Getty Images
جب برطانیہ کی لبرل پارٹی کے رہنما جیریمی تھورپ کا ایک مرد ماڈل کے ساتھ تعلق تھا، تو برطانیہ کی سیاسی اور سکیورٹی اشرافیہ نے اس پر چُپ سادھے رکھی لیکن جب تھورپ کے سابق محبوب نے عدالت میں سچ بتا دیا تو یہ ایک ایسی کہانی کی شروعات تھی جو نہ صرف حیران کن تھی بلکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔
ایک غیر قانونی ہم جنس پرست تعلق، ایک ناکام سازش اور ایک مردہ کتا اس کے مرکزی کردار تھے، اس معاملے کو برطانوی پریس ’صدی کا مقدمہ‘ کہتا تھا۔
ان سب کا محور جیریمی تھورپ تھے، جو لبرل پارٹی کے رہنما اور پہلے برطانوی سیاستدان تھے جن کے خلاف قتل کی ترغیب کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔
یہ کہانی 29 جنوری 1976 کو عوام کے سامنے آئی جب عدالت کی سماعت کے دوران، ان کے سابق محبوب نارمن سکاٹ نے چیخ کر کہا ’مجھے جیریمی تھورپ کے ساتھ جنسی تعلق کی وجہ سے ہمیشہ لوگوں کی طرف سے تنگ کیا جاتا ہے۔‘
اس جوڑے کی سکرین پر ترجمانی 2018کے بی بی سی ڈرامہ ’اے ویری انگلش سکینڈل‘ میں ہیو گرانٹ (تھورپ کے کردار میں) اور بین وشاو (سکاٹ کے کردار میں) نے کی۔
سکاٹ کا یہ حیران کن انکشاف ایک ایسی کہانی میں قانونی ڈرامے کا پہلا حصہ تھا جس کی تفصیلات مزید عجیب و غریب ہوتی چلی گئیں۔
تھورپ نے ایلیٹ ایٹن کالج میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھوں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ ان کی زندگی کے دو بڑے خواب وزیر اعظم بننا اور شہزادی مارگریٹ سے شادی کرنا ہیں۔
ایک خوش حال اور بااثر نوجوان کے لیے یہ دونوں خیالات زیادہ بعید از قیاس نہیں تھے۔
بعد میں آکسفرڈ یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم کے طور پر انھوں نے اپنے شوخ طرز لباس اور پرکشش مباحثہ کرنے کی صلاحیت دونوں کے ذریعے گہرا اثر چھوڑا۔
گریجویشن کے بعد وہ وکیل اور ٹیلی ویژن پریزینٹر بن گئے لیکن ان کی سیاسی خواہشات مسلسل بھڑکتی رہیں۔ ایک باصلاحیت ممکری آرٹسٹ اور پیدائشی شو مین کی پہچان کے ساتھ سنہ 1959 میں وہ 30 سال کی عمر میں لبرل ایم پی منتخب ہوئے۔
اس پس منظر کے ساتھ سب سے اعلیٰ سیاسی مقام حاصل کرنا ان کے مقدر کا حصہ لگتا تھا لیکن عوامی نگاہوں سے دور وہ خفیہ طور پر ہم جنس پرست تھے، اس وقت جب ہم جنس پرستی غیر قانونی تھی۔
1967 میں قانون میں تبدیلی سے پہلے سخت سزاؤں کی وجہ سے ایسی خفیہ زندگی گزارنے والوں کو بلیک میل کرنا آسان تھا۔
ایک ابھرتے ہوئے وزیر اعظم کے لیے، بے نقاب ہونے کے نتائج تباہ کن ہوں گے لیکن تھورپ کو خطرہ مول لینا بہت پسند تھا۔
سنہ 1961 کی گرمیوں میں انھوں نے ایک نوجوان ماڈل سے ملاقات کی جو ایک معمولی پس منظر سے تھے اور جنھیں نظر انداز کرنا ناممکن تھا۔
