ایران میں پھنسے پاکستانی ملاح: ’وہ پورٹ سے نکل ہی رہے تھے کہ دو میزائل حملے ہوئے‘

بی بی سی اردو  |  Mar 12, 2026

AFP via Getty Imagesآئل ٹینکر کے قریب پرواز کرتا پاسداران انقلاب کا طیارہ (علامتی تصویر)

’میرا بیٹا ایران کی کیش پورٹ (بندر کیش) پر اپنے جہاز میں تھا جب اعلان ہوا کہ تمام لوگ فوری طور پر بندرگاہ سے نکل جائیں۔‘

’ابھی وہ افراتفری کے عالم میں نکل ہی رہے تھے کہ وہاں یکے بعد دیگرے دو میزائل حملے ہوئے، جن میں پورٹ کا کافی نقصان ہوا۔‘

’دوسرے دن وہ دوبارہ جہاز پر گئے مگر انھیں انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ نکل جانے کا کہا گیا اور اس کے بعد اُسی روز پورٹ پر تین میزائل گرے جن میں کوئی پاکستانی تو زخمی نہیں ہوا مگر میرے بیٹے نے بتایا کہ اُن کی کمپنی کے ساتھ منسلک ایک انڈین سیلر (ملاح) زخمی ہوا تھا۔‘

یہ کہنا ہے کراچی کے رہائشی علی عباس جن کا بیٹا اویس اِس وقت ایران کی بندرگاہ کیش میں موجود ہے اور ایرانی پرچم بردار جہاز پر سوار عملے کا ایک رُکن ہے۔ شناخت کے تحفظ کے لیے دونوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ یہ جہاز خطے میں ایرانی خام تیل کی ترسیل پر مامور ہے۔

علی عباس کا کہنا ہے کہ انھوں نے تمام تر قانونی کارروائی پوری ہونے کے بعد اپنے بیٹے کو اس نوکری پر بھیجا تھا مگر اب جنگ کے باعث وہ ایران میں پھنس گیا ہے۔ حکومت پاکستان کے نام لکھے گئے ایک خط میں انھوں نے اپیل کی ہے کہ اُن کے بیٹے کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

علی عباس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی اپنے بیٹے سے انتہائی مختصر اوقات پر محیط گفتگو ہوتی ہے جس میں وہ انھیں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتا ہے۔

اویس اُن پاکستانی سیلرز (ملاحوں) میں شامل ہیں جو ایک نجی کمپنی ’پاک انٹرنیشنل میرین سروس پرائیوٹ لمیٹڈ‘ کے ذریعے بھرتی ہو کر ایران پہنچے تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے طور پر تمام پاکستانیوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس ضمن میں حکومت پاکستان بھی اُن کی مدد کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ تیل کی ترسیل کے کام سے منسلک ایرانی جہازوں پر پاکستانی سیلرز سمیت جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ملاح بھی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

اگرچہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس وقت مجموعی طور پر کتنے پاکستانی سیلرز ایرانی جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں تاہم ’پاک انٹرنیشنل میرین سروس پرائیوٹ لمیٹڈ‘ کے مطابق ان کی کمپنی سے وساطت سے بھیجے گئے 54 پاکستانی ملاح تاحال ایران میں ہی موجود ہیں۔

ایران میں پھنسے ان پاکستانی سیلرز کے خاندانوں نے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر اس حوالے سے مدد طلب کی ہے۔

ایران میں پھنسے پاکستانی ملاحوں سے متعلق سوال پر تہران میں پاکستانی سفیر محمد مدثر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کیا مدد ہوسکتی ہے اور کیسے کی جا سکتی ہے۔‘

’میرا بیٹا جنگ میں پھنس گیا ہے‘

علی عباس نے حکومت کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ بیٹے کو تمام ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قانونی طریقے سے بھیجا گیا تھا مگر اس وقت وہ جنگ میں پھنس گیا ہے۔ ’اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں، برائے مہربانی اس کو واپس پاکستان لانے میں مدد فراہم کی جائے۔‘ علی عباس کہتے ہیں کہ اُن کے بیٹے سمیت وہاں موجود تمام پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

اسی طرح ایک اور پاکستانی ملاح کے والد جاوید اقبال (نام تبدیل) نے بھی حکومت کو خط لکھا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے بلال نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایک ایرانی جہاز پر ملازمت حاصل کی تھی۔ یہ جہاز ’پرشین گلف شپنگ اینڈ میرین ایجنسی‘ نامی کمپنی سے تعلق رکھتا ہے اور بلال اس پر بطور ڈیزل مکینک کام کرتے ہیں۔

جاوید اقبال نے بھی اپنے بیٹے کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

