فضائی حملے، چوکیوں پر قبضے اور جہاز گرانے کے دعوے: افغانستان اور پاکستان کے درمیان گذشتہ دو روز کی جھڑپوں کے دوران کیا ہوا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 28, 2026

Getty Images

افعانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دو دن کے دوران انھوں نے پاکستان کے خلاف انتقامی اور شدید جارحانہ حملے کیے جس کے نتیجے میں 110 پاکستانی فوجی ہلاک اور 68 شدید زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اس بارے میں تفصیلات شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’اس دوران پاکستانی فوج کی 27 چوکیوں پر بھی قبضہ کیا گیا۔‘

اس سے قبل سنیچر کے ہی روز پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ اب تک آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا اور 28 فروری کی صبح تک افغان طالبان کے331 اہلکار ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔

عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹوں، 163 ٹینک اور مسلح گاڑیوں کا تباہ کرنے جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیاں جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔

پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

جمعرات کی رات افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان طالبان نے اسے چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری کا جواب قرار دیا تھا۔

طالبان کے سرکاری عہدیداروں نے جمعرات کی شام کے حملوں کو پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں اس ہفتے کے شروع میں پاکستانی فضائی حملوں کا ’بدلہ‘ قرار دیا، جن میں طالبان حکام کے مطابق کم از کم 18 افراد مارے گئے تھے۔

Getty Imagesافغان میڈیا کا پاکستانی جہاز گرانے اور پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

افغان میڈیا کے مطابق افغان فورسز نے ننگرہار میں ایک پاکستانی طیارے کو مار گرایا ہے جبکہ اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

طلوع نیوز کے مطابق طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں طلوع نیوز کی اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق اس دعوے کو انڈین میڈیا اور افغانستان کے پروپیگنڈا آؤٹ لیٹس نے پھیلایا۔

’پاکستانی سکیورٹی ادارے اپنی کمزوری چھپانے کے لیے افغانستان پر الزامات عائد کرتے ہیں‘: افغان وزیرِ دفاع کا اسلام آباد کو تعاون بڑھانے کا مشورہسرحدی حملوں سے سفارتی جمود تک: کیا پاکستان اور افغانستان ایک نئے سکیورٹی بحران کے دہانے پر ہیں؟جب افغانستان سے پاکستان پر سکڈ میزائلوں کی بارش ہوئیافغان طالبان کی قیادت میں موجود دراڑ اور انٹرنیٹ کی بندش کے پس منظر میں ہونے والی لڑائیافغان وزارتِ دفاع کے بیان میں کیا ہے؟

پاکستان میں ’جوابی کارروائیوں‘ سے متعلق افغان وزارت دفاع کے بیان میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

جمعے کے روز افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہپکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا۔

افغان وزارتِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے دو اڈے اور 19 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ فوجی ٹرکوں سمیت بھاری فوجی سازو سامان بھی تحویل میں لیا گیا۔

بیان میں تصدیق کی گئی کہ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ننگرہار کے پناہ گزین کیمپ پر پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 33 افراد زخمی ہوئے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کی جانب سے پاکستانی فوج کی چوکیوں پر قبضے کے دعوے کو بھی مسترد کیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کے رہائشیوں نے جمعے کو شہر بھر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں اور انھیں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہا گیا۔

پاکستان نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ جمعرات کو رات گئے افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی فوج کی چوکیوں پر حملے کے دوران دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تصدیق کی تھی کہ افغان طالبان کے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے جواب میں کارروائی کے دوران تین پاکستانی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Getty Images’صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا اور اب کھلی جنگ ہوگی‘

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف شہروں میں کارروائیوں کے بعد افغان طالبان کے ترجمان نے سرحد پر پاکستانی فوج کے خلاف دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم کچھ دیر بعد اُنھوں نے ایکس پر اپنا یہ بیان حذف کر دیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج وطن کے دفاع کے لیے الرٹ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی، انھیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اب کھلی جنگ ہوگی۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے افغان طالبان پر ’ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابل کی عبوری حکومت نے ’دہشتگردی کو ایکسپورٹ‘ کیا۔

ادھر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کابل، قندھار اور پکتیکا میں پاکستانی حملوں کی مذمت کی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’افغان اپنے مکمل اتحاد سے اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے اور جرات کے ساتھ جارحیت کا جواب دیں گے۔‘

کشیدگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بیس فضائی حملوں میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا، جس میں اسی سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا تھا۔

افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا تھا اور ان حملوں کو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔

دونوں ممالک کے مابین اکتوبر میں بھی سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے تھے۔ تاہم دوست ممالک کی ثالثی میں دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔

لیکن حالیہ عرصے میں پاکستان میں تواتر کے ساتھ ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستانی حکام نے ایک بار پھر ان واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے دعوے کیے تھے۔

’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟’پاکستانی سکیورٹی ادارے اپنی کمزوری چھپانے کے لیے افغانستان پر الزامات عائد کرتے ہیں‘: افغان وزیرِ دفاع کا اسلام آباد کو تعاون بڑھانے کا مشورہپاکستان کی افغانستان میں کارروائی اور کابل کی ’مناسب وقت پر‘ ردعمل کی دھمکی: ’یہ افغان طالبان کے لیے ایک وارننگ تھی‘الزامات، بداعتمادی اور آن لائن پروپیگنڈا: استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات سے کیا توقعات ہیں؟ابھینندن کا طیارہ گرنے کے بعد کیا ہوا تھا؟نیتن یاہو اور مودی کی طالبان حمایت سے متعلق ’ڈیپ فیک ویڈیوز‘: ’یہ اے آئی ہے لیکن انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ڈھکا چھپا نہیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More