اٹلی کے عجائب گھر میں چوری: جب چور صرف تین منٹ میں 90 لاکھ یورو کے فن پارے لے کر فرار ہو گئے

بی بی سی اردو  |  Mar 31, 2026

Getty Images

پولیس کا کہنا ہے کہ رینوار، سیزان اور ماتیس کی لاکھوں یورو مالیت کی پینٹنگز اٹلی کے شہر پارما کے قریب ایک میوزیم میں ہونے والی ڈکیتی کے دوران چوری کر لی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق چار نقاب پوش افراد 22 مارچ کو میگنانی روکا فاؤنڈیشن ولا میں داخل ہوئے اور پیئرآگست رینوار کی ’لی پواسنز‘، پال سیزان کی ’سٹل لائف ود چیریز‘ اور ہنری میٹیس کی ’اوڈالسک آن دی ٹیرس‘ پینٹنگز لے گئے۔

اطالوی میڈیا کے مطابق یہ گروہ صرف تین منٹ میں عمارت کے اندر داخل ہو کر واپس باہر بھی نکل گیا اور صرف میوزیم کے الارم سسٹم نے انھیں مزید چوری کرنے سے روکا۔

Alamyہنری میٹیس کی ’اوڈالسک آن دی ٹیرس‘

یہ ادارہ حالیہ برسوں میں ہونے والی ڈکیتیوں کا تازہ ترین شکار بنا ہے۔

اس سے پہلے گذشتہ اکتوبر میں پیرس کے لوور میوزیم سے قیمتی جواہرات کی دن دہاڑے چوری نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔

لوو عجائب گھر سے سات منٹ میں آٹھ شاہی زیورات کی چوری: دن دیہاڑے ہونے والی ڈکیتی جس نے فرانس کو دنگ کر دیاعجائب گھر سے نوادرات چوری کرنا کتنا آسان ہے؟تین ہزار سال قدیم سونے کے بریسلیٹ کی چوری اور ہزاروں ڈالر میں فروخت: ’فرعون دور کا خزانہ ہمیشہ کے لیے گُم ہو گیا‘صحرائی پودے کیکٹس کی 10 لاکھ ڈالر کی چوری جو ایک سمگلر کے زوال کی وجہ بنی

اطالوی میڈیا کے مطابق ڈکیتی میں ملوث چورپارما کے دیہی علاقے میں واقع ولا دیئی کاپولاووری کے مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے اور عمارت کی پہلی منزل پر موجود فرینچ روم سے پینٹنگز چرا کر لے گئے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق یہ گروہ ’منظم اور تربیت یافتہ‘ دکھائی دیتا تھا اور اگر نجی کلیکشن کا الارم نہ بجتا اور پولیس کو اطلاع نہ ملتی تو وہ مزید فن پارے بھی لے جا سکتے تھے۔

علاقائی نشریاتی ادارے ٹی جی آر، جس نے سب سے پہلے اس چوری کی خبر دی کے مطابق، مجرم باڑ پھلانگ کر فرار ہو گئے۔

ایک اندازے کے مطابق چوری کی گئی پینٹنگز کی مجموعی مالیت 90 لاکھ یورو ہے، جن میں سے صرف ’لی پواسنز‘ کی قیمت 60 لاکھ یورو بتائی جاتی ہے۔

اس لاگت کی وجہ سے یہ واقعہ حالیہ برسوں میں اٹلی کی اہم ترین آرٹ چوریوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔

رینوار امپریشنسٹ تحریک کے نمایاں مصوروں میں سے ایک تھے اور انھوں نے سنہ 1917 میں آئل پینٹ سےکینوس پر ’لی پواسنز‘مکمل کی تھی۔

فاؤنڈیشن کے مطابق سیزان کی تخلیق جو تقریباً 1890 میں مکمل ہوئی۔ یہ ایک نایاب پینٹنگ ہے کیونکہ اس میں واٹر کلر استعمال کیا گیا ہے، جسے انھوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ہی اپنایا تھا۔

’اوڈالسک آن دی ٹیرس‘، جسے میٹیس نے 1922 میں بنایا، دو شخصیات کو دکھاتا ہے ایک خاتون دھوپ میں لیٹی ہوئی ہیں جبکہ دوسری کے ہاتھ میں وائلن ہے۔

Getty Images

چوری کی تحقیقات اب اٹلی کا کیرابینیری اور بولونیا کی کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن یونٹ کر رہا ہے۔

اس واردات کی خبراتوار کو منظرِ عام پر آئی تھی۔

میگنانی روکا فاؤنڈیشن، موسیقار اور آرٹ کلیکٹر لوئیجی میگنانی کی وفات کے بعد 1984 میں ان کے آبائی گھر میں قائم کی گئی تھی۔

لوو عجائب گھر سے سات منٹ میں آٹھ شاہی زیورات کی چوری: دن دیہاڑے ہونے والی ڈکیتی جس نے فرانس کو دنگ کر دیاعجائب گھر سے نوادرات چوری کرنا کتنا آسان ہے؟پاکستانی آرٹسٹ کے فن پارے جو 35 برس بعد حقیقی مالکان تک پہنچےصحرائی پودے کیکٹس کی 10 لاکھ ڈالر کی چوری جو ایک سمگلر کے زوال کی وجہ بنیجب برطانیہ میں صدیوں پرانا قیمتی خزانہ دریافت کرنے والوں کو جیل جانا پڑاتین ہزار سال قدیم سونے کے بریسلیٹ کی چوری اور ہزاروں ڈالر میں فروخت: ’فرعون دور کا خزانہ ہمیشہ کے لیے گُم ہو گیا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More