کلب فٹ: ’خواب دیکھتی تھی کہ اپنے دونوں پیروں پر کھڑی ہوں اور بھاگ رہی ہوں‘

بی بی سی اردو  |  Dec 06, 2022

’لوگوں کو محلات کےخواب آتے ہوں گے۔ مجھے خواب آتے تھے کہ ایک دن میں اپنے دونوں پیروں پر ٹھیک سے کھڑی ہوں اور بھاگ رہی ہوں۔‘

یہ کہنا ہے ایمن عارف کا جو پیدائشی طور پر کلب فٹ عارضے کا شکار تھیں۔ ایمن پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم سے راولپنڈی جیسے بڑے شہر میں کئی خواب لیے پڑھنے آئی تھیں۔

ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان کو نجی ٹی وی چینل میں بطور نیوز کاسٹر نوکری ملی۔

کچھ عرصہ بعد اُنھوں نے فیلڈ رپورٹنگ شروع کر دی تاہم ایمن کے مطابق اُنھیں کبھی بھی چلنے میں تکلیف نہیں ہوئی تھی۔ پھر ایمن کو اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام میں کام کرنے کا موقع ملا۔

ایمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب اُنھیں یہ نوکری ملی تو آفس پہنچنے کے لیے اُنھیں کئی سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں جس سے اُن کے پاؤں میں تکلیف شروع ہو گئی۔

’آفس میں لفٹ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے چوتھے فلور پر پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنی اترنی پڑتی تھیں، جس سے مجھے پاؤں میں ہلکا سے درد محسوس ہونے لگا۔ میں نے ڈاکڑ کے پاس جانے کا سوچا۔‘

2021 میں ایمن کی ایک بڑی سرجری ہوئی لیکن یہ ایمن کی پہلی نہیں بلکہ چھٹی سرجری تھی۔ اس سرجری کے بارے میں بات کرنے سے پہلے جان لیتے ہیں کہ ’کلب فٹ‘ کسے کہتے ہیں۔

کلب فٹ بیماری کیا ہے؟

کلب فٹ ایک ایسا عارضہ ہے جس میں انسان کا ایک پاؤں پیدائشی طور پر مڑا ہوا ہوتا ہے اور وہ ٹھیک سے چل نہیں سکتا۔

ڈاکٹرز کے مطابقبروقت سرجری سے علاج کی صورت میں پاؤں ٹھیک ہو سکتا ہے تاہم اگر بروقت علاج نہ ہو، توچلنے میں دشواری کے ساتھ ساتھ دونوں پاؤں میں فرق آ جاتا ہے یعنی متاثرہ پاؤں میں پہنا جانے والا جوتا نارمل پاؤں کے مقابلے میں چھوٹا ہو گا۔

ایمن کے والد نے ان کے بچپن میں ان کی دو سرجریاں کروائی تھیں جس کی بعد اُن کا ٹیڑھا پاؤں تو سیدھا ہو گیا مگر دونوں پاؤں میں دو انچ کا فرق آ گیا۔

’سرجری کے بعد میرے پاؤں پر پلستر کر دیا گیا جو ہر چھ ماہ بعد تبدیل ہوتا تھا۔ دوسرا پاؤں تو معمول کے مطابق بڑھ رہا تھا، مگر جس پاؤں پر پلستر تھا، اُس کے بڑھنے کی رفتار رک گئی۔‘

اکثر بچوں کو سرجری کے بعد ڈاکڑ ایک سپیشل جوتا تجویز کرتے ہیں جس سے دونوں پاؤں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ایمن کے لیے بھی ڈاکڑ نے یہی ایسا ہی جوتا تجویز کیا تھا مگر وہ اکثر یہ جوتا نہیں پہنتی تھیں۔

’چھوٹی عمر کی وجہ سے مجھے جوتا پہننے کی عادت نہیں پڑی، جس کی وجہ سے میں ٹھیک طرح نہیں چل سکتی تھی اور ایسے چلنے کی وجہ سے میرے دونوں پاؤں کا فرق جو پہلے دو انچ تھا بڑھ کر آٹھ انچ تک پہنچ گیا۔ میری محتلف سرجریاں ہوتی رہیں، اور 2021 سے پہلے تک میری پانچ سرجریاں ہو چکی تھیں۔‘

’میں سوچتی تھی کہ مجھے اللہ نے جیسے پیدا کیا ہے، میں ویسی ہی قبر میں جاؤں گی، مجھے کھبی محسوس نہیں ہوا کہ مجھے اب اس عمر میں اس ٹانگ کو ٹھیک کروانے کی ضرورت ہے۔‘

