افغانستان اور پاکستان میں نیٹو اور سوویت اسلحے کی سمگلنگ جاری

اردو نیوز  |  Apr 04, 2025

جنیوا میں قائم ایک ادارے سمال آرمز سروے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے تین برس سے زائد عرصے کے بعد بھی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نیٹو اور سوویت ہتھیاروں کی سمگلنگ اور غیر قانونی فروخت جاری ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ’افغانستان میں اسلحے کی دستیابی کی دستاویز‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021 تک، افغانستان کے پاس دو لاکھ 58 ہزار 300 رائفلیں تھیں، جن میں ایم4، ایم16 اور اے کے کی مختلف قسمیں، 64 ہزار 300 پستول، 63 ہزار سنائپر رائفلیں، 56 ہزار 155 ہلکی، درمیانی اور بھاری مشین گنیں، 31 ہزار گرینیڈ لانچرز، نو ہزار 115 شاٹ گنز، 60-82 ملی میٹر کے 1845 راؤنڈز، نیز سیکڑوں ہزاروں اسلحے سے جڑا سامان اور گولہ بارود شامل تھے۔

اس رپورٹ میں 2022 سے 2024 تک افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں غیررسمی بازاروں میں چھوٹے ہتھیاروں، ہلکے ہتھیاروں، اسلحے کے حوالے سے سامان اور گولہ بارود کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے کی گئی زمینی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سرحد پار سے سمگلنگ میں بہت زیادہ تیزی نہیں ہے لیکن نیٹو اور سوویت طرز کے ہتھیار اب بھی افغانستان کے مشرقی صوبوں اور پاکستان کے سابقہ قبائلی اضلاع میں مل رہے ہیں۔

اگرچہ ہتھیاروں کے انتظام کے طریقوں میں گذشتہ تین برسوں میں بہتری آئی ہے، لیکن ان کے اطلاق کے حوالے سے صوبوں اور کمیونٹیز میں تضاد رہتا ہے۔ اور ادارہ جاتی کمزوریاں، بشمول محدود تکنیکی صلاحیت اور کاغذ پر مبنی نظام پر انحصار، طالبان کے کنٹرول کی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔ جبکہ غیرقانونی منڈیوں کا رخ اور ’مختلف غیرریاستی مسلح گروہوں کو جان بوجھ کر ہتھیاروں کی فراہمی‘ اہم خدشات ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’طالبان کے نچلے درجے کے عہدیداروں کی خاموش منظوری کے ساتھ اسلحے کی سمگلنگ جاری ہے۔‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)گذشتہ مہینے کے آخر میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ’طالبان کے قبضے کے تین برس سے زائد عرصے بعد اور گذشتہ حکومت کے اسلحے کے ذخیرے پر قبضے کے بعد، عبوری حکومت کے حکام نے کمانڈروں پر کنٹرول کو مضبوط کیا ہے اور شہریوں اور نجی کاروباروں کی اسلحے تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔‘

’تاہم اسلحے کی سمگلنگ جاری ہے، ممکنہ طور پر کم از کم طالبان کے نچلے درجے کے عہدیداروں کی خاموش منظوری کے ساتھ۔ اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نامزد دہشت گرد گروپوں بشمول تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کو بھی اسلحے کی سمگلنگ جاری ہے۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More