’سمندروں پر کنٹرول کی خواہش‘: اربوں ڈالر کی تجارت یقینی بنانے والی اہم بحری گزرگاہیں سعودی عرب اور امارات کے درمیان رقابت کا میدان کیسے بنیں؟

بی بی سی اردو  |  Jan 22, 2026

Getty Images’سمندری راستے امارات کے لیے محض جغرافیائی عیاشی نہیں بلکہ اس کی اقتصادی خوشحالی کا بنیادی ڈھانچہ ہیں‘

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ دنوں میں سعودی سرکاری چینل ’الاخباریہ‘ نے اماراتی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف میڈیا مہمات کو ہوا دے رہی ہے۔

’الاخباریہ‘ پر اتوار کو نشر ہونے والی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے یا خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف ضروری اقدامات کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہو گا۔

ریاض اور ابوظہبی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جو محض ظاہری اختلافات سے آگے بڑھ کر خطے کے جغرافیائی سیاسی تنازع کے بنیادی پہلوؤں کے گرد گھومتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہیں دونوں خلیجی پڑوسیوں کے درمیان غیر اعلانیہ رقابت کا میدان بن گئی ہیں؟

یہ سوال ہمیں براہِ راست یمن کی طرف لے جاتا ہے، جس کے پاس بحرِ ہند، بحیرۂ عرب اور بحیرۂ احمر کے ساتھ 2000 کلومیٹر سے زائد کی ساحلی پٹی ہے۔ اِسی راستے سے دنیا کی تقریباً 10 سے 12 فیصد تجارت ہوتی ہے۔ یمن باب المندب کی سٹریٹجک آبنائے پر بھی قابض ہے، جہاں سے تجارتی اور فوجی جہاز، بشمول سعودی تیل بردار جہاز، گزرنے پر مجبور ہیں۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس اینڈ سکیورٹی سے وابستہ یمنی محقق براء شیبان نشاندہی کرتے ہیں کہ امارات نے علاقائی پانیوں میں نمایاں موجودگی قائم کر رکھی ہے۔ اس کی مثال صومالی لینڈ کے علاقے میں بر بیرا بندرگاہ میں سرمایہ کاری، اریٹیریا میں فوجی اڈے اور یمن میں وہ اڈے ہیں جو امارات نے سنہ 2025 کے آخر میں وہاں قائم کیے تھے۔

بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو میں شیبان نے کہا کہ امارات کی علاقائی موجودگی سمندری حدود پر مضبوط گرفت اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات پر مبنی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ میری ٹائم سکیورٹی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے حوالے سے امریکہ کا بوجھ کچھ کم کیا جا سکے۔

اُن کے مطابق اس صورتحال نے خطے میں امارات اور سعودی عرب کے درمیان ایک طرح کی رقابت کو جنم دیا ہے۔

شیبان نے وضاحت کی کہ امارات نے یمن میں مسلح افواج اور فوجی اڈوں کا جال بچھا کر اور صومالی لینڈ کے بر بیرا بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے ذریعے، پورٹ آف عدن میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔

Getty Images’ابوظہبی ایسا سمندر نہیں چاہتا جو صرف اس کا ہو، بلکہ ایسا سمندر چاہتا ہے جو سب کے لیے کام کرے‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس بندرگاہ پر کنٹرول امارات کو علاقائی سمندری حدود میں نمایاں حیثیت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اُن کے مطابق یہ منصوبہ اُس وقت ختم ہوا جب سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت کے ذریعے امارات کو یمنی بندرگاہوں اور مجموعی طور پر لگ بھگ پورے ملک سے بے دخل کر دیا۔

دوسری جانب امارات سے تعلق رکھنے والے سیاسی ماہر امجد طہ کا خیال ہے کہ اس معاملے کو کئی سطحوں پر جانچا جا سکتا ہے۔

