دیوا شریف میں ہولی جہاں ’کوئی ہندو مسلم نہیں، سب بھائی بھائی ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Mar 05, 2026

BBCجب دیوا شریف کی ہولی میں شرکت کی برسوں پرانی خواہش پوری ہوئی

ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ

نام نبی کی رتن چڑھی بوند پڑی اللہ اللہ

رنگ رنگیلی اوہی کھلاوے جو سکھی ہووے فنا فی اللہ

ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ۔۔۔

18ویں صدی کے مشہور صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کا یہ کلام بیشتیر لوگوں کے لیے شاید صرف ایک ادبی فن پارے کی حیثیت رکھتا ہو لیکن پریاگ راج (سابقہ الٰہ آباد) کے رہنے والے دو دوستوں وسیم علی اور آکاش پانڈے کے لیے یہ ان کی زندگی کا حصہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں گذشتہ کئی برسوں سے اپنے شہر میں کی بجائے ڈھائی سو کلو میٹر دور دیوا نامی ایک قصبے میں ہولی مناتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہمارے شہر میں اچھی ہولی نہیں منائی جاتی۔ لیکن یہاں کی ہولی کی بات ہی کچھ الگ ہے۔‘

وسیم علی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گذشتہ آٹھ برسوں سے ہولی کھیلنے دیوا آتے ہیں۔ ان کے ساتھی آکاش نے بتایا کہ وہ گذشتہ پانچ سالوں سے ہولی کھیلنے یہاں آتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق انھیں ’اس میں ایک الگ طرح کا سکون ملتا ہے۔ یہاں کوئی ہندو، کوئی مسلم نہیں ہوتا۔ سب بھائی بھائی ہوتے ہیں۔‘

آکاش اور وسیم کی طرح پریتی جیسوال بھی بدھ کے روز اپنے شہر سے ہولی منانے دیوا پہنچیں۔ لیکن ان کا سفر ان دونوں دوستوں کے مقابلے اور بھی لمبا تھا کیونکہ کولکتہ سے دیوا کا ان کا سفر کوئی نو سو کلو میٹر طویل تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں کی ہولی کے بارے میں تو سالوں سے سنتی آ رہی تھی اور میری دلی خواہش بھی تھی کہ میں اس میں شرکت کروں۔ لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا تھا۔ مگر اس بار وارث پاک نے مجھے بلا لیا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہاں کا کیا ہی کہنا، یہاں کا تو سب کچھ اچھا ہی اچھا ہے۔ من میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے، سب ایک ہیں۔‘

BBCدیوا شریف کی ہولی میں ہر مذہب و ملت کے لوگ دور دور سے شامل ہونے آتے ہیں

در اصل یہ ہولی لکھنؤ سے تقریباً 50 کلو میٹر دور بارہ بنکی ضلع میں واقع دیوا شریف درگاہ میں منائی جاتی ہے۔ اور ہر سال اس میں مختلف مذاہب کے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس کا انعقاد مسلمان کرتے ہیں اور اس میں ہندو، مسلم، سکھ، بچے، بوڑھے، نوجوان، مرد اور عورت سب شامل ہوتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ اس کی ابتدا حاجی حافظ سید وارث علی شاہ نامی ایک صوفی بزرگ نے قریب ڈیرھ سو سال پہلے کی تھی۔

وارث علی شاہ کی پیدائش سنہ 1817 میں بارہ بنکی ضلع کے ہی رسول پور گاؤں میں ہوئی تھا اور 1905 میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کے مریدوں میں تمام مذاہب کے منانے والے ہیں اور ہرسال اکتوبر-نومبر کے مہینے میں ان کی برسی پر دیوا شریف میں بڑا عرس ہوتا ہے، جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں۔

ہولی: گائے کے پیشاب سے بننے والا پیلا رنگ جو ہندوستان سے پوری دنیا میں پھیل گیا’انسانیت مذہب سے بالاتر ہے‘: جب بچوں کی مدد کے لیے انڈیا میں مسلمان شہریوں نے ہندو شخص کی آخری رسومات ادا کیں’مجھے عوام نہیں، دشمن سے لڑنے کی تربیت دی گئی‘: آپریشن بلیو سٹار کے سربراہ جنھیں جنرل ضیا مرتے دم تک آم اور کینو بھیجتے رہے28 برس قبل ’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا تھا‘

