڈیا درآمد کی جانے والی فرٹیلائزر کی مقدار میں تقریبآ  4 گنا کا اضافہ ہوا ہے۔

ّپچھلے چھ مہینے میں روس سے تقریبآ سوا دو ملین ٹن فرٹیلائزر انڈیا درآمد کی جا چکی ہے۔ اس کی مالیت ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر ہے ۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پورے سال میں صرف سوا ملین ٹن فرٹیلائزر درآمد کی گئی تھی ۔

روس اور بیلا روس فرٹیلائزر بر آمد کرنے والے دنیا کے دو سب سے بڑے ملک ہیں ۔ یوکرین کی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے روس سے فرٹیلائزر کی سپلائی پر پابندی لگا دی ۔

ایک سرکاری اہلکار نے معاملے کی حساس نوعیت کے سبب اپنی شناخت نہ ظاہر کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ' روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں شدت آنے کے بعد انڈیا مناسب قیمت پر فرٹیلائزر حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھا ۔ روس کی طرف سے یہ سپلائی بہت مناسب قیمت پر اور بہت بروقت ہوئی ورنہ ملک میں کھاد کی قلت ہو سکتی تھی ۔ ''

اطلاعات کے مطابق انڈیا کو روس سے فرٹیلائزر سپلائی چارجز سمیت تقر یبآ 920 ڈالر فی ٹن مین مل رہی ہے ۔ اس شرح سے انڈیا کو کم از کم  70 ڈالر کی رعایت مل رہی ہے ۔ انڈیا روس سے فرٹیلائزر کی درآمد میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔

گزشتہ مالی سال میں چین انڈیا کا سب سے بڑا سپلائر تھا ۔ اس کا حصہ 24 فی صد تھا۔ روس کا حصہ محض 6 فیصد تھا ۔ ستمبر تک گزشتہ 6 مہینے میں روس کی فرٹیلائزر کی در آمد 21 فی صد پر پہنچ چکی ہو اور اب وہ دنيا کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔

Getty Images

اس سے قبل اںڈیا نے روس کےتیل کا بائیکاٹ کرنے کی مغربی ممالک کی اپیل کو نظر انداز کرتے ہوئے روس سے خام تیل انتہائی رعایتی قیمت پر درامد کرنا شروع کیا تھا ۔ روس اب انڈیا کو خام تیل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔

انڈین میڈیا میں شائع ہونے اطلاعات کے مطابق روس سے خام تیل حریدنے سے اب تک انڈیا کو 35 ہزار کروڑ روپے یعنی تقریبآ 6  بلین ڈالر کی بچت ہو چکی ہے۔

یوکرین کے ایک ایک اعلی سفارتکار نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ ''یہ رعا یتیں یوکرینی شہریوں کے خون سے ادا کی جا رہی ہیں '' لیکن حال میں انڈیا کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ سے جب سی این این چینل پر ایک انٹرویو کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ روس کے حملے کے سبب یوکرین انتہائی دشواریوں سے گزر رہا ہے ان حالات میں روس سے تیل خریدنا انڈیا کے لیے کیا اخلاقی سوال نہیں ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ' ' یہ انڈیا حکومت کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے تیل حاصل کرے۔ ''

 انڈیا خصوصی واسٹرو کھاتوں کے توسط سے روس سے روپے میں تجارت کا آغاز ایک ایسے وقت میں کر رہا ہے جب اس کی تجارت روس کے ساتھ برھتی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ انڈیا ایران سے بھی روپے میں ادائیگی کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

ایران پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں۔ انڈیا نے باہمی تجارت میں روپے میں ادائیگی کے لیے مالدیپ، جنوب مشرقی ایشا کے ممالک، لاطینی امریکہ کے ممالک اور بعض افریقی ملکوں سے بھی بات چیت شروع کی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More