قومی کھیل کی ہاکیوں سے ٹھکائی

بی بی سی اردو  |  Feb 20, 2026

Getty Images

ان افلاطونوں سےکیا مجھے کوئی ملوا سکتا ہے جو قومی سمبلز منتخب کرتے ہیں؟ یقین کیجیے کہ یہ افلاطون بغیر گریبان کی قمیض یا کرتا پہنتے ہوں گے تاکہ گلے پر کسی کا ہاتھ پڑنے یا ازخود اندر جھانکنے کا ٹنٹا ہی نہ ہو۔

بندہ پوچھے کہ جب ہر جانب ساختہِ چین مصنوعی پھولوں کی بہار ہے، یاسمین دیکھنے کو بھی خال خال ہے لہذا موتیا کو چنبیلی بتا کر پیش کیا جاتا ہے تو پھر چنبیلی کو قومی پھول کہتے رہنے کی کیا تک ہے؟

چنبیلی کی رنگت اور خوشبو تو سادگی، عاجزی اور پاکیزگی کی علامت ہیں۔ کیا ہم میں یہ اوصاف بدرجہِ اتم ہیں؟ تو پھر گلی گلی دستیاب گوبھی کا پھول قومیانے میں کیا تکلف ہے؟

حالانکہ ہر جانب چیل کوے بکثرت اڑ رہے ہیں مگر قومی پرندہ چکورہے۔ کیوں بھئی، کس خوشی میں؟ گورنننس کا حال دیکھتے ہوئے مردار نوچ کھانے والے گدھ کو قومی پرندہ قرار دینے میں کیا قباحت ہے؟

ویسے 25 کروڑ انسانوں میں سے کتنوں نے چکور بچشم دیکھا ہے؟ اور چکور بھی کیسا سادہ لوح ہے کہ آج تک چاند چھونے کی آس میں اڑتے اڑتے شکاری بندوقوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ جیسے عام آدمی مثالی انتظام کی کھوج میں ذلت کی فضا میں مسلسل پھڑپھڑا رہا ہے اور تھک کے گر رہا ہے۔

اور جو نایاب مارخور ننگی آنکھ سے بمشکل نظر آتا ہے ہمارا قومی جانور قرار پایا ہے۔ ایسا قومی جانور جو پہاڑ سے نیچے اترتا ہی نہیں۔ شاید اسی لیے عزت کی چوٹی پر بیٹھا ہے۔ ورنہ تو بھیڑ بکریوں، گائے بھینسوں، اونٹوں میں سے بھی کسی کو قومی جانور قرار دیا جا سکتا تھا۔ یہاں پتہ چلتا ہے کہ عوامی اور قومی جانور میں بنیادی فرق کیا اور کیوں ہے۔

قوم کرکٹ پر جان دیتی ہے اور ہاکی قومی کھیل ہے۔ یہ واحد قومی فیصلہ تھا جو اتفاقاً پرانے وقتوں میں کسی سے میرٹ کی بنیاد پر سرزد ہو گیا۔ ہاکی واقعی عرصہِ دراز تک پاکستان کے سر کا تاج تھی۔

1956 تا 2010 کوئی ایسا سال نہیں گزرا جب پاکستان ٹاپ ٹین کی فہرست میں نہ ہو۔ 1958 تا 2010 ایشین گیمز میں آٹھ گولڈ، 1956 تا 1992 تک کے اولمپکس میں تین گولڈ، تین سلور، تین برونز، چیمپیئنز ٹرافی تین بار، 1971 تا 1994 چار ورلڈ کپ۔

ہاکی کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی ملک کے پاس ایک سال میں تین ٹائٹل ہوں۔ 1978 ایسا سال تھا جس میں پاکستان بیک وقت چیمپیئنز ٹرافی، ورلڈ کپ اور ایشین چیمپیئن شپ کا مالک تھا۔

اس دور میں شاید ہی کوئی ایسا بچہ ہو جسے پوری ٹیم کا نام ازبر نہ ہو۔ عبدالحمید، نصیر بندہ، منظور حسین عاطف، اسد ملک، تنویر ڈار، افتخار سید، اختر رسول، رشید جونیئر، شہناز شیخ، ڈیش کنگ اصلاح الدین، فلائنگ ہارس سمیع اللہ، کلیم اللہ، حسن سردار، منظور سینئر اور جونیئر، گول کیپر سلیم شیروانی، سہیل عباس، حنیف خان، منور الزمان،شہباز احمد، وسیم فیروز سمیت کیا کیا نام تھے جو ہر پاکستانی کے گھر میں رہتے تھے۔

