حضرت خضر: پراسراریت میں لپٹی شخصیت جن کا قرآن اور مذہبی روایات میں درج قصہ ظاہر اور حقیقت میں فرق بتاتا ہے

بی بی سی اردو  |  Apr 04, 2025

Getty Imagesازبکستان میں واقع مسجد حضرت خضر کا بیرونی منظر

دو دریاؤں کے ملنے کی جس جگہ، بُھنی ہوئی مچھلی نے زندہ ہو کر پانی کا رُخ کیا وہیں بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت موسیٰ نے، اسلام کی مقدس کتاب قرآن کے مطابق ’ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے خاص اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنے پاس سے اُس کو ایک خاص علم عطا فرمایا تھا۔‘

قرآن میں اس ’بندے‘ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اور اُن کی صرف صفات اور ’اللہ کے حکم سے کیے گئے‘ کاموں کا بیان ہے۔ البتہ پیغمبر اسلام کی احادیث اور دیگر اسلامی روایات میں اُن کا نام ’خضر‘ بتایا گیا۔

اسی طرح حضرت خضر کا نام یہودی اور مسیحی مقدس کتابوں (تورات اور انجیل) میں بھی درج نہیں لیکن متوازی روایات اور مختلف تشریحات انھیں بعض تاریخی اور مذہبی شخصیات سے جوڑتی ہیں۔ اُن کا سب سے زیادہ ذکر یہودی تفسیری روایات (تَلمُود اور مِدرَش)، مسیحی روایات اور تصوفانہ ادب میں پایا جاتا ہے۔

’تلمود‘ میں ایک خفیہ اور روحانی ہستیکا ذکر ہے جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہو کر لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ بعض یہودی روایات میں انھیں ایلیاہ (الیاس) نبی یا ایک طاقتور فرشتے ’متاترون‘ کے مشابہ قرار دیا گیا۔ یہودی تفسیری روایت ’مدرَش‘ میں ایک ایسے ’نیک شخص‘ کا ذکر ہے جو دریا کے کنارے رہتا تھا اور خفیہ طور پر مسافروں کی مدد کرتا تھا۔

اسی طرح مسیحی روایات میں ’خیر کے محافظ اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہونے والے‘ سینٹ جارج کو بھی بعض اوقات حضرت خضر سے جوڑا گیا۔

تین سوالGetty Imagesاسلام کی مقدس کتاب قرآن میں نام درج نہیں مگر احادیث اور دیگر اسلامی روایات میں اُن کا نام ’خضر‘ بتایا گیا

قرآن میں حضرت خضر کا تذکرہ مشرکینِ مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہونے والی سورہ الکہف میں ملتا ہے۔ اِن سوالات کے ذریعے مشرکین مکہ نے پیغمبر اسلام سے حضرت خضر کے علاوہ اصحاب کَہف اور ذوالقرنین کے قصوں کی حقیقت کا پوچھا تھا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی لکھی تفسیر ’تفہیم القرآن‘ کے مطابق ’پیغمبر اسلام کے امتحان کی غرض سے پوچھے گئے یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے اِن سوالات کا پورا جواب دیا اور تینوں قصوں کو اس صورتحال پر چسپاں بھی کر دیا جو اُس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان در پیش تھی۔‘

قرآن کی اسی تفسیر میں مودودی لکھتے ہیں کہ ’نبوت کے اعلان کے بعد پانچویں سال سے شروع ہو کر اگلے پانچ سالتک چلے اس دور میں قریش نے ایسا ظلم و ستم اور معاشی دباؤ روا رکھا تھا کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک چھوڑ کر حبش کی طرف نکل جانا پڑا اور باقی مسلمانوں کو اور ان کے ساتھ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے خاندان کو شعب ِابی طالب نامی گھاٹی میں محصور کر کے ان کا معاشی اور معاشرتی مقاطعہ (بائیکاٹ ) کر دیا گیا۔‘

’تاہم اس دور میں ابو طالب اور اُم طالب اور اُم المومنین حضرت خدیجہ کے ذاتی اثر کی وجہ سے قریش کے دو بڑے خاندان بنی صلی اللہ علیہ و سلم کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ نبوت کے دسویں سال میں اُن کی آنکھیں بند ہوتے ہی مسلمانوں پر مکے کی زندگی تنگ کر دی گئی یہاں تک کہ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سمیت تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکل جانا پڑا۔‘

