پاکستان نے افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ کیوں بنایا اور یہ جھڑپیں کب تک جاری رہیں گی؟

بی بی سی اردو  |  Mar 03, 2026

Getty Images

پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے درمیان جاری جھڑپیں چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہیں جس دوران پاکستان نے اب تک پڑوسی ملک میں 56 مقامات پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ بگرام ایئر بیس پر کارروائی کو ناکام بنایا گیا ہے۔

اگرچہ پاکستانی حکام نے بگرام ایئربیس کو نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت خوارزمی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ بگرام ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان کی طرف سے افغانستان میں ’دہشتگردوں کے ٹھکانوں‘ کے علاوہ فوجی تنصیبات جیسے اسلحے کے ڈپو اور بٹالین ہیڈ کوارٹر پر حملوں کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔

منگل کو ایک پیغام میں پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ تھا کہ چھ روز سے جاری جھڑپوں کے دوران اب تک افغانستان میں افغان طالبان کے 464 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 188 چیک پوسٹیں تباہ کی گئی ہیں، 31 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے اور 192 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی گئی ہیں۔

دوسری طرف افغان وزارت دفاع نے سرحد پار 100 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور 25 چوکیوں پر قبضے کے دعوے کیے ہیں۔ اس نے پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے فضائی حملوں کے بھی دعوے کیے ہیں۔

دونوں طرف سے کیے جانے والے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرتی بعض تصاویر اور ویڈیوز میں سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاحال پاکستان اور افغان طالبان نے ایک دوسرے کے خلاف جاری کارروائیاں روکنے کے حوالے سے مذاکرات کی بحالی کا عندیہ نہیں دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ جہاں ایک طرف ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیاں جاری ہیں تو وہیں بظاہر پاکستان بھی افغانستان کے اندر ایسے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے امن قائم ہو سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان افغان طالبان کی حکومت پر شدت پسند گروہوں کی معاونت کا الزام لگاتا ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کو اس کا اندرونی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے شدت پسند پاکستان میں آ کر حملے کرتے ہیں اور افغان حکام انھیں روکیں۔ جبکہ افغان حکام اس کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

Getty Imagesجھڑپوں کے دوران پاکستان اور افغانستان میں کتنا نقصان ہوا؟

چھ روز سے جاری جھڑپوں کی ابتدا میں پاکستان اور افغان طالبان سرحد پار ایک دوسرے کی چوکیوں پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ پاکستان نے افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کے بھی دعوے کیے تھے۔

مگر اب پاکستان کی جانب سے حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ افغانستان کے اندر عبوری حکومت کی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

منگل کو پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ افغان طالبان نے شمالی بلوچستان میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں 16 مقامات پر حملے کیے ہیں جہاں پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ ناکام بناتے ہوئے 27 طالبان اہلکاروں کو ہلاک کیا اور ایک ایف سی اہلکار کی جان چلی گئی۔

انھوں نے لکھا کہ اسی طرح خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر افغان طالبان کے حملوں کو ’پسپا کیا گیا ہے جس میں 40 افغان طالبان مارے گئے ہیں۔‘

’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟سرحدی حملے اور سفارتی جمود: پاکستان اور افغانستان کا تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اس نہج تک کیسے پہنچے؟پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟

اسی طرح افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں بعض فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کیے گئے ہیں تاہم ان حملوں میں کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

طالبان کی عبوری حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اب تک پاکستان نے پکتیکا، پکتیا، خوست، کابل، ننگرہار، کنر اور قندھار میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں 110 شہری ہلاک اور 123 زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں میں 350 سے زیادہ گھر جزوی یا مکمل تباہ اور 8400 خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان کے پاس افغانستان میں آپریشن شروع کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کیے جا رہے ہیں۔

نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پر انٹیلیجنس کی بنیاد پر فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق اب تک افغانستان کی طرف سے کیے جانے والے حملوں میں اب تک 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، 27 زخمی ہیں جبکہ ایک لاپتہ ہے۔

Getty Imagesفوجی اہداف پر حملے کب تک جاری رہیں گے؟

چند روز قبل پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا تھا کہ افغانستان میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک طالبان شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلق ختم نہیں کرتے اور ان کے خلاف اقدامات نہیں کرتے۔