آسٹریلیا سے واپسی کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان پر پابندی، فیڈریشن کے صدر مستعفی اور محسن نقوی کی وضاحتشہباز احمد ریٹائر ہوئے تو پاکستانی ہاکی کا عروج بھی رخصت ہو گیااب ’دولے شاہ کے چوہے‘ کیوں نظر نہیں آتے؟ایشیئن چیمپیئنز ٹرافی: پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے ادھار پر ٹکٹس خریدنے کا معاملہ کیا ہے؟

اور پھر جیسا کہ رفتہ رفتہ ہوتا ہے عزت راس آنی بند ہوتی چلی گئی۔ دن رات کڑی محنت کے نتیجے میں گورننس، لیڈر شپ اور ہاکی ساتھ ساتھ نیچے اترتے چلے گئے۔ سکواش اور ہاکی جیسے ہمارے عالمی وزیٹنگ کارڈز کہیں راستے میں گر گئے اور انھیں یورپ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ نے خاموشی سے اپنی جیب میں رکھ لیا۔

پھر جسدِ ہاکی پر گدھ منڈلانے لگے، سفارش کے کووں، سیاست کی چیلوں اور بد انتظامی کی چھچوندروںنے اردگرد گھونسلے اور بل بنا لیے۔ ہاکی کا بجٹ پہلے خیرات میں بدلا اور پھر یہ خیرات بھی ایسے کشکول میں ڈالی گئی جس کے پیندے میں بڑا سا سوراخ تھا۔

موجودہ قومی ہاکی ٹیم کے وہ بچے جن کے بڑوں نے ٹرافیوں اور تمغوں کی شکل میں دنیا بھر سے سونا چاندی جمع کیا تھا، یہ اثاثہ ہاکی فیڈریشن کی دیمک زدہ الماریوں میں بس حسرتی نگاہوں کے لیے رہ گیا اور ان بچوں کو قدیم دور کے بھکشوؤں کی طرح آسمان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

فروغِ ہاکی کے نام پر کس نے کس کو کتنا پیسہ دیا اور وہ پیسہ ٹیلنٹ ہنٹ، بنیادی سہولتوں، معیاری آسٹرو ٹرفس کی تنصیب، ڈومیسٹک ہاکی اور ورلڈ کلاس کوچنگ پر لگنے کے بجائے کس بلیک ہول میں کب کب غائب ہو گیا، یہ المیہ نیا تھوڑی ہے۔

اپریل 2015 میں بھی ہاکی فیڈریشن کے پاس کہنے کو اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ اگلے برس ریو ڈی جنیرو اولمپکس کی تیاری کے لیے نیشنل کیمپ ہی لگا سکے۔ انڈین ہاکی فیڈریشن نے پیشکش کی کہ ہم سے کیمپ کے پیسے لے لو مگر اولمپکس میں ضرور شرکت کرو۔ اس گھٹنا کے بعد ہی قومی غیرت کی باسی کڑھی میں کچھ ابال آیا اور بادلِ نخواستہ نیشنل کیمپ کا انعقاد ہو پایا۔

اس سکینڈل کو اب 11 برس ہو چلے ہیں۔ حالات بہتر تو خیر کیا ہوتے پہلے سے بھی بد ہیں۔ کہنے کو وفاقی حکومت نے ہاکی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے مبلغ 25 کروڑ روپے پاکستان سپورٹس بورڈ کے حوالے کیے مگر سپورٹس بورڈ نے ہاکی فیڈریشن کو کتنے دیے اور فیڈریشن نے ان پیسوں کا کیا کیا؟

یہ کہانی انٹرنیشنل ہاکی پروفیشنل لیگ کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے میزبان بیونس آئرس کے ہوٹلوں کے بیرے اور سڈنی اور ہوبارٹ کی فٹ پاتھیں بھی ہنس ہنس کے بتا دیں گی۔

اس ’حسنِ انتظام‘ کے عوض کھیل جگت میں پاکستان کی جو ’عزت افزائی‘ ہو رہی ہے دنیا اس کی عادی شاید نہ ہو مگر ہمارے لیے ایک معمول کی بات ہے۔

آج ماشااللہ پاکستان ہاکی ورلڈ رینکنگ میں 14ویں اور انڈیا آٹھویں نمبر پر ہے۔ ایک، دو، تین، چار، پانچ یورپ کے پاس ہیں۔

تاہم ہاکی قومی کھیل کی مسند پر بہرحال برقرار ہے مگر اس مسند کے پیچھے ایک قدِ آدم آئینہ بھی تو ہے۔

ہر ایک شخص کو ہے فکر اپنے چہرے کی

کوئی بھی آئینہ خانے کا سوچتا ہی نہیں

(کاشف حسین غائر)

’جیلر سے اڑی بازی کا نتیجہ‘دو شاہانہ شادیوں کے بیچ عبداللہ دیوانہعمران خان جیلر ہے یا قیدی؟’کھلے مین ہول یا نالے میں رات کو ہرگز مت گریں‘ضیاالحق کا خواب پورا ہونے میں 46 سال لگے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More