بلوچستان میں حراستی مراکز کے قانون پر تنقید: ’اس میں منصفانہ ٹرائل کا عنصر غائب ہے، نہ جج کا پتا ہو گا اور نہ گواہ کا‘

بی بی سی اردو  |  Jan 22, 2026

Getty Images

'وہ لوگ جو لاپتہ افراد کے معاملے پر سیاست چمکاتے تھے، اُن کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو رہی ہے کیونکہ ہماری حکومت نے اس مسئلے کو حل کیا ہے۔‘

بلوچستان کابینہ کے 22ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے انتہائی پُراعتماد انداز میں مزید دعویٰ کیا کہ ’یکم فروری کے بعد بلوچستان سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘

پیر کو منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی (بلوچستان ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزماور بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 کی منظوری دی گئی۔

ان ضوابط کی منظوری کے بعد بلوچستان میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے جن میں ایسے افراد کو رکھا جائے گا جن پر شبہ ہو گا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں یا کالعدم تنظیموں سے روابط رکھتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جن مشتبہ افراد کو اٹھایا جائے گا اُن کے رشتہ داروں کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور حراستی مراکز میں اُن سے انھیں ملاقات کی بھی اجازت بھی دی جائے گی۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اس معاملے پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ایسے قوانین اور دعوؤں پر عمل تو نہیں ہوا، اب دیکھنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ان پرکتنا عمل ہو گا۔

بعض آئینی اور قانونی ماہرین نے ان قوانین کو آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اِن میں منصفانہ ٹرائل کا عنصر غائب ہے۔

انسداد دہشت گردی (بلوچستان ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت مجاز حکام تحقیقات کے لیے ایسے افراد کے 90 دن کے پروینٹیو حراستی آرڈر جاری کر سکتے ہیں جن پر شک ہو کہ وہ مسلح فورسز، سول آرمڈ فورسز، بلوچستان کی سکیورٹی، دفاع پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، بم دھماکوں، اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اقلیتوں پر حملوں اور لسانی بنیادوں پر قتل وغیرہ کے واقعات میں ملوث ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مجرموں کی معاونت اور سہولت کاری میں ملوث افراد سے تحقیقات کے لیے بھی حکام اسی قانون کے تحت حراستی آرڈر جاری کر سکیں گے۔

AFP

ترمیمی مسودہ قانون کے تحت ایسے مشتبہ افراد کو بھی 90 دن کے لیے حراست میں رکھا جا سکے گا جن کے خلاف اس نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کے بارے میں شکایات یا مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہوں۔

ایسے افراد سے تحقیقات پولیس کے ایس پی رینک کے آفیسر یا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے کروائی جائیں گی۔

ایسے افراد کو حراستی مراکز میں رکھا جائے گا اور اگر وہ اس ایکٹ کے تحت شیڈولڈ جرائم میں ملوث پائے گئے تو انھیں مزید تفتیش کے لیے تحقیقاتی اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات کے مطابق نئے قوانین کے تحت کوئٹہ اور تربت میں فی الحال دو حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

وزہر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا دعویٰ ہے کہ ہے کہ ان حراستی مراکز میں جن زیرِ تفتیش افراد کو رکھا جائے گا ان کے اہلِخانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی اور انھیں ملاقات کی بھی اجازت ہو گی۔

انھوں نے بتایا کہ جس بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے مشتبہ افراد سے تفتیش کرنی ہوئی وہ انہی مراکز میں کرے گا۔

اس قانون کے تحت وزیر اعلیٰ یا ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کی منظوری سے مجاز افسر کی سربراہی میں ایک اوور سائٹ بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو دو سویلین اور دو فوجی افسروں کے علاوہ ایک کریمنالوجسٹ اور ایک ماہر نفسیات پر مشتمل ہو گا۔

یہ بورڈ ہر زیر حراست فرد کے کیسز، نظریاتی مزاج، دماغی، جسمانی اور نفسیاتی حالت کا جائزہ لے گا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابینہ کے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہو گی۔

