Getty Images
یکم مارچ کو تقریباً ایک سال بعد جب 34 سالہ مناظر خان نے اتر پردیش کے دھنیتا سوتیپورہ گاؤں کی مسجد غوثیہ میں تقریباً 80 افراد کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور دل خوشی سے سرشار تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جس کا انھوں نے پورے ایک سال انتظار کیا تھا۔
گاؤں کی تقریباً 30 فیصد مسلم آبادی کو ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک 20 سے زائد افراد کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے پر پابندی کا سامنا تھا۔
خان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی پولیس اور ضلعی انتظامی کی جانب سے اُن پر اس وقت عائد کی گئی جب ایک ہندو گروپ نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ وہاں نماز کی ادائیگی کے سبب انھیں ’پریشانی‘ ہوتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مناظر خان نے بتایا کہ اس دوران وہ صرف چار سے پانچ افراد کے ساتھ ہی گاؤں کی اس واحد مسجد میں نماز ادا کر پاتے تھے۔فروری 2025 میں پولیس نے انھیں ہدایت دی تھی کہ مسجد میں کسی بڑی جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کی جائے۔
حالانکہ مسجد کمیٹی کے اراکین اور خان نے اس مسئلے پر کئی مرتبہ مقامی پولیس افسران سے ملاقاتیں کیں اور انھیں درخواستیں بھی دیں، لیکن ان کی کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
مناظر خان نے کہا: ’پولیس کی ہدایت کے بعد ہم صرف گھر کے افراد کے ساتھ ہی یہاں نماز ادا کر رہے تھے۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ صدیوں سے پورے گاؤں کا ایک ساتھ نماز ادا کرنا اچانک اس طرح رک جانا تکلیف دہ تھا، مگر ہم مجبور تھے۔‘
اس دوران نومبر میں انھوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایک درخواست بھی دی لیکن ان کے مطابق اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
صدیوں پرانی اس مسجد سے خان کا خاندان جڑا ہوا ہے، یہ مسجد ان کی آبائی زمین پر واقع ہے اور وہ اس مسجد کے خادم بھی رہ چکے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مسجد کو خالی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔‘
Getty Imagesانڈیا میں کئی مساجد تنازعے کا شکار ہیںالہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست
جنوری 2026 میں ایک دوست کے مشورے پر خان نے الہ آباد ہائی کورٹ کا رخ کیا اور 27 فروری کو جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا: ’ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر کمیونٹی اپنی مقررہ عبادت گاہ میں پُرامن طریقے سے عبادت کر سکے۔۔۔ اور اگر جگہ ذاتی ملکیت ہو تو بغیر کسی اجازت کے عبادت کی جا سکتی ہے۔‘
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف ان صورتوں میں ریاست کی اجازت ضروری ہوتی ہے جب عبادت یا مذہبی تقریب کسی عوامی جگہ پر ہو یا اس کا اثر عوامی املاک تک پھیل رہا ہو۔
ریاست کی جانب سے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ممکنہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے پیش نظر عبادت کرنے والوں کی تعداد پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
اس پر بینچ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’ہم ریاست کے وکیل کی اس دلیل کو سراسر مسترد کرتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر صورت میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔‘
عدالت نے مزید کہا: ’اگر مقامی حکام، جیسے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور کلکٹر، یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ قانون کی بالادستی برقرار نہیں رکھ سکتے تو انھیں یا تو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے یا تبادلے کی درخواست کرنی چاہیے۔‘
عدالت کے اس فیصلے نے اگرچہ خان اور ان کے گاؤں کے مسلمانوں کو راحت دی مگر انڈیا میں مسلمانوں کو درپیش مسائل میں بظاہر کوئی کمی نظر نہیں آتی۔
Getty Imagesمسجد میں نماز کے لیے جمع نمازی
گذشتہ دنوں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک بار پھر انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتِحال پر سوالات اُٹھائے تھے۔
رپورٹ میں امریکی حکومت کو سفارش کی گئی تھی کہ انڈیا کو اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے ’خاص تشویش‘ پائی جاتی ہے۔
کمیشن نے کچھ اداروں اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور انڈیا کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسِس وِنگ (را) بھی شامل ہے۔
وائرل کشمیری چوڑیاں جو ’کشمیری نہیں ہیں‘: ’یہ سب ٹک ٹاکرز کا کیا دھرا ہے‘بمباری اور تباہی کے درمیان ایران میں سالِ نو کا آغاز اور مجبتی خامنہ ای کا پیغام: ’پاکستان میرے والد کا خاص پسندیدہ تھا‘بلھا، آگ لگے بستی میں اور دہلی گیٹ: عید پر ریلیز ہونے والی تین پاکستانی فلمیں کیا سینما گھروں کی رونق واپس لا پائیں گی؟'کھانے کی اتنی اہمیت کہ روزے کا تصور نہیں'
رپورٹ کے مطابق ایسے اداروں سے متعلق افراد کے امریکہ میں اثاثے منجمد ہو سکتے ہیں اور اُن کے امریکہ داخلے پر پابندی لگ سکتی ہے۔
دوسری جانب انڈین وزارتِ خارجہ نے رپورٹ کو ’سیاسی ایجنڈے پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یو ایس سی آئی آر ایف ایک جانبدار تنظیم ہے جس کا سیاسی ایجنڈا ہے۔ یہ حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتی ہے اور انڈیا کے بارے میں سیاسی ایجنڈے سے متاثر بیانیہ پیش کرتی ہے۔ ہم اس بدنیتی پر مبنی رپورٹ کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔‘
کیا یہ فیصلہ نظیر بن سکتا ہے؟
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے وکیل انس تنویر نے سوال اٹھایا: ’وہ نماز جس کے الفاظ عربی میں ہوتے ہیں اور جنھیں اکثر لوگ سمجھتے بھی نہیں، آخر کیسے ان کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے؟‘
