’دہائیوں کا ریکارڈ توڑتی سردی کی لہر‘: کیا پاکستان میں کوئی ’غیر معمولی سسٹم‘ داخل ہونے والا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 12, 2026

’ہوشیار، خبردار! آئندہ چند روز میں یخ بستہ ہوائیں، بارش اور طوفان، پہاڑی علاقوں سمیت کئی میدانی علاقوں میں برف باری، درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے اور پاکستان میں دہائیوں کا ریکارڈ توڑتی سردی ۔۔۔‘

اس نوعیت کے مختلف پیغامات اتوار کی دوپہر سے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا پر گردش کرتے دکھائی دیے۔

یہی نہیں بلکہ ان میں سندھ سے لے کر بلوچستان اور پنجاب سے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں بارش، ژالہ باری اور برف باری کے دعوے موجود تھے۔

ایسا ہی ایک پیغام سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘

اسی کے درمیان کئی دوستوں نے میسیج بھیج کر سوال کیا کہ آخر پاکستان میں عنقریب ایسا کون سا سلسلہ آ رہا ہے جو تلہ گنگ اور چکوال میں بھی برف باری کا باعث بنے گا۔

لیکن کیا واقعی پاکستان سمیت خطے میں شدید سردی پڑنے والی ہے؟

دوستوں اور قارئین کے انھی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے ہم نے رابطہ کیا محکمہ موسمیات سے۔

’ایسا کوئی سسٹم نہیں آ رہا جو غیر معمولی ہو‘

چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر بابر نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’ہر سال اس نوعیت کے گمراہ کن الرٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں تاہم ایسا کوئی سسٹم پاکستان میں نہیں آ رہا جو باعث پریشانی یا غیر معمولی نوعیت کا ہو۔‘

چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر بابر کا کہنا تھا کہ ’اگر اسلام آباد کی ہی بات کریں تو یہاں بھی 11 جنوری کو کم سے کم درجہ حرارت صفر کو تو چھوا ہے تاہم یہ جنوری میں ابھی تک منفی پر نہیں جا سکا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’چند سال قبل بہت شدید موسم کے دوران مارگلہ کے پہاڑ کی چوٹی پر تو ہلکی برف پڑی تھی تاہم ایسا کوئی نظام اس وقت ملک میں کہیں موجود نہیں۔‘

یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے جنوری کے ماہ کی پیشن گوئی میں خبردار کیا ہوا ہے کہ رواں مہینے معمول سے کچھ اوپر ہی درجہ حرارت رہنے کا امکان ہے جبکہ موسم سرما کی بارش بھی معمول سے قدرے کم ہونے کی ہی پیش گوئی کی جا چکی ہے۔

ادارے کے مطابق معمول سے کم بارشیں اور برف باری کی کم مقدار کے باعث موسم گرما میں پانی کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

غیرمعمولی طوفان، آسمانی بجلی اور ’رات جیسی تاریکی‘: ’راولپنڈی میں اتنی خوفناک آندھی نہیں دیکھی‘آندھیاں، فلیش فلڈ اور گیند جتنے بڑے اولے: کیا ایپسبہتر پیش گوئی کرکے ہمیں محکمہ موسمیات سے پہلے خبردار کر سکتی ہیں؟’نامعلوم زلزلہ‘: زمین میں لگاتار نو دن تک تھرتھراہٹ کا معمہ کیسے حل ہوادبئی کی قدیم گلیوں کے تعمیراتی راز جو شدید گرمی میں بھی ٹھنڈک برقرار رکھتے ہیںBBC2016 میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ملحق مارگلہ کے پہاڑی سلسلے پر برفباری ہوئی تھی

ملک کے اکثر علاقے ان دنوں سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ یاد رہے کہ 2025 کے دسمبر کا تقریبا آدھا مہینہ تو خشک موسم کی لپیٹ میں ہی رہا تاہم اس کے بعد بالائی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری بھی محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے کم ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات اسلام آباد کے ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ اس وقت بالائی علاقوں سمیت ملک کے چند دیگر علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود تو ہے تاہم دو سے تین دن تک موسم کم و بیش یہی رہے گا جیسا کہ ان دنوں ہے۔