اصحابِ کہف: سینکڑوں برسوں تک سونے والے نوجوانوں اور اُن کے کتے کا واقعہ مسیحی روایات اور قرآن میں کیسے بیان کیا گیا؟یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟طوفان، کشتی اور کوہ جودی: حضرت نوح کا قصہ جو اسلام سمیت تین مذاہب میں بیان کیا گیاقدیم تہذیبوں میں ’جہنم‘ کا تصور اور دنیا کے مذاہب میں عالم برزخ کو کیسے بیان کیا گیاحضرت موسیٰ اور حضرت خضر کی ملاقات

سوررہ الکَہف میں بیان اصحاب کہف اور یاجوج ماجوج کے حوالے سے ذوالقرنین کے قصے تو آپ پڑھ چکے اور یہ بھی جان چکے ہیں کہ یہودیت اور مسیحیت کی تعلیمات اور روایات میں یہ کیسے بیان کیے گئے ہیں۔ آج باری ہے حضرت خضر کے قصے کی۔

قرآن کی سورہ الکَہف میں ہے کہ حضرت موسیٰ اور ’ہمارے بندوں میں سے ایک بندے‘ یعنی حضرت خضر ’مجمع البحرین‘ پر ملے۔

دو دریاؤں کے ملنے کی یہ جگہ مفسرین کے مطابق ’وہی ہو سکتی ہے جہاں موجودہ شہر خرطوم کے قریب دریائے نیل کی دو بڑی شاخیں البحر الابیض اور البحر الازرق آ کر ملتی ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ کی پوری زندگی جن علاقوں میں گزری، اُن میں اِس ایک مقام کے سوا کوئی مجمع البحرین نہیں پایا جاتا۔‘

عجیب واقعات اور حضرت موسیٰ کا تجسس

قرآن میں ہے کہ ’ملاقات کے وقت موسیٰ نے اُن سے درخواست کی کہ آپ مجھے اجازت دیں تو میں اِس شرط پر آپ کے ساتھ رہوں کہ جو علم آپ کو عطا ہوا، آپ اُس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں گے؟‘

’اُس نے جواب دیا: تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے اور جو چیز تمھارے دائرۂ علم سے باہر ہو گی آخر تم اُس پر صبر کر بھی کس طرح سکتے ہو؟‘

’موسیٰ نے کہا: اِنشا اللہ، آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اُس نے کہا کہ ’اچھا، اگر تم میرے ساتھ چلتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کا تم سے ذکر نہ کروں۔‘

قرآن سے علم ہوتا ہے کہ اکٹھے چلتے ہوئے حضرت خضر ایک کشتی کو عیب دار، ایک لڑکے کو قتل لیکن ایک غیر مہمان نواز بستی میں، جہاں اِن دونوں کو کھانا بھی نہیں ملتا، بلا معاوضہ ایک دیوار کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ہر مقام پر اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا یا کیا گیا۔‘

آخرکار، سورہ الکہف کے مطابق، ’اُس (حضرت خضر) نے کہا کہ اب یہ میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے۔ میں ابھی اُن باتوں کی حقیقت تمھیں بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہیں کر سکے ہو۔‘

حضرت خضر نظامِ قدرت کے راز بتاتے ہیں

قرآن کے مطابق، حضرت خضر حضرت موسیٰ کو بتاتے ہیں کہ ’اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ سو میں نے چاہا کہ اُسے عیب دار کر دوں، (اِس لیے کہ) اُن کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو (کسی جنگی مہم کے لیے) زبردستی چھین رہا تھا۔‘

’رہا لڑکا تو اُس کے ماں باپ دونوں ایمان والے تھے۔ سو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ (بڑا ہو کر) اپنی سرکشی اور کفر سے اُن کو تنگ نہ کرے۔ سُو ہم نے چاہا کہ اُن کا پروردگار اُنھیں اِس کی جگہ ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اِس سے بہتر اور شفقت و محبت میں اِس سے بڑھ کر ہو۔‘

’اور دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اُس کے نیچے اُن کا دفینہ (زمین میں دبایا گیا خزانہ) تھا اور اُن کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ (یہ دفینہ اُسی نے رکھا تھا) سو تیرے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا دفینہ خودنکالیں۔‘

