دنیا میں مقبول ہم جنس پرست خواتین کی محبت پر مبنی ڈرامے کس طرح کروڑوں ڈالر کی منافع بخش صنعت بنے

بی بی سی اردو  |  Jan 22, 2026

GMMTVہم جنس پرستی جوڑے کی محبت پر مبنی ٹی وی ڈرامے اب دنیا بھر میں مقبول ہو رہے ہیں

اپنے نئے ہائی سکول میں ’اونگسا‘ کی زندگی کا آغاز گھبراہٹ اور اکیلے پن کے احساس سے ہوا، لیکن جب اُن کی ملاقات سکول کی مقبول لڑکیوں میں سے ایک ’سن‘ سے ہوئی، تو تنہائی کا شکار اونگسا کو پہلی ہی نظر میں محبت ہو گئی۔

’سن‘ کے لیے اپنی محبت کے اِن جذبات کے اظہار سے خوفزدہ ’اونگسا‘ نے انسٹا گرام پر ’ارتھ‘ کے فرضی نام سے سن کو دوستی کا پیغام بھیجا۔ انسٹاگرام پر ’سن‘ کو یہ پیغام موصول ہونے کے بعد ایسا لگا کہ اُن کا خفیہ مداح (ارتھ) کوئی لڑکا ہے۔

اونگسا پھر حقیقی زندگی میں بھی سن کی دوست بن جاتی ہیں اور فرضی نام (ارتھ) سے بھی آن لائن اُن سے بات چیت جاری رکھتی ہیں۔

گہرے ہوتے تعلق کو دوسروں سے چھپانے کے جذباتی دباؤ کا مطلب ہے جوڑے میں جلد ہی علیحدگی ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

اونگسا روتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’مجھے ڈر تھا کہ لوگ آپ پر تنقید کریں گے کہ میرے جیسی لڑکی کے ساتھ آپ نے تعلق قائم کیا۔‘

لیکن ایک خوشگوار ملاپ کے دوران، سن مسکراتے ہوئے جواب دیتی ہیں کہ ’مجھے لوگوں کی نہیں، صرف آپ کی پروا ہے۔‘

تھائی لینڈ کی ٹی وی ڈرامہ سیریز ’بیڈ بڈی‘ میں ہم جنس پرست خواتین کو ہم جنس پرست مردوں کے کرداروں کے ساتھ شامل کرنا ایک تجربے کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن اب یہ تجربہ ٹی وی ڈراموں کی ایک بالکل ہی نئی صنف میں ڈھل گیا ہے، جو دنیا بھر میں مقبول ہو رہی ہے۔

’گرلز لوو‘ (یعنی لڑکیوں کی محبت) کے نام سے معروف ہونے والی ڈراموں کی یہ صنف اس وقت دنیا بھر کو ایشیا کی کامیاب ترین ثقافتی برآمدات میں سے ایک ہے اور اس کی مالیت کا تخمینہ کروڑوں ڈالرز لگایا جا رہا ہے۔

Wasawat Lukharang / BBC News Thai’جی ایم ایم‘ ٹی وی کی پہلی مکمل گرلز لوو سیریز کا نام ’23.5 ڈگریز، دیٹ دی ورلڈ از ٹِلٹڈ‘ ہے

انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں یہ تحریک ایل جی بی ٹی کی نمائندگی کو نئی شکل دے رہی ہے اور عالمی سطح پر فین کلچر کو پھر سے متعین کر رہی ہے۔ ’گرلز لوو‘ نے تھائی لینڈ کو اس تحریک کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

تھائی پروڈکشن کمپنی ’جی ایم ایم ٹی وی‘ کے نوپھارناچ چائیہ ومہون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابتدا میں ہم اس بارے میں زیادہ پُراعتماد نہیں تھے، مگر پھر ایک ہدایتکار کے طور پر، میں نے لڑکوں کی محبت والی کہانی میں لڑکیوں کا ایک جوڑا تجربے کے طور پر شامل کیا۔‘