اُن کے مطابق ’اول، عدن یمن کا قدرتی جنوبی گیٹ وے ہے اور اس کا استحکام یمن کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہے۔ دوم، صومالی لینڈ دوسری طرف ایک لاجسٹک پوائنٹ ہے جو راستوں کو متنوع بنانے، تجارتی آبی گزرگاہوں پر دباؤ کم کرنے اور مقامی ترقی میں مدد دیتا ہے۔‘

وہ عدن اور صومالی لینڈ کے تعلق پر کہتے ہیں کہ جب دونوں جانب سہولیات بہتر ہوں گی تو قزاقی، سمگلنگ اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں کم ہوں گی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی بڑھی تو کیا پاکستان غیرجانبدار رہ پائے گا؟کیا انڈیا، متحدہ عرب امارات میں دفاعی شراکت داری کا اعلان پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کا جواب ہے؟

انھوں نے بی بی سی نیوز عربی سے گفتگو میں مزید کہا کہ ’باب المندب آج ایک عالمی گزرگاہ ہے، اور اس میں کسی بھی رکاوٹ کا اثر تجارت، توانائی، خوراک اور حتیٰ کہ سمندری انشورنس پر پڑتا ہے۔ لہٰذا اس کی سلامتی تقریروں سے نہیں بلکہ دونوں جانب متحرک معیشت سے یقینی بنائی جا سکتی ہے، جو انتشار اور دہشت گردوں کی دراندازی کو روکتی ہے، بشمول اخوان المسلمون اور جہادی گروہوں کے۔‘

امارات کی علاقائی توسیع کو اسرائیل کے ساتھ تعاون کی ایک شکل کے طور پر دیکھا گیا ہے، خاص طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی اور اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے بعد۔ یہ طرزِعمل بحیرۂ احمر کے حوالے سے سعودی وژن سے متصادم ہے۔

یمنی محقق براء شیبان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم سعودی نقطۂ نظر کو دیکھیں، کم از کم صومالی لینڈ کے حوالے سے، تو سعودی یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان ایک قسم کا اتحاد ہے، جس کا مقصد اسرائیل کی موجودگی کو ان علاقوں میں مضبوط کرنا ہے جو روایتی طور پر اسرائیل کے لیے دوستانہ نہیں رہے۔‘

ان کے مطابق اسرائیل سنہ 2020میں امارات کے ساتھ طے پانے والے ابراہم معاہدے کو استعمال کر رہا ہے تاکہ دنیا کے اس اہم حصے میں اپنی موجودگی کو بڑھا سکے۔

Getty Imagesاسرائیلی وزیر خارجہ کی صومالی لینڈ کے صدر سے ملاقات

دوسری جانب اماراتی سیاسی تجزیہ کار امجد طہ کا کہنا ہے کہ سمندری راستے امارات کے لیے محض جغرافیائی عیاشی نہیں بلکہ اس کی اقتصادی خوشحالی کا بنیادی ڈھانچہ ہیں۔ امارات مشرق اور مغرب، پیدا کنندہ اور صارف، اور منڈی اور مواقع کے درمیان ایک پل کے طور پر اپنی حیثیت پر انحصار کرتا ہے۔

اُن کے مطابق ان راستوں میں کسی بھی رکاوٹ کا فوری اثر افراطِ زر اور سپلائی چین پر پڑتا ہے، جس سے بچنے کی امارات کوشش کر رہا ہے۔

خطے میں مختلف قوتوں کے باہمی مفادات اور طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلیوں نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

براء شیبان کے مطابق، یمن میں امارات کی بھاری سرمایہ کاری اور سدرن ٹرازیشنل کونسل کی حمایت کے باوجود وہ (امارات) ناکام رہا، اور اس کا فائدہ سعودی عرب کو ہوا۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ امارات اب بھی اریٹیریا میں فوجی تعیناتی اور سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں اماراتی مداخلت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ آبناؤں اور علاقائی پانیوں پر رقابت کے خطرات کو کس طرح دیکھتا ہے۔