رسول پور گاؤں کے سماجی کارکن ڈاکٹر ریحان کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حضرت وارث علی شاہ یہاں سے ہجرت کر کے دیوا شریف چلے گئے، جو کہ پچاس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اور اسی کو اپنا مسکن بنایا۔

’کیونکہ ان کے ماننے والوں میں ہندو بھی شامل تھے تو انھوں نے ہولی منانا شروع کی اور یہ سلسلہ ان کی وفات کے 120 سال کے بعد بھی جاری ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت یہ ہولی گیندے کے پھول سے کھیلی جاتی تھی۔ ان کے مطابق رسول پور گاؤں کی شہرت بنیادی طور وارث علی شاہ کے آبائی وطن ہونے کی وجہ سے ہے اور یہاں ابھی بھی وہ مسجد قائم ہے جس میں وہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کا نام مسجد موسوی ہے۔

BBCدیوا شریف میں وارث شاہ کے مزار پر ہولی کھیلنے کی روایت ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے قائم ہے

لکھنؤ کے معروف مصنف اور ثقافتی امور کے ماہر مسعود عبداللہ ہولی منانے کی اس روایت کو حضرت امیر خسرو اور نوابین اودھ سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہا کہ ’اس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ امیر خسرو جو اپنے پیر حضرت نظام الدین کو خوش کرنے کے لیے پورے جوگی بنے، پیلے رنگ پہنے، بسنت میں پھولوں کی ہولی کھیلی وہی سلسلہ خانقاہوں میں بھی جاری ہوا، دیوا بھی پہنچا اور یہی یہاں کی گنگا جمنی تہذیب ہے۔

’اِسی کو نوابین اودھ نے بھی پروان چڑھایا۔‘

اس سلسلے میں وہ نواب واجد علی شاہ کے دور کا ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک سال ہولی اور محرم دونوں ایک ہی دن تھا تو واجد علی شاہ نے ’صبح پہلے اپنی رعایا کے ساتھ ہولی کھیلی اور پھر محرّم کے جلوس میں شامل ہوئے۔‘

واضح ہو کہ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی ہولی اور رمضان دونوں ایک ساتھ ہونے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں دیکھا گیا اور عوام میں وہی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔

BBCرحیم النسا وارثی کا کہنا ہے کہ دیوا شریف کی ہولی ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے

دیوا کی ہی رہنے والی رحیم النسا وارثی کا خاندان اس کی مثال ہے۔ رمضان کے باوجود بھی ان کا خاندان آستانہ پر ہولی کھیلنے پہنچا۔

انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’ہر سال کی طرح وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ خوشی خوشی بغیر کسی دباؤ کے ہولی کھیلنے آئی ہیں۔ یہ سب لوگوں میں اتحاد، ہندو مسلم سب بھائی بھائی ہیں کی علامت ہے۔‘

ہر سال کی طرح اس سال بھی ہولی کا جلوس شہر کے قومی ایکتا گیٹ پر مٹکا پھوڑنے کے ساتھ شروع ہوا اور پورے علاقے میں گھومتے ہوئے وارث علی شاہ کے آستانہ پر پہنچا۔

دیوا ہولی اُتسَو کمیٹی کے صدر اودھ کشور مشرا بتاتے ہیں کہ اس ہولی کو دیکھنے اور اس میں شریک ہونے علاقے کے لوگوں علاوہ دور دور سے بھی لوگ آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ واحد ہولی ہے جو ’(بلھے شاہ کے) آستانے پر کھیلی جاتی ہے اور اِسی لیے اِس کی دھوم دور دور تک ہے۔‘

وہ اس روایت کو قومی یکجتی اور مذہبی رواداری کی مثال مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں قومی اتحاد قائم ہے اور قائم رہے، کبھی نہیں ختم ہوگا۔‘

دیوا شریف جہاں ہولی کی ’بات ہی کچھ الگ ہے‘’ہولی کے رنگوں سے مسئلہ ہے تو جمعہ گھر پڑھیں‘: مودی کے انڈیا کا موازنہ ضیا الحق کے پاکستان سے کیوں ہو رہا ہے؟وہ گاؤں جہاں شراب کی فروخت بند کروانے کے لیے ریفرینڈم ہوا28 برس قبل ’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا تھا‘’انسانیت مذہب سے بالاتر ہے‘: جب بچوں کی مدد کے لیے انڈیا میں مسلمان شہریوں نے ہندو شخص کی آخری رسومات ادا کیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More