اور تب، آن لائن مداحوں میں اس جوڑے کی مقبولیت فیصلہ کن موڑ بن گئی۔

نوپھارناچ چائیہ ومہون کہتے ہیں کہ ’ہم نے دیکھا کہ ایک رجحان اُبھر رہا ہے، لوگ بامعنی انداز میں لڑکیوں کے بارے میں بات کر رہے تھے، اور ایسی ڈرامہ سیریز کا مطالبہ کرنے لگے جس میں مرکزی کردار ہی خواتین ہوں۔‘

اور صارفین کے اس مطالبے پر ’جی ایم ایم ٹی وی‘ نے نے اپنی پہلی مکمل ’گرلز لوو‘ سیریز تیار کی۔

Napasin Samkaewcham / BBC News Thaiپانسا مِلک (بائیں) اور پیٹرانائیٹ لوو (دائیں)

’23.5 ڈگریز ڈیٹ، دی ورلڈ از ٹِلٹڈ‘ نامی اس سیریز کا مرکزی خیال اِسی نام سے لکھے گئے ایک ناول سے لیا گیا ہے جس میں پانسا مِلک اور پیٹرانائیٹ لوو نے بالترتیب اونگسا اور سن کے کردار ادا کیے ہیں۔

لیکن سنہ 2024 میں جب یہ سیریز نشر ہوئی، اس سے پہلے ہی ایک بڑا ٹی وی نیٹ ورک چینل تھری یہ رجحان بھانپتے ہوئے ’گیپ دی سیریز: پنک تھیوری‘ نشر کر رہا تھا۔ سات کروڑ کی آبادی والے ملک تھائی لینڈ میں مقبول ہونے والی ’گرلز لوو‘ کی یہ پہلی سیریز تھی، اور یوٹیوب پر اسے 30 کروڑ افراد نے دیکھا۔

سیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟مذہب اور سماج کے بندھن توڑ کر شادی کرنے والی منیشا اور ڈمپل کی لو سٹوریآٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیںسیکس کے دوران ’جنسی تسکین کے لیے گلا دبانے‘ جیسے خطرناک عمل کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

ذرائع ابلاغ کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’راکٹ میڈیا لیب‘ کے مطابق، سال ختم ہونے سے پہلے پہلے لڑکیوں کی محبت پر مبنی 21 سیریز تیار کی جا چکی تھیں جن میں خواتین کے 51 جوڑوں نے کام کیا تھا۔

اس کے بعد چین، تائیوان، فلپائن، جاپان، سنگاپور، کمبوڈیا، یہاں تک کہ امریکہ میں بھی گرلز لوو سیریز کی اداکاراؤں کو مداحوں سے ملوانے کے لیے کئی تقریبات منعقد کی گئیں، جن میں رقم ادا کر کے شامل ہوا جا سکتا تھا۔

ماضی میں عالمی سطح پر خواتین میں محبت کی کہانیاں جس طرح پیش کی جاتی تھیں، تھائی لینڈ کی سیریز میں پیش کی گئی کہانیاں اُن سے مختلف ہیں، اور اُن کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

GMMTVچین، تائیوان، فلپائن، جاپان، سنگاپور، کمبوڈیا، یہاں تک کہ امریکہ میں بھی گرلز لوو سیریز کی اداکاراؤں کو مداحوں سے ملوانے کے لیے کئی تقریبات ہو چکی ہیں

برطانیہ کے کنگز کالج لندن میں سکرین انڈسٹریز کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ایوا چیوک ین لی بتاتی ہیں کہ عالمی سطح پر جو کہانیاں پیش کی جاتی تھیں ان میں ہم جنس پرست خواتین، ہم جنس پرست مردوں یا دونوں جنسوں سے رجحان رکھنے والے کردار کسی نہ کسی المناک انجام سے دوچار ہوتے تھے، یا اچانک ہی کہانی سے غائب کر دیے جاتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جائزہ لیں تو دنیا بھر میں ٹیلی وژن پر خاتون کی خاتون سے محبت کی کہانیاں خاصی محدود ہیں، یہاں تک کہ ہالی وڈ میں بھی۔ اور ہم سکرین پر اکثر دیکھتے ہیں کہ ہم جنس پرست خواتین کے کردار یا تو مار دیے گئے، یا کسی ناخوشگوار اور المناک انجام سے دوچار ہوئے۔ یہ وہ ہے جسے ہم ڈیڈ لیزبیئن سنڈروم کہتے ہیں جس کے تحت سکرین پر ایل جی بی ٹی کرداروں کی زندگی المناک دکھائی جاتی ہے۔‘