سنہ 1977میں پیچھے مڑ کر دیکھیں تو نارمن سکاٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پہلی بار ’ایک اصطبل کے دروازے کے پار‘ ملے تھے۔ ان دنوں سکاٹ کا نام نارمن جوزف تھا اور وہ گھوڑوں کی دیکھ بھال کا کام کرتے تھے۔
Getty Imagesجنوری 1967 میں جیریمی تھورپ کو لبرل پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا
انھوں نے کہا کہ تھورپ ’ایک طرح کا گرمجوش کردار لگتے تھے‘ اور وہ باقاعدگی سے ملنے لگے۔
سکاٹ ہمیشہ ذہنی صحت کے مسائل سے لڑتے رہے اس لیے وہ ایک عجیب جوڑا بن گئے۔
جب سکاٹ کو مبینہ چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا، تو تھورپ نے ان کے حق میں تفتیش کاروں کے سامنے آواز اٹھائی۔ انھوں نے سکاٹ کو اپنے دوستوں سے ملوایا۔
اگرچہ تھورپ نے ان کے درمیان کسی بھی خط و کتابت سے انکار کیا تاہم ان کے محبت بھرے مگر الزام تراشی کرنے والے خطوط کو سکاٹ نے سنبھال کر رکھا اور ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
ستم ظریفی یہ تھی کہ سکاٹ ہی تھے جنھوں نے اس تعلق کو ختم کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے ہمارے ایک مشترکہ دوست کو بتایا تھا کہ میں یہ سب ختم کر دوں گا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کیسے لیکن یہ میرے لیے بہت زیادہ تھا۔ میں برداشت نہیں کر سکا۔ میں انھیں اور خود کو تباہ کرنے والا تھا۔‘
تنہا اور مایوسی کا شکار انھوں نے کھل کر تھورپ کو قتل کرنے اور پھر اپنی جان لینے کی بات شروع کی۔
ایک پریشان دوست نے پولیس سے رابطہ کیا۔ افسران کے انٹرویوز میں سکاٹ نے خود کو اس بات کا اعتراف کر کے مجرم ثابت کیا کہ وہ تھورپ کے ساتھ تعلق میں تھے۔ صرف یہی نہیں، ان کے پاس اس بات کا ثبوت بھی تھا لیکن کون یقین کرے گا کہ یہ بظاہر غیر مستحکم شخص اتنے معزز شخصیت کے بارے میں یہ عجیب و غریب دعوے کر رہا ہے۔
استوائی گنی کو ہلا دینے والا سیکس ٹیپ سکینڈل جس میں صدر، وزرا سمیت فوجی افسران کی بیویاں تک شامل ہیںاسرائیلی فوجی کا فلسطینی قیدی کے ساتھ سیکس سکینڈل، خواتین فوجیوں کی جیلوں میں تعیناتی پر پابندیایپسٹین سکینڈل: شہزادہ اینڈریو، بل کلنٹن سمیت نامور شخصیات کا جنسی جرائم سے متعلق عدالتی دستاویزات میں ذکرانڈونیشیا میں شراب نوشی اور شادی کے بغیر سیکس پر جوڑے کو سرعام 140 کوڑوں کی سزاجنسی اور جاسوسی سکینڈلز
یہ بات سامنے آئی کہ سکیورٹی سروسز کے پاس پہلے ہی تھورپ کی ذاتی زندگی کی خفیہ فائلیں موجود تھیں لیکن ان الزامات کی باضابطہ تحقیقات نہیں ہوئیں۔
سنہ 1960 کی دہائی کے اوائل میں، برطانیہ جنسی اور جاسوسی سکینڈلز کی ایک سیریز سے سے لرز رہا تھا۔ پہلے ہی جان ویسل کا کیس ہو چکا تھا، جو ہم جنس پرست سرکاری ملازم تھے اور بلیک میلنگ کے خطرے کی وجہ سے برطانوی ریاستی راز سوویت یونین کو دے رہے تھے۔ جلد ہی وزیر جنگ جان پروفومو کا کرسٹین کیلر کے ساتھ تعلق ہوا، جو ایک نوجوان ماڈل تھیں اور بیک وقت ایک روسی جاسوس کے ساتھ بھی ملوث تھی۔