ان کا کہنا تھا اس کے ساتھ ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی تاکہ انتہا پسندی، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔

’ماضی کے تلخ تجربات کے باعث ہمیں بہت سارے خدشات ہیں‘Getty Images

نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم کر کے اسی نوعیت کے دعوے اور وعدے کیے گئے تھے، لیکن آگے چل کر عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے جو دعوے کیپے گئے ہیں اور اگر عملاً ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر لوگوں کو کم از کم جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات ملے گی لیکن ماضی کے تلخ تجربات کی بنیاد رپ ہمیں بہت سارے خدشات ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہاں جو طاقتور ادارے ہیں وہ ایسے قوانین کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں جن لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ان کو کسی عدالت میں پیش کرنے کی بجائے مبینہ طور پر اُن کی لاشیں پھینکی گئیں۔‘

نصراللہ بلوچ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’جبری گمشدگیوں اور حقوق انسانی کی پامالیوں کے علاوہ بلوچستان کے دیگر مسائل پر احتجاج بہت زیادہ ہو رہا ہے جس کے پیش نظر یہ خدشہ ہے کہ ریاستی ادارے پُرامن جدوجہد کرنے والوں کو اٹھا کر ان مراکز میں ڈالیں گے۔ اس طرح حکومت احتجاج کرنے والوں اور ان کے رشتہ داروں کو تنگ کرے گی تاکہ وہ سیاست اور احتجاج سے دستبردار ہو جائیں۔‘

لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کرنے والے سینیئر وکیل عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’نئے قانون میں پریوینٹو ڈیٹینشن سینٹرز کا آرٹیکل ڈالا گیا جس کے تحت برما یا چین کے طرز کے حراستی مراکز قائم کر کے لوگوں کو ان میں رکھا جائے گا۔‘

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ’جس سیاسی کارکن یا حقوق انسانی کے کارکن کا احتجاج ریاستی اداروں کو پسند نہیں آیا تو وہ اس قانون کی آڑ میں ان کو ان حراستی مرکز میں ڈال دیں گے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ماورائے آئین قوانین و مراکز بلوچستان کی سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے بنائے جا رہے ہیں ورنہ سندھ اور پنجاب میں بھی لاپتہ افراد ہیں، تو ایسے قوانین وہاں کیوں نہیں لائے جا رہے ہیں؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی کونسل کے رکن حبیب طاہرایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح کا تجربہ خیبرپختونخوا میں بھی کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’جتنے بھی لوگ لاپتہ ہیں اگر ان کو لا کر ان مراکز میں رکھا جاتا ہے اور ان کو منصفانہ ٹرائل کا موقع دیا جاتا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اس حوالے سے بنائے گئے قوانین میں منصفانہ ٹرائل کا عنصر نظر نہیں آ رہا ہے کیونکہ ملزم کے خلاف جو گواہ ہوں گے اُن کو راز میں رکھا جائے گا، اسی طرح جج کا بھی پتہ نہیں ہو گا۔‘

Getty Images

’اس طرح کے حراستی مراکز بنانا ایک بوسیدہ طریقہ کار ہو گا جو کہ پرانے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ’حراستی مراکز میں رشتہ داروں سے ملاقات کس طرح اور کس پریکٹس کے تحت ہو گی؟‘

حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’اگر یہ منصفانہ طریقے سے ٹرائل کریں گے تو کم از کم سالوں سے جو لوگ لاپتہ ہیں وہ منظر عام پر آئیں گے اور ان کے خاندانوں کو ان کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔‘

عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ لوگوں کو 90 دنوں تک انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت بھی حراست میں رکھا جا سکتا تھا لیکن اس میں یہ تھا کہ ملزم کو منصفانہ ٹرائل کا موقع دینے کے علاوہ انھیں 24 گھنٹے کے اندر اندر عدالت میں پیش کرنا لازمی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نئے قوانین کے تحت جو بھی گواہ آئے گا اس کی شناخت کے بارے میں ہمیں نہیں بتایا جائے گا بلکہ وہ جو بیان دے گا وہ حکومت ہمیں بتائے گی اور اس میں عدالت کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اسقانون کی آئین کی نظر میں کوئی وقعت نہیں جس کو ہم نے بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