لیکن تھائی لینڈ میں گرلز لوو کی کہانیاں اس بیانیے کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔

ڈاکٹر لی کہتی ہیں کہ ’تھائی لینڈ میں گرلز لوو کی کہانیوں کو جو چیز منفرد بناتی ہے وہ یہ ہے عموماً کرداروں کی زندگی زیادہ بھرپور انداز میں پیش کی جاتی ہے۔ جوڑے مشکلات کا سامنا تو کرتے ہیں لیکن زیادہ تر کہانیوں میں اُن کا رشتہ عموماً زیادہ اطمینان بخش اور خوشگوار ہوتا ہے اور کہانی کا انجام بھی اچھا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر لی نے مزید بتایا کہ ’تھائی گرلز لوو سیریز کے مرکزی کردار عموماً خاصے نسوانی ہوتے ہیں، اگرچہ کچھ کی شخصیت مضبوط بھی ہوتی ہے۔ حقیقی زندگی میں ہم جنس پرست خواتین مختلف اجسام اور مختلف اقسام کی ہوتی ہیں، اس لیے مجھے لگتا ہے کہ نمائندگی میں تنوع کے حوالے سے کچھ خدشات اب بھی موجود ہیں۔‘

Wasawat Lukharang / BBCNews Thaiبین الاقوامی سطح تک رسائی نے گرلز لوو ڈراموں کے رجحان کو مزید تقویت دی ہے، ایسی بہت سی سیریز یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں، اکثر پر تو کئی زبانوں کے سب ٹائٹلز کی سہولت بھی موجود ہے

برازیل سے تعلق رکھنے والی لوئیزا زی ان ڈراموں کی مداح ہیں۔ وہ بی بی سی نیو کو بتاتی ہیں کہ تھائی گرلز لوو پر مبنی ڈرامے دیکھتے ہوئے پہلی بار انھیں احساس ہوا کہ ’خواتین کے درمیان محبت کو ضمنی ہی نہیں، مرکزی کہانی بھی بنایا جا سکتا ہے۔ جس طرح ان کا تعلق قائم ہوا، جس طرح ان کے رشتے کی گہرائی، مشکلات اور جذبات دکھائے گئے، وہ سب بہت خوبصورت تھا۔‘

لوئیزا کہتی ہیں کہ کہانی کا خوشگوار انجام انھیں ’قبولیت‘ کا احساس دلاتا ہے۔ اُن کے مطابق: ’تھائی گرلز لوو کے ڈراموں کا انجام ہمیشہ ہی خوشگوار ہوتا ہے۔ ہم اس بات پر خوش ہیں کہ ایسا ہوتا ہے، کیونکہ ہمیں اس بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ان کرداروں کو ختم کر دیا جائے گا یا ان کا انجام خوشگوار نہیں ہو گا۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں ان کا ملن ہو جائے گا اور یہ بہت تسلی بخش ہے۔‘

بین الاقوامی سطح تک رسائی نے گرلز لوو ڈراموں کے رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ ایسی بہت سی سیریز یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں، اکثر پر تو کئی زبانوں کے سب ٹائٹلز بھی موجود ہیں۔

اور یوں ان ممالک میں موجود مداحوں کے لیے رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں جہاں ہم جنس پرستی سے متعلق مواد پر پابندی لگائی جاتی ہے، جیسا کہ چین اور انڈونیشیا۔

حالیہ برسوں میں، چین نے دسیوں ہزاروں ایسی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے ہیں جن میں فحش، غیر قانونی یا چین مخالف قرار دیا گیا مواد شامل تھا۔

نتیجتاً ناظرین گرلز لوو کا غیر ملکی مواد زیادہ دیکھنے لگے۔

برطانیہ میں موجود ہدایتکار ریچل ڈیکس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم جنس پرستی پر مبنی میری ایک فلم کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے پر سعودی عرب میں زیادہ دیکھی گئی۔ وہ ملک جہاں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین ہیں، وہاں کی کچھ خواتین کے لیے یہی ایک تائید ہے کہ ان کا جنسی رجحان ایک حقیقت ہے اور مثبت انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فلمیں لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔‘

GMMTV’گرلز لوو‘ ڈرامے رومانوی مناظر پیش کرتے ہیں اور کہانی کا انجام اکثر خوشگوار ہوتا ہے

کچھ مداحوں کا ماننا ہے کہ ایسے ڈراموں کا دکھایا جانا خاموشی سے تھائی معاشرے کے رویے بدل رہا ہے۔

رانوکا سونگ موآنگ گرلز لوو کا فین پیچ چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے ڈراموں کی صنف پر ان کی والدہ کا ردعمل عمومی سا تھا، انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے سیریز دی سیکرٹ آف اَس پسند ہے، وہ ڈاکٹر (سیریز کی مرکزی کردار) خوب صورت ہے۔‘

لیکن تھائی لینڈ پہلے ہی ایشیا کے ان آزاد خیال ممالک میں شامل ہے جہاں ایک ہی جنس کے تعلقات روز مرہ کی معاشرتی زندگی میں قبول کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر تائیوان اور نیپال کی طرح یہاں بھی مساوی شادی کا قانون موجود ہے۔

فلپائن میں ایل جی بی ٹی جوڑوں کے کھلے عام ساتھ رہنے کی قبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن رومن کیتھولک چرچ، جو فلپائنی معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہم جنس شادی کا سخت مخالف ہے۔

ملائیشیا، انڈونیشیا اور برونائی جیسے دیگر ممالک جہاں ہم جنس تعلقات کے لیے قبولیت کم ہے، وہاں بھی نمایاں رکاوٹیں ہیں۔ مثال کے طور پر برونائی میں مرد سے مرد کے جنسی تعلقات کی سزا موت ہے۔ اگرچہ یہ ملک اب کسی بھی جرم پر لوگوں کو پھانسی نہیں دیتا۔

گرلز لوو ڈراموں کی کچھ کہانیاں تعصب سے براہ راست ٹکراتی ہیں۔ پوائزنس لوو نامی ڈرامے کی مرکزی کرار پیٹ اپنی محبوبہ پریم کے والدین سے التجا کرتی ہیں کہ انھیں تعلق قائم رکھنے کی اجازت دیں، لیکن پریم کے والد انھیں یہ تعلق ختم کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

پریم کے والدین کو ’امی اور ابو‘ پکارتے ہوئے پیٹ کہتی ہیں کہ ’ہماری محبت سچی اور پاک ہے۔‘

پریم کے والد جواب میں کہتے ہیں: ’مجھے باپ کہنے کی جرات نہ کرنا، مجھے نفرت محسوس ہو رہی ہے۔‘

تاہم، اونگسا اور سن کی محبت زیادہ پائیدار رہتی ہے اور مداحوں کو ایک خوشگوار انجام واضح دکھائی دیتا ہے۔

جب سن پوچھتی ہیں کہ اگر انھیں ایک سال تک ایک دوسرے سے دور رہنا پڑا تو وہ جدائی کے دن کیسے کاٹیں گی، اونگسا جواب دیتی ہیں: ’چاہے ہم کتنے ہی نوری سال کی دوری پر کیوں نہ چلے جائیں، ہمیں کچھ نہیں ہو گا۔ آخر میں ہمارے ستارے پھر سے ہمیں ملا دیں گے۔ کیوں کہ زمین کا مقدر ہی یہ ہے کہ وہ سورج کے ساتھ رہے۔‘

آٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیںسیکس کے دوران ’جنسی تسکین کے لیے گلا دبانے‘ جیسے خطرناک عمل کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟مردوں کو سیکس سے متعلق خواب کیوں آتے ہیں اور کیا نیند کے دوران احتلام ہونا مردانہ بانجھ پن کی علامت ہو سکتا ہے؟پہلی ہم جنس پرست مِس انگلینڈ: ’کبھی دُبلا، کبھی چھوٹا اور کبھی لمبا ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا‘’بوٹس‘: امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں کی خفیہ تاریخکونڈم کے بغیر سیکس کرنے سے پھیلنے والا انفیکشن ’سوزاک‘ کیا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More