برطانوی اسٹیبلشمنٹ بالکل نہیں چاہتی تھی کہ ایک اور سکینڈل ہو اور وہ بھی ایک ابھرتے ہوئے پارلیمانی سٹار کے حوالے سے۔
سکاٹ اس ادارہ جاتی رکاوٹ سے مایوس نہیں ہوئے اور تھورپ کی والدہ کو خط لکھا۔ سکاٹ نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے لگا تھا کہ وہ ہمارے تعلقات کے بارے میں جانتی ہیں۔‘
اگرچہ یہ بلیک میلنگ خط نہیں تھا لیکن اس میں ایسے اشارے تھے جو تھورپ کو خوفزدہ کر گئے جب انھوں نے اسے دیکھا۔ یہ خط اس بات کا ثبوت تھا کہ سکاٹ خطرہ بن رہے تھے۔
تھورپ نے اپنے دوست اور ساتھی لبرل ایم پی پیٹر بیسل کو اعتماد میں لیا، جنھوں نے سکاٹ سے ملنے اور ’ان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرنے‘ پر رضامندی ظاہر کی۔
سنہ 1967 میں پارلیمنٹ میں صرف آٹھ سال گزارنے کے بعد تھورپ پارٹی کے رہنما بنے اور لبرلز کو ایک انقلابی قوت بنانے کا وعدہ کیا۔
اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا تھا کہ سکاٹ خاموش رہیں۔ بیسل نے انھیں ایک چھوٹا ہفتہ وار معاوضہ دیا اور ان کے لیے نوکری تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن سکاٹ مطمئن نہیں تھے۔
دونوں مردوں کی ذاتی زندگی پیچیدہ تھی۔ تھورپ نے 1968 میں کیرولین آل پاس سے شادی کی اور ان کا ایک بیٹا ہوا۔ وہ 1970 کے عام انتخابات کے فوری بعد ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔
سنہ 1973 میں انھوں نے ماریون سٹین سے شادی کی، جو زبردست آسٹریائی نژاد کانسرٹ پیانسٹ تھیں اور آخر تک وفادار رہیں۔
سکاٹ نے 1969 میں سو مائرز سے شادی کی، ان کا ایک بیٹا ہوا لیکن دونوں جلد ہی الگ ہو گئے۔
اگرچہ تھورپ نے اپنے اعلیٰ پروفائل کیریئر میں کامیابی جاری رکھی لیکن ان کے تعلق کے دس سال سے زیادہ بعد بھی سکاٹ بے چین رہے اور ہر اس شخص کو ان کی کہانی سناتے۔
یہ الزامات بالآخر لبرل ایم پی ایملن ہوسن کے دفتر تک پہنچے، جو بیسل کے برعکس اتنے فکرمند تھے کہ سینیئر ساتھیوں کو اطلاع دی۔ ایک اندرونی پارٹی انکوائری نے نتیجہ اخذ کیا کہ تھورپ کے خلاف مقدمہ ثابت نہیں ہوا۔
فروری 1974 کے عام انتخابات سے ایک دن پہلے تھورپ کے ایک ساتھی نے سکاٹ کو ڈھائی ہزار پاؤنڈ ادا کیے تاکہ وہ وہ پریشان کن خطوط جمع کرائیں جن میں زیادہ ثبوت تھے۔
وہ الیکشن تھورپ کے سیاسی کیریئر کا عروج ثابت ہوا۔ ان کی پارٹی نے اتنی نشستیں جیتیں کہ عارضی طور پر ایسا لگا کہ وہ مخلوط حکومت میں وزیر بن سکتے ہیں تاہم کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔
Getty Imagesنارمن سکاٹ مئی 1979 میں جیریمی تھورپ کے مقدمے کی سماعت کے لیے اولڈ بیلی پہنچ رہے ہیں سازش کا آغاز
تھورپ کے بارے میں چہ مگوئیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ تھورپ کے ساتھیوں نے اینڈریو نیوٹن سے رابطہ کیا، جو کافی بدتمیز ایئرلائن پائلٹ اور غیر پیشہ ور قاتل تھے۔
