عثمان طارق کی ’حیرت‘ امریکہ پر بھاری پڑ گئی

بی بی سی اردو  |  Feb 11, 2026

جوں جوں کرکٹ کا دورانیہ پھیلتا جاتا ہے، بلے بازوں کا کردار بڑھتا جاتا ہے مگر جیسے ہی دورانیہ سمٹنے لگتا ہے، بولرز کا کردار نمایاں ہونے لگتا ہے۔ آج کل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ صرف چھکوں چوکوں ہی کے بل پر جیت کی ضمانت نہیں دیتی بلکہ 20 اوورز میں زیادہ وکٹیں حاصل کر جانے والی ٹیمیں عموماً مقابلے کی درست سمت کھڑی نظر آتی ہیں۔

نیدرلینڈز کے خلاف اگرچہ فہیم اشرف کی انفرادی کارکردگی ہی بالآخر پاکستان کو بچا گئی مگر ان سے پہلے یہ پاکستان کی بولنگ کاوش تھی کہ ڈچ اننگز کو قدرے کمتر مجموعے تک محدود کرنے میں کامیاب رہی۔ پاکستان کی اس بولنگ کاوش کے مرکزی کردار سلمان مرزا تھے۔

مگر امریکہ کے خلاف پاکستانی تھنک ٹینک نے اپنے اسی مرکزی کردار کو الیون میں شامل نہیں کیا۔ اپنی تمام تر تکنیکی درستی کے باوجود یہ بہرحال ایک پیچیدہ فیصلہ تھا۔ پاکستان کے ڈریسنگ روم کلچر میں ایسا فیصلہ ایک مثبت رجحان معلوم پڑتا ہے جہاں ماضی میں ٹیم مینیجمنٹ عموماً کھیل کی باریکیوں سے زیادہ میڈیائی و سوشل میڈیائی رجحانات پر دھیان دیتی آئی ہے۔

سنہالیز سپورٹس کلب کولمبو کی پچ پیس کے لیے زیادہ موزوں نہیں تھی، سو ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان آغا نے عثمان طارق کی ’حیرت‘ کو سلمان مرزا کی مہارت پر ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔

ٹی ٹوئنٹی فرنچائز کرکٹ میں جیت کی دوڑ نے بہت سے نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ڈیٹا ان میں سے اہم ترین مگر مبہم ترین رجحان ہے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2016 کے فائنل میچ کا آخری اوور اگر یاد کیجئے تو ڈیٹا وہاں کارلوس براتھویٹ کی بجائے بین سٹوکس کے حق میں تھا مگر کرکٹ کی طبیعت ڈیٹا کی پروا کیے بغیر اپنا جادو دکھا گئی۔

ڈیٹا کا تمغہ کسی ٹیم کے سینے پر تبھی جچ سکتا ہے اگر اس ڈیٹا کا سیاق و سباق بھی ساتھ ملحوظِ نظر ہو۔ سیاق و سباق کے بغیر ڈیٹا کی تاثیر کسی عطائی کے نسخے سے بڑھ کر نہیں جو فائدہ تو شاید ہی دے مگر نقصان یقینی رہتا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے تھنک ٹینک کا سربراہ ڈیٹا کو سیاق و سباق کے تحت پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عثمان طارق کا خاصہ ہے کہ گیند پھینکنے سے پہلے ہی وہ بلے باز کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں جب کریز کے بالکل باہر سے رن اپ لیتے ہوئے وہ اس کی نظروں کا ارتکاز توڑتے ہیں۔ جب بلے باز کی نظریں ان کا تعاقب کرتے ہوئے بالآخر امپائر کے بائیں کندھے کی سمت ٹھہرتی ہیں تو اچانک بولر بھی ٹھہر سا جاتا ہے۔ یہ ٹھہرا ہوا لمحہ بلے باز کی جان پر کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔

2007 کے اوّلین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جب سہیل تنویر نے اپنے منفرد بولنگ ایکشن سے جے سوریا کو کلین بولڈ کر دیا تو پویلین لوٹتے ہوئے سری لنکن لیجنڈ خود کو کوستے جا رہے تھے کہ آخر کیسے صرف ایک عجوبے بولنگ ایکشن نے انھیں الجھا کر ایک اوسط سی گیند کو ان کی وکٹ کا حق دار بنا دیا۔

عثمان طارق مگر سپن کی ورائٹی کا بھی پورا ایک پٹارا لیے پھرتے ہیں۔ کبھی گگلی ہی دو الگ الگ زاویوں سے پھینک کر بلے باز کو چکرا دیتے ہیں تو کبھی وہ سیم کو ایسے زاویے سے حرکت دیتے ہیں کہ گیند بلے باز کے عین سامنے آ کر پچ میں ہی رک سی جاتی ہے اور بلے تک پہنچنے سے پہلے اپنی ساری رفتار کھو بیٹھتی ہے۔

پاکستانی بلے بازوں نے بھی انڈیا کے خلاف اہم ترین میچ سے پہلے اپنے دامن کے دھبے دھو لیے کہ بابر اعظم اپنے لیے طے کردہ کردار کے مطابق اننگز کو بڑھاتے نظر آئے جبکہ صاحبزادہ فرحان کی بے خوفی نے پاور پلے کے بعد بھی سکور بورڈ کو متحرک رکھا۔

ٹورنامںٹ کے پہلے دو دنوں میں تین سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے جہاں نیدرلینڈز نے پاکستان کے اوسان خطا کیے تو وہیں امریکہ نے بھی انڈیا کو کچھ گڑبڑا سا دیا۔ اگلی شام جب نیپال نے بھی انگلینڈ کو لگ بھگ میچ سے باہر دھکیل ہی ڈالا تو امید اٹھی کہ جلدہی کوئی بڑا اپ سیٹ ہو کر ہی رہے گا۔