’البتہ ایک سسٹم بننا شروع ہو رہا ہے جس کے تحت امکان ہے کہ 18 دسمبر سے ملک کے اکثر علاقوں کو بارشوں کا نظام اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس دوران پہاڑی علاقوں اور گلگت بلتستان میں بارف باری بھی ہو گی۔‘

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ’ابھی ہم مانیٹر کر رہے ہیںاور اگلے دو سے تین دن میں صورتحال واضح ہو پائے گی لیکن یہ سسٹم ہرگز ایسا نہیں جس کا دعویٰ سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر بحث

یوں تو موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی لحاف رضائیاں، کمبل اور گرم کپڑے نکل آتے ہیں تاہم کراچی سمیت کئی شہروں میں سردی زیادہ شدت نہیں دکھا پاتی اور وہاں کے مکین اس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی برملا کرتے ہیں۔

ایسے ہی ’فیک الرٹ‘ کے نیچے اپنی رائے میں کراچی کے ایک رہائشی عماد نے لکھا کہ ’بھائی میدانی علاقوں کو برف سے سفید ڈھانپ دیا اور درجہ حرارت بھی صفر، پڑھتنے سے ہی کپکپی لگ گئی ہے۔‘

جب صارفین نے گروک سے لاہور کی برف باری کا سوال کیا اور انھیں جواب ملا کہ محکمہ موسمیات کی ایسی پیش گوئی فی الحال نہیں تو کئی صارفین نے اس پر افسوس کا ردعمل دیا۔

شاہینہ عزیز نامی صارف نے لکھا کہ ’میرے خواب بکھر گئے۔ خیالوں میں سویٹرز اور شالز کے انبار خرید ڈالے اور تو اور لاہور میں برف باری کے مناظر بھی چشم تصور سے دیکھ رکھے تھے۔ یہ پیش گوئیاں کرنے والے کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔‘

آئندہ دنوں موسم کیسا ہو گا؟

محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر موجود جنوری کے مہینے میں موسم کی پیش گوئی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ’جنوری 2026 کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں تقریبا معمول کی بارش متوقع ہے، تاہم شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں معمول سے کچھ کم بارش کا امکان ہے۔‘

ویب سائٹ کے مطابق ’وسطی اور جنوبی علاقے، جن میں سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر حصے شامل ہیں، موسم کے اوسط کے قریب رہنے کی توقع ہے تاہم شمال مغربی پاکستان میں معمول سے کچھ زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو غالباً موسمِ سرما کی مغربی ہواؤں کی سرگرمی سے منسلک ہے۔‘

اس آؤٹ لک میں کسی بڑے پیمانے پر غیر معمولی بارش کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے تاہم یہ لکھا ہے کہ مقامی سطح پر شدید بارش کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دبئی کی قدیم گلیوں کے تعمیراتی راز جو شدید گرمی میں بھی ٹھنڈک برقرار رکھتے ہیںغیرمعمولی طوفان، آسمانی بجلی اور ’رات جیسی تاریکی‘: ’راولپنڈی میں اتنی خوفناک آندھی نہیں دیکھی‘آندھیاں، فلیش فلڈ اور گیند جتنے بڑے اولے: کیا ایپسبہتر پیش گوئی کرکے ہمیں محکمہ موسمیات سے پہلے خبردار کر سکتی ہیں؟’ایک شیشہ گیارہ سے بارہ لاکھ میں خریدنا پڑے گا‘: اولے پڑتے کیوں ہیں اور کہاں بنتے ہیں؟’نامعلوم زلزلہ‘: زمین میں لگاتار نو دن تک تھرتھراہٹ کا معمہ کیسے حل ہوا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More