گوانتانامو میں قید ابو زبیدہ کو برطانیہ کی جانب سے ’بھاری رقم‘ کی بطور زرِتلافی ادائیگی

بی بی سی اردو  |  Jan 12, 2026

BBCابو زبیدہ کو سنہ 2002 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا، وہ 20 برس سے گوانتانامو بے جیل میں قید ہیں

انتباہ: اس خبر میں شامل کچھ تفصیلات بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔

برطانوی حکومت نے گوانتانامو بے جیل میں 20 برس سے قید ابو زبیدہ کو زرتلافی کے طور پر ’بھاری رقم‘ کی ادائیگی کی ہے۔

ابو زبیدہ پر القاعدہ کا سینیئر رہنما ہونے اور اُسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اُنھیں بغیر کسی الزام اور جرم ثابت ہونے کے 20 برس سے گوانتانامو بے جیل میں رکھا گیا ہے۔

ابو زبیدہ نے اپنی وکیل کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا کہ برطانوی حکومت نے اُن پر ہونے والے بدترین تشدد سے چشم پوشی کی جو برطانوی قوانین کے بھی خلاف تھا۔

فلسطینی نژاد ابو زبیدہ کو امریکی تحقیقاتی ادارے (سی آئی اے) کی جانب سے جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ابو زبیدہ وہ پہلے مبینہ دہشت گرد تھے جن کے خلاف نائن الیون کے بعد سی آئی اے نے تشدد کے مزید وسیع طریقے اپنائے تھے۔

اُن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ القاعدہ کے سینیئر رہنما ہیں۔ لیکن بعد ازاں امریکی حکومت اپنے اس الزام سے دستبردار ہو گئی تھی۔

برطانوی خفیہ ایجنسیوں ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس نے ابو زبیدہ سے تحقیقات کے لیے کچھ سوالات سی آئی اے کو بھجوائے تھے، حالانکہ ان خفیہ ایجنسیوں کو معلوم تھا کہ ابو زبیدہ کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا جا رہا ہے۔

ابو زبیدہ نے اپنی وکیل کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ خفیہ اداروں نے تشدد کے معاملے کو ’نظرانداز‘ کیا۔ مقدمے کا اختتام ابو زبیدہ کو معاوضے کی ادائیگی کے حکم سے ہوا ہے۔

ابو زبیدہ کی وکیل پروفیسر ہیلین ڈفی نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ معاوضہ اہم ہے۔ یہ بہت غیر معمولی ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘

اُنھوں نے برطانیہ اور دیگر حکومتوں پر زور دیا کہ ’برطانیہ اور دیگر حکومتوں کی یہ مشترکہ ذمے داری ہے کہ وہ ابو زبیدہ پر جاری تشدد اور اُن کی غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اُٹھائیں اور اُن کی رہائی یقینی بنائیں۔‘

ہیلین ڈفی کا کہنا تھا کہ ابو زبیدہ کے حقوق کی یہ خلاف ورزیاں ماضی کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے۔

مارچ 2002 میں پاکستان سے پکڑے جانے کے بعد ابو زبیدہ کو، جنھیں اس وقت کے امریکی صدر بش کی انتظامیہ القاعدہ کا سینئیر رکن، منصوبہ ساز اور انتہائی مطلوب دہشت گرد قرار دیتی تھی، تھائی لینڈ اور پولینڈ سمیت مختلف سی آئی اے ’بلیک سائٹس‘ میں رکھا گیا تھا۔

سی آئی اے کی حراست میں انھیں دوران تفتیش بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ابو زبیدہ کو دوران تفتیش 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ انھیں نیند سے محروم رکھا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں 11 دن کے لیے تابوت نما ڈبے میں بند کیا گیا تھا۔

سی آئی اے کی حراست کے دوران ابو زبیدہ کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی تھی۔

ٹرمپ کے جارحانہ ’پاور پلے‘ کے سامنے پوتن اب تک خاموش کیوں ہیں؟بشار الاسد کے دور میں سیاسی قیدی بنائی گئی شامی ماؤں کو اپنے بچوں کی تلاش: ’ایسی خواتین بھی ہیں جنھوں نے تین یا چار بچے کھوئے‘’ابو زبیدہ جس قید اور تشدد سے گزرے ہیں وہ ان کی سزا سے بہت زیادہ ہے‘گوانتانامو بے: انسانوں سے غیرانسانی سلوک مگر اگوانا کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں

برطانوی دفتر خارجہ جو ایم آئی سکس کے معاملات بھی دیکھتا ہے نے کہا کہ وہ انٹیلی جنس سے متعلقہ معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ابو زبیدہ کو معاوضے کی صورت میں کتنی رقم ملے گی، کیونکہ قانونی وجوہات کی بنا پر ان تفصیلات کو عام نہیں کیا گیا۔

لیکن ہیلین ڈفی کہتے ہیں کہ یہ اچھی خاصی رقم ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ لیکن فی الحال ابو زبیدہ یہ رقم خود حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

ابو زبیدہ کے مقدمے کا جائزہ لینے والی برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ڈومینک گریو کہتے ہیں کہ ابو زبیدہ کو زر تلافی ملنا ’غیر معمولی‘ ہے۔ لیکن جو کچھ اُن کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بہت غلط ہے۔