’یہ تیرے پروردگار کی عنایت سے ہوا۔ اور یہ جو کچھ میں نے کیا، اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ ہے اُن باتوں کی حقیقت جن پر تم صبر نہیں کر سکے ہو۔‘

یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟

تفہیم القرآن کے مطابق ’اس کی کوئی وضاحت قرآن میں نہیں کی گئی تاہم مفسرین کاقیاس یہ ہے کہ اس واقعہ کا تعلق اُس دور سے ہے جب مصر میں بنی اسرائیل پر فرعون کے مظالم کا سلسلہ جاری تھا اور سردارانِ قریش کی طرح فرعون اور اس کے درباری بھی عذاب میں تاخیر دیکھ کر یہ سمجھ رہے تھے کہ اوپر کوئی نہیں جو اُن سے باز پرس کرنے والا ہو اور مکے کے مظلوم مسلمانوں کی طرح مصر کے مظلوم مسلمان بھی بے چین ہو ہو کر پوچھ رہے تھے کہ خدایا ان ظالموں پر انعامات کی اور ہم پر مصائب کی یہ بارش کب تک؟‘

’بائبل اس واقعے کے باب میں بالکل خاموش ہے۔ البتہ تَلْمُود میں اس کا ذکر موجود ہے مگر وہ اسے حضرت موسیٰ کی بجائے ربّی یہوحا نان بن لادی کی طرف منسوب کرتی ہے اور اس کا بیان یہ ہے کہ ربی مذکور کا یہ واقعہ حضرت الیاس کے ساتھ پیش آیا تھا جو دنیا سے زندہ اٹھائے جانے کے بعد فرشتوں میں شامل کر لیے گئے اور دنیا کے انتظام پر مامور ہیں۔‘

احادیث میں حضرت اُبَیّ بن کعب کی یہ روایت موجود ہے کہ خود پیغمبر اسلامنے اس قصے کی تشریح کرتے ہوئے موسیٰ سے مراد بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت موسیٰ کو بتایا۔

اور جن سے اُن کی ملاقات ہوئی اُن کا نام تمام احادیث میں خضر بتایا گیا۔ ویسے بھی حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ تک حضرت موسیٰ کے ساتھ جانے والے ان کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا۔

البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔

Getty Imagesعراق میں بسنے والی کئی کمیونٹیز کا عقیدہ ہے کہ حضرت خضر کا مسکن دریائے دجلہ ہے اور یہ کہ وہ آج بھی مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتے ہیںمصلحت

مودودی لکھتے ہیں کہ اس قصے میں ایک بڑی پیچیدگی ہے جسے رفع کرنا ضروری ہے۔

’حضرت خضر نے جو تین کام کیے اُن میں سے تیسرا کام تو خیر شریعت سے نہیں ٹکراتا مگر کوئی شریعت بھی کسی انسان کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی چیز کو خراب یا عیب دار کر دےاور کسی متنفس (جاندار) کو بے قصور قتل کر ڈالے۔ اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کے ان تکوینی (نظامِ قدرت سے متعلق) احکام سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے تحت دنیا میں ہر آن کوئی بیمار ڈالا جاتا ہے اور کوئی تندرست کیا جاتا ہے، کسی کو موت دی جاتی ہے اور کسی کو زندگی سے نوازا جاتا ہے، کسی کو تباہ کیا جاتا ہے اور کسی پر نعمتیں نازل کی جاتی ہیں۔‘

’اب اگر یہ تکوینی احکام ہیں تو اُن کے مخاطب صرف فرشتے ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ذاتی اختیار کے بغیر صرف اوامر الہٰیہ ( اللہ کے احکام) کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے کہ انسان احکام شرعیہ کا مکلف (پابند) ہے اور اصول شریعت میں کہیں یہ گنجائش نہیں پائی جاتی کہ کسی انسان کے لیے محض اس بنا پر احکام شرعیہ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی جائز ہو کہ اسے بذریعہ الہام اِس کا حکم ملا اور بذریعہ علم غیب اس خلاف ورزی کی مصلحت بتائی گئی۔‘

