Getty Imagesایران کے خود کش ڈرونز خلیجی ممالک میں عمارتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن سے ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور بحرین جیسے ممالک طویل عرصے تک سرمایہ کاروں، ہنر مند افراد اور بڑی کمپنیوں کے لیے پرکشش سمجھے جاتے رہے ہیں۔ یہاں کے ہوائی اڈے مسافروں سے بھرے رہتے تھے اور یہ سیاحوں کے لیے بھی کشش کا باعث بنتے تھے۔
لیکن امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سب کچھ بدل کر رہ گیا ہے اور ان ممالک کی یہ ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرونز داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن کچھ میزائل اور ڈرونز نے یہاں شہریوں کو بھی نشانہبنایا ہے جبکہ توانائی کی تنصیبات بھی ان کی زد میں آئی ہیں۔
ان ممالک نے اس صورتحال سے نمٹنے اور معمول کی زندگی برقرار رکھنے کا تاثر دینے کے لیے ہنگامی اقدامات بھی اُٹھائے ہیں۔ ان میں گھروں سے کام ختم کرنے اور یونیورسٹی کلاسز دوبارہ شروع کرنے جیسے فیصلے شامل ہیں۔
لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ کی وجہ سے لگنے والے دھچکے کو جھیلنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن اس جنگ کے طویل مدتی سٹریٹجک اثرات ہوں گے۔
BBC
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے الیکس واٹنکا کا کہنا ہے کہ ’آپ ایران سے حملوں کو نہیں روک سکتے کیونکہ یہ جغرافیہ ہے، یہ قربت ہے۔یہ ممالک اب ایک گڑھے میں گر چکے ہیں، ایک ایسی جنگ میں فرنٹ لائن ریاستیں بن گئے ہیں جو ان کی نہیں تھی اور وہ اس کی بہت بھاری معاشی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اپنا سارا پیسہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ یہ ممالک ایران کے لیے بہت آسان ہدف ہیں۔
’ان کی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری چند ہزار مالیت کے ایرانی ڈرونز کی مار ہے۔‘
واٹنکا کا کہنا تھا کہ یہ عدم توازن، انشورنس کی لاگت کو بڑھا رہا ہے، اس سے لاجسٹک خرچے بڑھ رہے ہیں اور بہت سی کمپنیاں خلیجی ممالک میں اپنی موجودگی کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں۔
ٹرمپ ایران جنگ میں آگے کیا کر سکتے ہیں، 20 منٹ کی تقریر سے جنم لیتے سوالاتایرانی حملے اور خلیج کے پریشان ایشیائی ملازمین: کیا خلیجی ممالک کی نوکریوں کے عوض جان داؤ پر لگانا عقلمندی ہے؟ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںخود مختاری کو برقرار رکھنا
ایمریٹس پالیسی سینٹر نامی تھنک ٹینک کی صدر ڈاکٹر ابتسام ال کیتبی کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ اور ایران کے مابین لڑائی کی وجہ سے ایک مشکل راستے پر کھڑے ہیں۔ اس کا فوجی نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ یہ ممالک امریکہ کے ساتھ کسی سکیورٹی معاہدے کی تجدید کریں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ خلیجی ممالک کو امریکہ کے قریب دھکیلا جا رہا ہے اور فوری سکیورٹی ضروریات کی وجہ سے انھیں خاموشی سے فعال طور پر اسرائیل کے قریب بھی کیا جا رہا ہے۔
لیکن اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کوئی نظریاتی قربت نہیں ہو گی بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں صرف ایک عملی تعاون ہو گا، کیونکہ خلیجی ممالک جنگ کی گہرائی میں گھسیٹے جانے، بنیادی ہدف بننے اور سٹریٹجک خود مختاری کھو جانے کے خدشے سے محتاط ہیں۔
واٹنکا کہتے ہیں کہ خلیجی حکومتوں نے واشنگٹن کو تنازع میں اضافے کے خطرات سے بہت پہلے خبردار کیا تھا اور وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ گئے تھے۔
اُن کے بقول ٹرمپ خلیجی ممالک کو نظرانداز کرتے ہوئے نیتن یاہو کی وجہ سے جنگ میں کودے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ (خلیجی ممالک) جانتے ہیں کہ امریکہ، کبھی بھی اُن کے ساتھ اُس طرح نہیں چلے گا، جس طرح وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
ان کا استدلال ہے کہ امریکہ کی مقامی سیاست اس بات پر بھی پابندی عائد کرتی ہے کہ واشنگٹن طویل مدت میں خلیجی اتحادیوں کے دفاع کے لیے کس حد تک جائے گا۔
’یہ میک امریکہ گریٹ اگین کی اس بنیادی دلیل کے بھی برخلاف ہے کہ دُنیا بھر میں یہ مداخلتیں امریکہ کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔‘
ڈیٹرنس اور ڈپلومیسیGetty Images ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے صرف ایران ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بہت سے خلیجی ممالک کی اپس میں رقابت ہے
واٹنکا کا کہنا ہے کہ اپنی طرف سے ایران خلیجی ممالک پر غیر جانبدار رہنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
اُن کے بقول ایرانی وزیرِ خارجہ شکایت کر رہے ہیں کہ خلیجی ریاستوں میں سے کسی نے بھی ایران پر حملے کی مذمت نہیں کی۔ ایران ان سے کہہ رہا ہے کہ ’خود کو اس لڑائی سے باہر نکالو۔‘