’مگر نوکریاں تبدیل کرتے کرتے میرے پاؤں میں تکلیف شروع ہو گئی جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اب تک کی اپنی سب سے مشکل اور بڑی سرجری کرواؤں۔‘

اس سرجری کے بعد ان کے پاؤں کے باہر تین ماہ کے لیے ’ایکسٹرنل فِکسیٹر‘ لگا دیا گیا۔ یہ ایک طرح کی مشین ہے، جس سے مصنوعی طور پر ٹانگ کی لمبائی کو بڑھایا جاتا ہے مگر ایمن کے مطابق اس مشین اور اس کے چلانے کا عمل بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ باہمت لڑکی جس نے مکمل مفلوج ہونے پر بھی جینے کی امید نہ چھوڑی

اعصاب کی ری وائرنگ سے مفلوج ہاتھ، بازو میں بہتری ممکن

جسٹن بیبر: پاپ سٹار جسٹن بیبر کے چہرے کو مفلوج کرنے والی بیماری رامسے ہنٹ سنڈروم کیا ہے؟

’ہر روز اس مشین کو دن میں تین بار چلایا جاتا تھا، تین ماہ میں آٹھ انچ کا فرق اس مشین کے ذریعے حاصل کر لیا گیا۔‘

ایمن کی یہ آخری سرجری نہیں تھی۔ تین ماہ ٹانگ کے ساتھ فِکسیٹرلگے رہنے کی وجہ سے اُن کے گھٹنے میں لچک ختم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اُن کے گھٹنے کی بھی سرجری کی گئی اور اُس کو پیچھے کی طرف باندھ دیا گیا۔

’مجھے آج بھی یاد ہے جب میں ہوش میں آئی تو اتنی تکلیف میں تھی کہ میرے پاس بتانے کے لیے الفاظ نہیں۔‘

اس کے بعد ایمن کا ایک نیا سفر شروع ہوا جس میں انھوں نے دوبارہ بچوں کی طرح چلنا سیکھا۔ وہ جِم میں مختلف ورزشوں کے ذریعے جسم کی قوت واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

’کبھی کسی سے مالی مدد نہیں لی‘

جہلم سے راولپنڈی کے ہوسٹل تک کا سفر ایمن نے کئی مشکلات کے ساتھ گزارا مگر اُنھوں نے کبھی اپنے والدین یا بہن بھائیوں سے مالی مدد نہیں لی۔

ایمن نے مختلف جہگوں پر نوکری کر کے نہ صرف اپنے لیے گاڑی خریدی بلکہ اتنی بڑی سرجری بھی خود کروائی۔

ایمن کے مطابق ’اتنا بڑا مالی قدم اُٹھانے سے پہلے میں نے والدین سے مشورہ کیا۔ میں مالی طور پر خود مختار تھی۔ میرے پاس پیسے تھے، میں نے آج تک کسی سے مدد نہیں لی۔ ایسا نہیں کہ میرے والدین میری مدد نہیں کر سکتے تھے پر مجھے ضرورت نہیں پڑی۔ میں نے سارا علاج خود کروایا۔‘

ایمن نے بتایا کہ اس سرجری کے بعد اُن کو لگتا ہے کہ اُن کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔ اُنھوں نے دوبارہ چلنا سیکھا ہے۔

ایمن کے مطابق اُن کو اب یاد ہی نہیں کہ وہ پہلے کیسے چلتی تھیں۔ اُنھیں اب لوگوں کے رویے بلکہ عام سے لگتے ہیں، کہ جیسے انھیں کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

معاشرے کے رویوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’لوگوں نے اُن کے والدین کو منع کیا کہ ان پر پیسے نہ لگائیں۔‘

’لوگوں نے میرے والدین کو کہا کہ اس کو تعلیم دے کر کیا ملے گا، کون سا اس نے کل کو کوئی نوکری کرنی ہے، اس کو شہر سے دور اکیلے بھیج رہے ہو۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘

ایمن کے والدین نے لوگوں کی منفی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف انھیں تعلیم کے لیے شہر سے دور بھیجا بلکہ ان کو حوصلہ اور ہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔

ایمن کہتی ہیں کہ ’اگر کسی میں کوئی کمی ہے تو اسے یہ محسوس نہ ہونے دیں بلکہ اُسے ہمت دیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More