AFP via Getty Imagesخلیج فارس کے قریب ایک آئل ٹینکر (علامتی تصویر) آئل ٹینکر کے ہمراہ ’طغرل کلاس‘ جنگی جہاز: پاکستان بحریہ کے ’آپریشن محافظ البحر‘ کا مقصد کیا ہے؟ ابو ظہبی میں ایرانی میزائل حملے کے دوران ہلاک پاکستانی ڈرائیور: ’کہتا تھا اب دبئی آ گیا ہوں تو کچا گھر پکا کریں گے‘مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟ایران اور اسرائیل کی تکرار، روسی قرارداد اور پاکستان کی حمایت: اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس میں کیا ہوا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایران میں کمیونیکشن کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ ’انٹرنیٹ، موبائیل ڈیٹا دستیاب نہیں ہے جبکہ سیٹلائیٹ فون بھی کام نہیں کر رہے ہیں۔ اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد میری اپنے بیٹے سے صرف دو دفعہ بات ہو سکی ہے۔ وہ پورٹ سے تھورا ہٹ کر کسی مقام پر جاتے ہیں اور وہاں سے جا کر کال کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کال بھی لمبی نہیں ہوتی، صرف ایک یا دو منٹ بات کر پاتے ہیں اور پھر رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ میری آخری بات اس کے ساتھ گذشتہ روز ہوئی تھی جس میں اس نے بتایا تھا کہ اب پورٹ پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔‘

علی عباس نے دعویٰ کیا کہ پورٹ پر کھانے پینے کی بھی ضروری سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں جبکہ دن میں ایک مرتبہ تھوڑی سی دال ملتی ہے جبکہ پینے کے پانی کی بھی مناسب سہولت نہیں ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سیلرز کو پورٹ سے واپس نکلنے کی اجازت بھی نہیں مل پا رہی ہے۔

ایک اور پاکستانی ملاح فیصل بھی اس وقت ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 21 سالہ فیصل کے چچا وقاص کا کہنا ہے کہ ’کئی دن ہو گئے ہیں مگر ہمارا رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ہمارا اس کی کمپنی کے ایک افسر سے رابطہ ہوا تھا جنھوں نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت حالات بہت خراب ہیں اس لیے اسے پورٹ سے نہیں نکالا جا سکتا۔‘ شناخت کے تحفظ کے لیے دونوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

وقاص کے مطابق کمپنی نے کہا کہ اس حوالے سے ’ہم کچھ نہیں کر سکتے ماسوائے اس بات کا انتظار کریں کہ حالات پر امن ہو جائیں۔‘

’تنخواہ چھوڑیں، پلیز پاسپورٹ واپس کریں‘

علی عباس کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے کے مطابق وہاں پر صرف غیر ملکی ہی نہیں بلکہ ایرانی شہری بھی مشکلات کا شکار ہیں۔

’وہاں پر ہر وقت یہی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ کس دن اور کتنے بجے پورٹ پر موجود جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

علی عباس کا کہنا تھا کہ جن کمپنیوں کے ذریعے پاکستانی وہاں ملازمت حاصل کرتے ہیں ان کے معاہدوں میں ماہانہ تنخواہ کا نہیں بلکہ سالانہ یا ششماہی بنیادوں پر معاوضے کا معاہدہ ہوتا ہے اور پاسپورٹ بھی اُن کمپنیوں کے پاس ہی ہوتے ہیں جہاں نوکری ہوتی ہے۔

’مجھے میرے بیٹے نے بتایا کہ انھوں نے اپنے پاسپورٹ واپس حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انھیں صاف انکار تو نہیں کیا گیا مگر اب تک پاسپورٹ بھی نہیں دیے گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ تنخواہ ملتی ہے یا نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ انھیں پاسپورٹ ملیں تاکہ وہ پاکستان واپس آ سکیں۔ ’میرے بیٹے کی تنخواہ چھوڑیں، پلیز اس کا پاسپورٹ واپس کریں۔‘

حکومت پاکستان کا مؤقف

ایران میں تعینات سفیر محمد مدثر نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت کیش پورٹ اور اردگرد کے علاقے میں موبائل، انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز کام نہیں کر رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سفارت خانہ متحرک ہے۔ ان کے ساتھ رابطے کرنے اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کیا مدد ہوسکتی ہے اور کیسے کی جا سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ ایران میں پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ایران میں موجود پاکستانی شہری جن کے پاس درست یا مستند دستاویزات نہیں ہیں اور وہ پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں، وہ زاہدان ڈیپورٹیشن سینٹر پہنچ جائیں۔‘

سفارتخانے کے مطابق ’ایسے شہریوں کو اپنے ساتھ شہریت کا ثبوت لانا ہو گا (جیسا کہ اصل شناختی کارڈ یا پاسپورٹ، اس کی فوٹو کاپی یا الیکٹرانک کاپی) جس کی بنیاد پر ایرانی حکام انھیں ایران سے پاکستان جانے کی اجازت دیں گے۔ پاکستان کی سرحد پر آمد پر نادرا کی ایک وین تعینات کر دی گئی ہے، جو اُن کی شہریت کی تصدیق کرے گی اور اس کے بعد انھیں پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔‘

ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد سے درجنوں پاکستانی، جن میں کثیر تعداد ایرانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا کی ہے، وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

ابو ظہبی میں ایرانی میزائل حملے کے دوران ہلاک پاکستانی ڈرائیور: ’کہتا تھا اب دبئی آ گیا ہوں تو کچا گھر پکا کریں گے‘مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟آئل ٹینکر کے ہمراہ ’طغرل کلاس‘ جنگی جہاز: پاکستان بحریہ کے ’آپریشن محافظ البحر‘ کا مقصد کیا ہے؟ مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کی بقا کی جنگ اور نئے رہبر اعلیٰ کا پہلا امتحانپاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More