نیوٹن نے اکتوبر 1975 میں سکاٹ سے دوستی کی اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک نجی جاسوس ہیں جو انھیں کسی ایسے شخص سے بچانے کے لیے رکھے گئے تھے جو انھیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
انھوں نے اعتماد کرنے والے سکاٹ کو اندھیرے میں دیہی سفر پر جانے پر راضی کیا۔
نیوٹن نے بندوق لائی جبکہ سکاٹ نے اپنا کتا، جس کا نام رنکا تھا۔ جب انھوں نے ایک دور دراز سڑک پر گاڑی روکے تو کتا گاڑی سے دوڑتا ہوا باہر نکلا۔
سکاٹ نے یاد کیا کہ ’وہ بھونک رہی تھی اور اچھل رہی تھی۔ اور پھر انھوں نے اسے گولی مار دی۔ اور پھر۔۔۔میں نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ میں جھکا ہوا تھا کہ انھوں نے کہا کہ اب تمہاری باری ہے۔‘
سکاٹ نے حیرت سے انھیں دیکھا جب نیوٹن گاڑی کی ہیڈ لائٹس کے سامنے بندوق ہاتھ میں لیے کھڑے تھے اور کپکپا رہے تھے۔
سکاٹ نے کہا کہ ’اس نے بندوق تانی اور اچانک مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھے بھی گولی مارنے والا ہے‘ لیکن بندوق جام ہو گئی اور سکاٹ زندہ بچ گئے۔
نیوٹن کو آخرکار دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اپنے مقدمے میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ سکاٹ ایک برہنہ تصویر کی وجہ سے انھیں بلیک میل کر رہے تھے۔
اس خوفناک واقعے کے تین ماہ بعد سکاٹ کو ایک معمولی فلاحی فراڈ کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا۔
وہاں 29 جنوری 1976 کو انھوں نے ’جیریمی تھورپ کے ساتھ اپنے جنسی تعلق‘ کے بارے میں چیخ کر بتایا۔
چونکہ سکاٹ نے کھلی عدالت میں اپنا دعویٰ کیا تھا، صحافیوں کو ہتک عزت کے قوانین سے تحفظ حاصل تھا اور وہ اس الزام کی رپورٹنگ میں آزاد تھے۔ تھورپ کا معاملہ آخرکار زبانِ زد عام ہو گیا تھا۔
تھورپ نے فوراً اس سے انکار کر دیا لیکن مئی میں ان کے لیے حالات اس وقت خراب ہو گئے جب پیٹر بیسل، جو ان کے سابق وفادار لبرل پارٹی دوست تھے، نے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔
بیسل نے بعد میں بی بی سی پینوراما کو بتایا کہ ’ہم کسی کی ذاتی زندگی کو چھپانے کے ایک نجی معاملے سے ایسے معاملے میں منتقل ہو گئے جہاں اب یہ قتل کی کوشش کی پردہ پوشی بن گیا۔‘
جب یہ کہانی ان کے قابو سے باہر نکل گئی تو تھورپ نے سنڈے ٹائمز کو اجازت دی کہ وہ 1962 میں سکاٹ کو لکھا گیا ایک محبت بھرا خط شائع کرے۔
اگرچہ بدلے ہوئے وقت میں نسبتاً زیادہ لبرل سماجی رویے تھورپ کو لڑنے کی اجازت دیتے تھے تاہم انھوں نے پارٹی لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ کہانی اکتوبر 1977 میں ایک اور موڑ لے گئی جب لندن ایوننگ نیوز نے سنسنی خیز سرخی شائع کی کہ ’مجھے سکاٹ کو مارنے کے لیے رکھا گیا تھا۔‘