’ان ترامیم سے لاپتہ افراد کا مسئلہ مزید گھمبیر ہو گا‘Getty Images

بلوچستان کی صورتحال اور مسائل پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں نئی ترامیم سے لاپتہ افراد کا مسئلہ مزید گھمبیر ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے تو اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں لاپتہ افراد اور ان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی شکایات آئی ہیں۔ وہ تو اپنی جگہ پر ابھی بھی ہیں۔ ان ترامیم سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کو حل کرنے کے لیے تو ریاست کو صاف اور شفاف ٹروتھ اینڈ ری کانسلییشن کمیشن بنانا چاہیے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ماضی میں لوگوں کو غائب کرنے کا جو کام غیر قانونی طریقے سے کیا جاتا تھا اب ان ترامیم سے اس کو قانونی شکل دے دی گئی ہے ۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں بالکل بھی یہ نہیں سمجھتا کہ لاپتہ افراد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جو مسئلہ ہے وہ ان ترامیم سے حل ہو گا۔‘

رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ ’نئی ترامیم میں ڈی ریڈیکلائیزیشن سینٹرز والی بات عجیب ہے کیونکہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لکھے پڑھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، جو خودکش حملے کر رہے ہیں، وہ بظاہر برین واش نہیں ہوئے ہیں بلکہ انھوں نے اس کا شعوری انتخاب کیا ہے۔‘

’ان کے اس راستے کو انتخاب کرنے کے عمل سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کوئی طالبان والا ماڈل نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بلوچ نوجوان اپنے علاقے کی محرومی اور وسائل کا استحصال دیکھتا ہے جس میں بلوچستان اور ملک کا اشرافیہ شریک جرم ہیں اور وہ ان وسائل کے فائدے اٹھا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ڈی ریڈیکلائیزیشن سینڑز سے کامیابی کے امکانات نہیں ہیں بلکہ ایسے سینٹرز کی بجائے تنازع کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ لوگوں کو ان کے ساحل اور وسائل پر حق دیا جائے، پولیٹیکل انجنیئرنگ کے ذریعے مصنوعی لوگوں کو مسلط کرنا بند کیا جائے تو پھر کسی ڈی ریڈیکلائیزیشن سینٹر یا کاؤنٹرنگ وائلینٹ ایکسٹریمزم سٹریٹیجی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

'نئی ترامیم سے منفی پروپیگنڈے ختم ہو گا‘

بی بی سی نے اس حوالے سے ہونے والی تنقید پر ردعمل لینے کے لیے صوبائی حکومت کی متعلقہ شخصیت سے رابطہ کیا اور انھیں میسج بھی بھیجے تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

تاہم کابینہ کے اجلاس میں اس سے متعلق تفصیل سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے معاملےکو طویل عرصے سے ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے حالانکہ ملک کے دیگر صوبوں بالخصوص خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کے کیسز بلوچستان سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں بعض عناصر اور جماعتیں اس حساس معاملے پر محض سیاست کرتی رہیں مگر مسئلے کے مستقل اور قانونی حل کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے لاپتہ افراد کے مسئلے کا مستقل حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون بلوچستان اسمبلی سے منظور کرایا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے جس سے ریاستِ پاکستان پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہو گا۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’بلوچستان میں سکیورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پوچھ گچھ کرتی ہیں، مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہو گا۔‘

’اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔‘

ساجد حسین بلوچ اور غریبوں کے بچے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی واپسی میں تیزی: ’اچھی پیشرفت‘ یا ’سیاسی ضرورت‘'کچھ لاتیں اور گھونسے مارے اور کہا غلط فہمی پر اٹھایا تھا'بلوچستان کے لاپتہ افراد: ’بھائی اور بھتیجے کی گمشدگی کا غم اتنا ہے کہ اب ہمیں خوشی یاد نہیں‘حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو کن چیلنجز کا سامنا ہو گا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More