’اس بات پر نہ صرف تمام علمائے شریعت متفق ہیں بلکہ اکابر صوفیا بھی بالاتفاق یہی بات کہتے ہیں۔ چنانچہ علامہ آلوسی نے تفصیل کے ساتھ عبد الوہاب شعرانی، محی الدین ابن عربی،مجدد الف ثانی، شیخ عبد القادر جیلانی، جنید بغدادی، سَریسقطی، ابوالحسین النوری، ابو سعید الخراز، ابو العباس احمد الدینوری اور امام غزالی کے اقوال نقل کر کے یہ ثابت کیا کہ اہل تصوف کے نزدیک بھی کسی ایسے الہام پر عمل کرنا خود صاحب ِالہام تک کے لیے جائز نہیں جو نص (حکم)شرعی کے خلاف ہو۔‘

’اس کے بعد ہمارے لیے اس پیچیدگی کو فرو (دور) کرنے کی صرف یہی ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم ’خضر‘ کو فرشتوں میں سے، یا اللہ کی کسی اور ایسی مخلوق میں سے سمجھیں جو شرائع کی مکلف (پابند) نہیں بلکہ کار گاہ مشیت (خدا تعالیٰ کی مرضی اور خواہش) کی کارکن ہے۔ متقدمین (پہلے زمانے کے لوگ) میں سے بھی بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے جسے ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں (مفسر، محدث اور فقہ شافعی کے عالم) ماوردی کے حوالہ سے نقل کیا۔‘

مشرق وسطیٰ میں اور کئی دیگر جگہوںپر بہت سے مسلمان اور مسیحی ایک ہی مقام پر حضرت خضر اور حضرت الیاس یا حضرت خضر اور سینٹ جارج کی یاد مناتے ہیں۔

’انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا‘ کے لیے نوح ٹیش کی گئی تحقیق کے مطابق انڈیا اور پاکستان میں حضرت خضر کو خواجہ خضر سمجھا جاتا ہے جو سمندر اور دریا کے مسافروں کے محافظ کے طور پر مشہور ہیں۔ صوفیا میں حضرت خضر کو ولیوں اور روحانی بزرگوں سے جوڑا گیا۔

ان بحثوں سے بچتے ہوئے کہ حضرت خضر انسان تھے اور نبی تھے یا فرشتہ، وہ زندہ ہیں یا نہیں، اور اُن کی عمر کتنی تھی یا ہے، قرآن میںقصہ خضر و موسیٰ کے بیان کا مقصد دیکھتے ہیں۔

تفہیم القرآن میں ہے کہ ’قصہ خضر و موسیٰ کفار کے سوالات کا جواب بھی تھا اور مومنین کے لیے سامان تسلی بھی کہ اللہ کی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ چونکہ تمہاری نظر سے پوشیدہ (چھپی ہوئی) ہیں اس لیے تم بات بات پر حیران ہوتے ہو کہ یہ کیوں ہوا؟ یہ کیا ہو گیا؟ یہ تو بڑا غضب ہوا!‘

’حالانکہ اگر پردہ اُٹھا دیا جائے تو پتا چلے کہ بظاہر جس چیز میں برائی نظر آتی ہے آخر کار وہ بھی کسی نتیجہ خیر (اچھے نتیجے) ہی کے لیے ہوتی ہے۔‘

’اللہ کی قدرت کی یہ نشانی تمام تر مشکلات کے بعد بنی اسرائیل نے بھی عروج پا کر دیکھ لی اور کئی سال ظلم و ستم سہنے کے بعد فتحِ مکہ کے موقع پر مسلمانوںنے بھی۔‘

یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟اصحابِ کہف: سینکڑوں برسوں تک سونے والے نوجوانوں اور اُن کے کتے کا واقعہ مسیحی روایات اور قرآن میں کیسے بیان کیا گیا؟طوفان، کشتی اور کوہ جودی: حضرت نوح کا قصہ جو اسلام سمیت تین مذاہب میں بیان کیا گیاقدیم تہذیبوں میں ’جہنم‘ کا تصور اور دنیا کے مذاہب میں عالم برزخ کو کیسے بیان کیا گیاہُدہُد کی خبر سے شیش محل تک: سورج پرست ملکہ سبا کے حضرت سلیمان کے ہاتھ ایمان لانے کا واقعہ اسلام اور دیگر مذاہب میںمعاویہ بن ابو سفیان پر بننے والی سعودی سیریز پر ایران، عراق میں پابندی اور مصر میں تنقید کیوں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More