جیل سے رہائی پانے والے نیوٹن نے اپنی بلیک میلنگ کا موقف واپس لے لیا اور اب وہ دعویٰ کر رہے تھا کہ انھیں پانچ ہزار پاؤنڈ ادا کیے گئے تھے، جسے اخبار نے ایک اہم لبرل حامی کو ملوث کر کے کی گئی ’شیطانی سازش‘ کے طور پر بیان کیا۔
مزید نو ماہ کی پولیس تحقیقات کے بعد تھورپ اور ان کے تین ساتھیوں پر سکاٹ کو قتل کی سازش کا الزام لگا دیا گیا۔ اسے پریس نے ’صدی کا مقدمہ‘ قرار دیا۔
تھورپ کی درخواست پر، اسے آٹھ دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا تاکہ وہ مئی 1979 کے عام انتخابات میں اپنی پارلیمانی نشست کے لیے لڑ سکیں۔ انھیں بری طرح سے شکست ہوئی۔
مقدمے کے اختتام پر، جج جسٹس کینٹلی نے کہا کہ چونکہ تین مرکزی استغاثہ گواہوں نے سزا کے بعد اپنی کہانیاں پریس کو بیچنے کے لیے منافع بخش سودے کیے تھے، اس لیے ان کی گواہیاں متاثر ہوئیں۔
جج نے کہا کہ بیسل ’دھوکے باز‘ تھا جبکہ نیوٹن ’بے وقوف، جھوٹے اور یقینی طور پر دھوکے باز‘ تھے۔ جہاں تک سکاٹ کا تعلق ہے انھیں ’دھوکہ باز، شکایت کرنے والا اور پیراسائٹ‘ کہا گیا۔ اس کے برعکس تھورپ ’ایک قومی شخصیت تھے جن کا عوامی ریکارڈ بہت نمایاں تھا۔‘
عدالتی فیصلے میں تھورپ کو بے قصور قرار دیا گیا۔
بعد میں اپنی ثابت قدم بیوی ماریون کے ساتھ بات کرتے ہوئے تھورپ نے کہا کہ ’میں ہمیشہ یہ مانتا رہا ہوں کہ میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات میں بے قصور تھا اور جیوری کے فیصلے کو، جو انھوں نے طویل اور محتاط تحقیقات کے بعد کیا، میں مکمل طور پر منصفانہ سمجھتا ہوں۔‘
مقدمے کے بعد سکاٹ نے شہرت سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ سنہ 2022میں 82 سال کی عمر میں انھوں نے اپنی خودنوشت ’این ایکسیڈینٹل آئیکون‘ جاری کی۔
جہاں تک تھورپ کا تعلق ہے، انھوں نے عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لی اور آخر تک اپنی بے گناہی کا دعوی کرتے رہے۔ سنہ 2014 میں ان کی وفات ہو گئی۔
سنہ 2008 میں گارڈین کے ایک انٹرویو میں تھورپ نے اس معاملے پر کہا تھا کہ ’اگر یہ اس دور میں ہوتا تو میرا خیال ہے، عوام زیادہ مہربان ہوتے۔ اُس وقت وہ اس سے بہت پریشان تھے۔ اس سے ان کی اقدار کی توہین ہوئی تھی۔‘
لیونسکی اور سٹورمی: دو صدور، دو سکینڈلنوعمر لڑکیوں کی جسم فروشی اور سمگلنگ میں ملوث گیلین عیش و عشرت سے جیل تک کیسے پہنچیں؟ایپسٹین سکینڈل: شہزادہ اینڈریو، بل کلنٹن سمیت نامور شخصیات کا جنسی جرائم سے متعلق عدالتی دستاویزات میں ذکراسرائیلی فوجی کا فلسطینی قیدی کے ساتھ سیکس سکینڈل، خواتین فوجیوں کی جیلوں میں تعیناتی پر پابندیاستوائی گنی کو ہلا دینے والا سیکس ٹیپ سکینڈل جس میں صدر، وزرا سمیت فوجی افسران کی بیویاں تک شامل ہیںانڈونیشیا میں شراب نوشی اور شادی کے بغیر سیکس پر جوڑے کو سرعام 140 کوڑوں کی سزا