سعودی عرب میں پیدا ہونے والے ابو زبیدہ کو بغیر کسی الزام اور جرم ثابت ہونے کے سنہ 2006 سے کیوبا میں امریکی فوج کی گوانتانامو بے جیل میں رکھا گیا ہے۔

وہ اُن 15 قیدیوں میں شامل ہے جنھیں متعدد عدالتی فیصلوں اور سرکاری رپورٹس میں اُن کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا ہے۔

اُنھیں گوانتانامو بے کا ’تاحیات قیدی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ابو زبیدہ کو سنہ 2002 میں پاکستان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اُنھیں پولینڈ اور لیتھونیا سمیت چھ ممالک میں قائم سی آئی اے کی ’بلیک سائٹس‘ میں رکھا گیا۔

’بلیک سائٹس‘ سی آئی اے کی جانب سے قائم کے گئے وہ حراستی مراکز ہیں، جن پر امریکی عدالتی نظام لاگو نہیں ہوتا۔ ابو زبیدہ وہ پہلے قیدی تھے جنھیں ان میں سے ایک مرکز میں منتقل کیا گیا تھا۔

ابو زبیدہ کو تحویل میں لینے کے بعد سی آئی اے کے افسران نے کہا تھا کہ اب باقی زندگی تک اُن کا دُنیا سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔

ایم آئی سکس کے اندرونی پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ابو زبیدہ جیسا تشدد انتہائی سخت جان امریکی کمانڈوز پر کیا جاتا تھا اُن میں سے 98 فیصد اسے نہ سہہ پاتے۔ اس سب کے باوجود برطانوی خفیہ اداروں کو ابو زبیدہ پر تشدد نہ کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنے میں چار برس لگے۔

BBC

ابو زبیدہ کی گرفتاری کو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں اہم کامیابی قرار دیا گیا تھا۔

اُس وقت کے امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے خود اس گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ابو زبیدہ القاعدہ کے سینئر رہنما تھے، جو ’قتل عام کی سازش‘ کر رہے تھے۔‘

امریکی حکومت نے بعدازاں یہ الزامات واپس لے لیے تھے اور بعد میں اُن کے القاعدہ کے رہنما ہونے کا بھی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

نائن الیون کے بعد سی آئی اے کی جانب سے ابو زبیدہ کے خلاف استعمال کیے گئے متنازع تفتیشی طریقے کے لیے ’گنی پگ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔

امریکی سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ابو زبیدہ کے ساتھ تواتر کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا تھا، جو برطانوی معیارات کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اُنھیں 83 مرتبہ واٹر بورڈ یعنی بار بار چہرہ پانی میں ڈبونے کا طریقہ اور تابوت نما ڈبے میں کئی روز تک بند رکھنے جیسا ٹارچر شامل تھا جبکہ مار پیٹ معمول کی بات تھی۔

ڈفی کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسیوں نے ابو زبیدہ سے تفتیش کے لیے ایسے سوالات بھیجے، جس کی وجہ سے اُن پر تشدد میں مزید اضافہ ہوا۔

امریکی سینیٹ کی رپورٹ اور پھر سنہ 2018 میں برطانوی پارلیمان کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کمیٹی کی رپورٹس میں بھی ابو زبیدہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

پارلیمانی کمیٹی نے ایم آئی فائیو اور سکس کے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائند خالد شیخ محمود کے معاملے پر بھی برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی تھی۔ کمیٹی نے یہ سوال بھی اُٹھایا تھا کہ خالد شیخ محمد بھی برطانوی حکومت کے خلاف اس نوعیت کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔

گریو کہتے ہیں کہ ’اس معاملے میں برطانیہ کو امریکہ کے ساتھ حکومتی سطح پر بات کرنی چاہیے تھی اور اگر ضروری سمجھا جاتا تو ان کے ساتھ تعاون بھی ختم کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے اور بہت سا وقت ایسے ہی گزر گیا۔‘

ڈفی کہتی ہیں کہ ابو زبیدہ رہائی چاہتے ہیں اور وہ آزادی کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں پراُمید ہوں کہ زرتلافی کی رقم سے وہ ایسا کر سکیں گے اور باہر کی دُنیا کے ساتھ اپنا تعلق جڑنے پر وہ ایک نئی زندگی شروع کر سکیں گے۔‘

لیکن وہ کہتی ہیں کہ ابو زبیدہ کی رہائی کا انحصار امریکہ اور اتحادیوں کی رضا مندی پر ہی ہو گا۔

اسامہ بن لادن سے ملاقات پراچہ خاندان کو کتنی مہنگی پڑی؟بگرام جیل:’میری یہی کوشش تھی کہ مجھے زندہ چھوڑ دیں‘خالد شیخ محمد: 9/11 کے منصوبہ ساز جنھوں نے ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے طیارے ٹکرانے کا منظر کراچی کے ایک انٹرنیٹ کیفے میں دیکھا‘جب 9/11 حملوں کا سہولت کار کراچی سے پکڑا گیانائن الیون: طیاروں کی ٹکر کے بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر گر کیوں گیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More