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان وزارت دفاع کے ترجمان عنائت اللہ خوارزمی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے پاس اتنی قوت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے خلاف 'جنگ جاری رکھ سکیں۔'

خوارزمی کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی مزید کارروائی کی صورت میں 'سخت ردِعمل' دیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں افغان حکام نے ایک جانب جوابی کارروائیوں کا ذکر کیا تو دوسری جانب یہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوشش کی جائے تو ’بات چیت کے دروازے بند نہیں۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ جھڑپیں ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے اور جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ تاریخ میں پہلی بار براہ راست افغانستان کے اندر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کا خیال ہے کہ پاکستان ان فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جو شدت پسندوں کی معاونت میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

ایکس پر ایک پیغام میں انھوں نے لکھا کہ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ یہ مقامات خودکش حملہ آوروں کو تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق سرحد پر افغانستان کے اندر سٹریٹیجک چیک پوسٹس پر قبضہ کرنے کا مقصد بفر زون کا قیام ہے تاکہ دراندازی پر نظر رکھی جائے۔

جبکہ ان کے بقول اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ افغان طالبان قیادت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔

اسی بارے میں سینیئر تجزیہ کار اور محقق عبدال سید نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے پاکستانی طالبان کی بجائے افغان طالبان کے فوجی مراکز کو نشانہ بنانے سے یہ نظر آتا ہے کہ اب کی بار افغانستان پر پاکستان کے حملے ’ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔‘

ان کے مطابق اس کا مقصد ’طالبان فورسز کو متواتر حملوں سے کمزور کر کے انھیں پاکستان کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔‘

مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ’افغان طالبان پر ان حملوں سے کوئی خاص اثر نظر نہیں آتا بلکہ ان کے میڈیا پر بیانات سے بھی لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ایک طویل جنگ کے لیے حامیوں کو تیار رہنے کا کہہ رہے ہیں۔‘

گذشتہ سال اکتوبر میں جب پاکستان اور افغانستان کی درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں تو اس وقت قطر، ترکی اور سعودی عرب نے دونوں ملکوں کو فائر بندی پر آمادہ کیا تھا۔

حالیہ کشیدگی کے دوران جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں اور اسی طرح ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں ہو رہی ہیں ایسے میں پاکستان افغانستان جھڑپیں عالمی منظر نامے میں کم ہی نظر آ رہی ہیں۔

تجزیہ کار اور محقق عبدالسید کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ایک 'گوریلا قوت رہی ہے جو پاکستان کے فضائی حملوں کے لیے درکار ملٹری قوت نہ ہونے کی وجہ سے گوریلا حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ پاکستان کے مقابل اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کر سکے۔'

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ وہ 'ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستان کی سکیورٹی پوسٹس پر رات کی تاریکی میں حملہ کر کے انھیں تباہ کرنے اور پاکستانی فورسز کو جانی نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ہیں، جیسا کہ گذشتہ شب جنوبی افغانستان کے قندھار اور زابل صوبوں سے حملے کیے گئے۔'

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے اہداف طے کیے ہوئے ہیں اور وہ انھیں حاصل کرے گا۔

وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اس بار ٹی ٹی پی کی بجائے افغان طالبان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہا جاتا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکی اسلحہ موجود ہے جو بڑا خطرہ ہے۔ 'اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اسلحہ ختم کرنا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس میں امریکہ کی رضا مندی شامل ہو کیونکہ یہ اسلحہ ایسے ختم نہیں ہو سکتا تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو سفارتی سطح پر ٹی ٹی پی کے بارے میں اپنا واضح موقف بیان کرنا چاہیے۔ 'ماضی میں وہ ایک گروہ تھے لیکن اب وہ ایک حکومت میں ہیں اور انھیں چاہیے تھا کہ وہ جب ثالثی کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں اس وقت بہتر انداز میں ان معاملات کو طے کر سکتے تھے لیکن شاید انھیں اس کا ادراک نہیں تھا کہ صورتحال اس حد تک پہنچ جائے گی۔'

’بچے رات کو سو نہیں سکتے، ہر طرف خوف ہے‘: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران سرحدی علاقوں میں کیا صورتحال ہے؟پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اس نہج تک کیسے پہنچے؟سرحدی حملے اور سفارتی جمود: پاکستان اور افغانستان کا تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟ ’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More