امجد طہ کا خیال ہے کہ اگرچہ بندرگاہوں اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں اقتصادی اوورلیپ موجود ہے مگر بحیرۂ احمر میں سعودی اور اماراتی مفادات باہمی فائدے کے حامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو یکساں خطرات کا سامنا ہے، جن میں جہاز رانی کے مسائل، اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ، دہشت گرد گروہ، حوثی تحریک کی دھمکیاں اور تجارتی رکاوٹیں شامل ہیں۔ اسی لیے، اُن کے نزدیک، امارات کا بحیرۂ احمر میں منصوبہ تصادم نہیں بلکہ استحکام کا منصوبہ ہے۔

Getty Imagesسعودی عرب کو خدشہ ہے کہ اسرائیل، امارات کے ساتھ طے پانے والے ابراہم معاہدے کو استعمال کر رہا ہے تاکہ دنیا کے اس اہم حصے میں اپنی موجودگی کو بڑھا سکے

انھوں نے کہا کہ اگر اثر و رسوخ کا مطلب تجارت کا تحفظ، بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری اور استحکام کی حمایت ہے تو امارات ایک عالمی تجارتی ملک کے طور پر اپنا قدرتی حق استعمال کر رہا ہے۔

اُن کے مطابق ابوظہبی سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں قزاقی اور سمگلنگ کے خلاف کارروائی اور بین الاقوامی آبی راستوں کا تحفظ شامل ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ یہ کوششیں اجتماعی عمل کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ابوظہبی ایسا سمندر نہیں چاہتا جو صرف اس کا ہو، بلکہ ایسا سمندر چاہتا ہے جو سب کے لیے کام کرے۔‘

اسی دورانیے میں سعودی عرب کا صومالیہ اور مصر کے ساتھ فوجی اتحاد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی اخبارات نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب افریقہ میں امارات کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے صومالیہ اور مصر کے ساتھ ایک نئے فوجی اتحاد کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ معلومات اس وقت سامنے آئیں جب صومالیہ نے امارات کے ساتھ اپنے سکیورٹی اور بندرگاہی معاہدے منسوخ کر دیے۔ صومالیہ نے الزام لگایا کہ امارات نے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ اس نے یمن کی سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے رہنما عیدروس الزبیدی کو صومالی لینڈ کے راستے سمگل کیا۔ یہ دعویٰ سعودی قیادت والے اتحاد نے کیا جو یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔

صومالیہ کے لیے خودمختاری کا مسئلہ زیادہ حساس ہو گیا ہے، کیونکہ وہ امارات اور اسرائیل کے صومالی لینڈ کے ساتھ تعلقات کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

اس وقت سعودی عرب اور مصر نے صومالیہ کی وحدت کی حمایت کی ہے اور اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کی مذمت کی ہے۔

یوں سعودی عرب کی جانب سے صومالیہ اور مصر کے ساتھ نئے فوجی اتحاد کی کوشش کو امارات اور اسرائیل کی علاقائی موجودگی بڑھانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خطے کی اہم بندرگاہوں اور آبی راستوں کے گرد سٹریٹجک کشیدگی بڑھ رہی ہے، جو سعودی، اماراتی رقابت اور نئے کھلاڑیوں کے اثر و رسوخ کے باعث غیرمتوقع تبدیلیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی بڑھی تو کیا پاکستان غیرجانبدار رہ پائے گا؟کیا انڈیا، متحدہ عرب امارات میں دفاعی شراکت داری کا اعلان پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کا جواب ہے؟متحدہ عرب امارات کو یمن کے بعد صومالیہ میں بھی مشکل صورتحال کا سامنا: امارات کے افریقی ملک سے خوشگوار تعلقات کشیدہ کیسے ہوئے؟’الزبیدی اماراتی افسران کی نگرانی میں ابوظہبی فرار ہوئے‘: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا دعویٰسعودی عرب کے شاہی خاندان کی دولت میں ایک سال میں 73 ارب ڈالر کا اضافہ: 2025 میں دنیا کے 10 ’امیر ترین خاندان‘ کون ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More