ان کے بقول پولیس کو غنڈوں کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے غیر جانب دار رہنا چاہیے۔
انس تنویر نے مزید کہا کہ زمینی سطح پر پولیس کا رویہ غیر جانبدار دکھائی نہیں دیتا۔ ’اگر کوئی شخص اپنے گھر میں بھی نماز ادا کرے تو وہ کیسے مسئلہ بن سکتا ہے؟‘
اجتماعی عبادات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’عید کی نماز یا دیگر عبادات محض چند منٹوں کا معاملہ ہوتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سڑکوں اور ٹریفک کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے مناسب جگہوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔‘
’نماز کے لیے لوگوں کی تعداد محدود کرنا اور نجی مقامات پر نماز ادا کرنے پر سوال اٹھانا غیر آئینی ہے۔‘
انڈیا میں مسلمانوں کی نماز اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے اتر پردیش، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور اتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسی سال جنوری میں بریلی کے محمد گنج علاقے میں 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جب وہ ایک نجی ملکیت میں نماز ادا کر رہے تھے۔
سنبھل کے مرکزی علاقے میں رہنے والے ایک نوجوان نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ خوف اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ اب مسجد کے علاوہ اپنے گھروں یا صحن میں بھی نماز ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔
’یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں کسی نے ویڈیو بنا لی یا کوئی الزام لگا دیا تو ہمارے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔‘
Getty Imagesمتھرا کی شاہی مسجد پر ہندو یہ دعوی پیش کرتے ہیں کہ یہ ان کے بھگوان کرشن کی جائے پیدائش ہےمساجد پر بڑھتے حملے اور ریاستی سرپرستی
انسانی حقوق کے ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مساجد پر حملوں میں اس وقت سے اضافہ دیکھا گیا ہے جب سے انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 2019 کے بعد اپنی سیاسی طاقت مزید مستحکم کی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 2014 کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے مذہبی بنیادوں پر دو بڑے وعدے کیے تھے۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ اور بابری مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر۔ حکومت ان دونوں وعدوں کو پورا کر چکی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران بشمول وزیر اعظم بی جے پی کے کئی رہنما مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں اور بعض مواقع پر پروپیگنڈا کے ذریعے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس دوران نہ صرف مساجد پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مسلمانوں کے طرزِ زندگی، خصوصاً خوراک اور کاروبار، کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایسے اقدامات ملک کی ہندو اکثریت میں سیاسی حمایت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بنے ہیں۔
مسلم تنظیموں کی جانب سے مخالفت کے باوجود عدالتی فیصلوں اور بعد ازاں ہونے والی کارروائیوں نے ان مذہبی مقامات کے تحفظ کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
Getty Imagesمسجد میں ایک خاتون مصروف دعا
سنہ 2024 میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیا ناتھ نے ریاستی اسمبلی میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے متھرا کی شاہی عیدگاہ اور وارانسی کی گیان واپی مسجد کے حوالے سے منصوبوں کا ذکر کیا۔ یہ دو جگہیں ہندوتوا سیاست کے اہم اہداف میں شمار کی جاتی ہیں۔
ہندو فریق کا مؤقف ہے کہ یہ مقامات کبھی بھگوان کرشن اور بھگوان شیو کے مندروں کی جگہ تھے، جنھیں مبینہ طور پر مغل بادشاہ اورنگزیب کے دور میں مسمار کیا گیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفر الاسلام خان نے کہا کہ سنہ 2014 کے بعد ملک کا ماحول تبدیل ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہندوتوا کے غنڈوں اور ملیشیاؤں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ایک غیر اعلانیہ پالیسی کے تحت انھیں کچھ نہ کہا جائے۔ یہ سب کچھ پولیس کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے، لیکن اب بھی کچھ امید باقی ہے۔ جیسے اس حالیہ عدالتی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سنبھل میں اس سے پہلے بھی مساجد کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کریں۔
’پولیس تو پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں میں ملوث رہی ہے، اس پر مکمل بھروسہ مشکل ہے، لیکن عدالت کے ذریعے کچھ تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘
حکومتی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہندو برادری کے لوگ جہاز، ٹرینوں اور سڑکوں پر مذہبی سرگرمیاں کرتے ہیں اور اکثر تہواروں کے دوران راستے بند ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے کوئی قانون نظر نہیں آتا، لیکن اگر کوئی مسلمان اپنی نجی ملکیت میں نماز ادا کرے تو اسے مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔‘
ظفر الاسلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انڈیا کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے، اور مسلمانوں کو اس حق کے لیے پرامید رہنا چاہیے۔
انڈین پنجاب میں سکھ اور ہندو مسلمانوں کے لیے مساجد کیوں بنوا رہے ہیں؟دہلی میں پولیس کا سجدے میں نمازی کو لات مارنے کا واقعہ: ’کسی پر پھول برساتے ہو، کسی کو پیٹتے ہو، آخر یہ دوہرا رویہ کیوں؟‘انڈیا کی ’200 برس پرانی‘ مسجد جس میں ہندو اذان دیتے ہیں: ’میں نے سوچا یہ اللہ کا گھر ہے اسے آباد رہنا چاہیے‘دریائے گنگا پر ’افطار پارٹی‘: انڈیا میں 14 مسلمان گرفتار جن پر ’چکن بریانی‘ کھانے کا الزام ہے’آئی لوو محمد‘: عید میلاد النبی پر بینر لگانے سے شروع ہونے والا تنازع، مقدمات اور گرفتاریاں، ’پیغمبر سے محبت جرم نہیں‘