اُن کے بقول دوسری جانب خلیجی حکومتیں ’ایران سے ناراض‘ ہیں، وہ بنیادی ہدف بننے سے بچنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکمتِ عملی امریکی یا اسرائیلی کارروائیوں میں واضح شرکت سے گریز کرتے ہوئے ڈیٹرنس پیدا کرنا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیجی ممالک میں لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنا سکتا ہے۔
کویتی حکومت کے سابق اہلکار ڈاکٹر بدر موسیٰ ال سیف کے مطابق، جو اب کویت یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور برطانیہ میں قائم تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس میں ایسوسی ایٹ فیلو ہیں، کہتے ہیں کہ اس معاملے کا حل طویل مدتی سفارتکاری میں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ایران سے براہ راست بات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک واضح منصوبے کے ساتھ آنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک اچھے ہمسائے کے طور پر کیسے رہ سکتے ہیں۔‘
معاشی برداشت کا امتحانGetty Images
خلیج کی تیل سے چلنے والی معیشتیں حالیہ عرصے میں ایک بڑے سروسز ہب کے طور پر دُنیا کے سامنے آئی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ جنگ نے اس رفتار کو تبدیل نہیں کیا، لیکن اس نے خطرات کو بے نقاب ضرور کیا ہے۔
ال کیتبی کو توقع ہے کہ خلیجی ممالک بڑے معاشی مرکز بنے رہیں گے، لیکن کمپنیاں اب سکیورٹی کے حوالے سے مزید شرائط رکھیں گی اور اس سے لامحالہ انشورنس کی لاگت بھی بڑھے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ ممالک اپنے کاروبارہ کا دائرہ کار مزید بڑھائیں گے اور دوبارہ چین سے رُجوع کریں گے تاکہ امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کم ہو سکے۔
ال سیف کہتے ہیں کہ خطے کی معاشی طاقت کو دھچکا تو ہر حال میں لگے گا اور اسے اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی۔
قطر میں راس لفان گیس پلانٹ پر میزائل حملوں سے ہونے والے نقصان کے تناظر میں اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے ترقی کے منصوبے کو پورا کرنے کے حوالے سے ہماری پیشرفت پر اثر ڈالے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس ٹھیک کرنے میں چند سال لگیں گے اور ہر سال 20 ارب ڈالرز کا نقصان ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک چھوٹی سی مثال ہے کیونکہ ہم اپنے کچھ منصوبوں میں کٹوٹی کے ذریعے اس معاشی جھٹکے سے نکلنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
ال سیف کہتے ہیں کہ متحارب فریقوں کے درمیان پھنس جانا ’بے مثال نہیں ہے‘، سنہ 1990 کی دہائی میں کویت پر عراق کے حملے اور پھر 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے دوران بھی خلیجی ممالک اس نوعیت کی صورتحال سے گزر چکے ہیں۔
اُن کے بقول 2010 اور 2011 کے عرب سپرنگ کے دوران بھی خلیجی ممالک اس سے اچھی طرح سے نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
مربوط دفاع
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون اور میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید سائبر صلاحیتوں اور مشترکہ تکنیکی معاونت کے ذریعے مستقبل میں خلیجی ممالک کے مابین مشترکہ سرمایہ کاری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
ال سیف کہتے ہیں کہ دفاعی سازوسامان کی خریداری مربوط ہونی چاہیے۔ خلیجی خطے میں خریداری کا ایک مرکزی نظام ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ دفاعی پیداوار بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
واٹنکا کہتی ہیں کہ کچھ خلیجی ریاستیں اسی طرح ایک دوسرے کے خلاف ہیں، جس طرح ان کی ایران کے ساتھ رقابت ہے اور یہ ان ممالک کے مابین دفاعی ہم آہنگی کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
ایک محتاط مستقبلEPA
ماہرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک کا مستقبل نہ صرف ایران بلکہ وسیع تر علاقائی معاملات پر منحصر ہو گا۔
وٹانکا نے خبردار کیا کہ ’یہ سمجھنا ایک غلطی ہے کہ ایران علاقائی نظام کی راہ میں ایک واحد فریق ہے بلکہ ان ممالک کی تاریخ اتحاد سے زیادہ انتشار کی ہے۔‘
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکری اور خطرے سے متعلق حساس ماحول کی وجہ سے ایران عالمی منظر نامے میں ایک بڑا مرکز رہے گا۔
ال کیتبی کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک پٹڑی سے نہیں اُتریں گے، لیکن وہ ازسر نو صف بندی کریں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی فوجی طاقت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
آبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کرے گی؟’ناکامی کے امکانات سے بھرپور‘: ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کا ممکنہ امریکی منصوبہ اِتنا خطرناک کیوں ہے؟آبنائے ہرمز کی بندش اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خدشات: خوراک اور ادویات کے ساتھ ہر وہ چیز مہنگی ہو جائے گی جس میں بیٹری استعمال ہوتی ہےایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