امریکی الیون بھی اسی امید سے میدان میں اتری تھی کہ شاید دو برس پہلے ڈیلس میں رقم کی گئی تاریخ کولمبو میں بھی خود کو دہرائے گی۔ مگر کولمبو کی کنڈیشنز ڈیلس کے بالکل برعکس نکلیں اور انجریز کے شکار بولنگ اٹیک کو بھی سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر احسان عادل کی شمولیت زیادہ راس نہ آئی۔

پاکستان کے لیے یہ جیت نیٹ رن ریٹ میں بھی قدرے بہتری لائی ہے جو ٹورنامنٹ فارمیٹ کے تناظر میں نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ چار روز پہلے اسی گراؤنڈ میں پاکستان نے ایک جیت پائی تھی جو پوائنٹس تو دے گئی مگر بہت خوشگوار نہیں تھی۔ منگل کی شام پاکستان نے کولمبو میں جو جیت پائی، وہ نہ صرف تسلی بخش تھی بلکہ امید افزا بھی تھی۔

دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانی’میکس او ڈاؤڈ نے پاکستان کو بچا لیا‘T20 ورلڈ کپ: آپ اپنے پسندیدہ کرکٹرز کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟میچ میں کیا ہوا؟

کولمبو میں کھیلے جا رہے میچ میں امریکہ نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا اور امریکی ٹیم کے کپتان نے پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

پاکستان نے 20اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنائے اور امریکہ کو جیت کے لیے 191 رنز کا ہدف دیا تھا۔

صاحبزادہ فرحان نے 41 گیندوں پر 73 رنز بنائے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔

امریکہ کے خلاف میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور سلمان مرزا کی جگہ عثمان طارق کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا جنھوں نے اس میچ میں سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔

پاکستان ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، بابر اعظم، سلمان آغا، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، عثمان طارق اور ابرار احمد شامل تھے۔

یاد رہے پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ امریکہ کو انڈیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکہ کی اننگز پر ایک نظر

امریکہ کی جانب سے شبھم رانجانے نے سب سے زیادہ رنز سکور کیے۔ انھوں نے 30 بالوں پر 51 رنز بنائے اور شاہین آفریدی کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

امریکی کھلاڑی شایان جہانگیر 34 بالوں پر 49 رنز بنا کر شاداب کی گیند پر شاہین کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے عثمان طارق نے چار اوورز میں 27 رنز دے کرتین وکٹیں حاصل کیں۔

اس کے علاوہ شاداب نے دو، محمد نواز، ابرار اور شاہین نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان نے 20اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنائے

امریکہ کے خلاف پاکستان کا آغاز اچھا رہا۔ صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کے درمیان 54 رنز کی اوپننگ شراکت داری قائم ہوئی۔

تاہم 54 کے مجموعی سکور پر صائم ایوب 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد کپتان سلمان علی آغا کریز پر آئِے مگر وہ بھی ایک رن بنا کر آوٹ ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر صحابزادہ فرحان اور بابر اعظم کی شراکت داری کی کافی تعریف کی جا رہی ہے۔

صاحبزادہ فرحان نے 41 گیندوں پر 73 رنز بنائے جبکہ بابر اعظم 32 گیندوں پر 46 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

شاداب خان 12 گیندوں پر 30 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

امریکی بالر شیڈلی وین شالک ویک نے سب سے زیادہ چار وکٹیں حاصل کیں۔

انھوں نے صائم ایوب، شاداب، فہیم اشرف اور آغا سلمان کو آؤٹ کیا۔

’شکر کریں اس مرتبہ کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا‘

یاد رہے سنہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکہ نے پاکستان کو شکست دی تھی۔

پاکستان کی جیت کے بعد کئی صارفین اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آئے کہ شکر کریں اس مرتبہ کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا۔

کئی صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان نے آج پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر صاحبزادہ فرحان اور بابر کی شراکت داری کا کافی چرچا ہے۔

صاحبزادہ فرحان نے محض 27 گیندوں پر اپنی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کی نویں نصف سنچری مکمل کی۔

امیر حیات نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’صاحبزادہ فرحان کی یہ بہت شاندار اننگز ہے۔۔۔ انھوں نے 41 گیندوں پر 73 رنز بنائے۔ ان کے پانچ چھکے اس اننگز کی نمایاں جھلک رہے۔‘

کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ اس وکٹ پر 200 رنز باآسانی بن جانے چاہیے تھے اور کچھ بابر اعظم کی بعد یکے بعد دیگے آؤٹ ہونے والوں کے متعلق شکوہ کرتے نظر آئے کہ ’بابر کے بعد لائن ہی لگ گئی۔‘

سوشل میڈیا پر صارفین امریکی بالرشیڈلی وین شالک ویک کی بالنگ کو سراہ رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ امریکہ کے شیڈلی وین شالک ویک کے کیریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔۔۔ میچ کے آخری لمحات میں پاکستان کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گر گئیں۔‘

ملتان سلطانز دو ارب 45 کروڑ میں فروخت، نیا نام’راولپنڈی‘ اور علی ترین کی مایوسی: ’آج ایک اور شخص نظام کے ہاتھوں ہار گیا‘ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟’شکریہ شہباز شریف‘: پی سی بی اور آئی سی سی میٹنگ میں ایسا کیا ہوا کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ بدل دیا؟T20 ورلڈ کپ: آپ اپنے پسندیدہ کرکٹرز کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More