ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟

بی بی سی اردو  |  Apr 13, 2026

پہلی نظر میں یہ ’لیگو‘ فلم کا ایک منظر لگتا ہے، لیکن بعد میں منظر بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔

کچھ عرصے سے ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جس میں متعدد کردار ’لیگو‘ کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ انمیں جنگ کے دوران مرنے والے بچوں، لڑاکا طیاروں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیوز بھی شامل ہیں اور یہ درحقیقت ایران نواز پروپیگنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔

بی بی سی نے یہ ویڈیوز بنانے والے ’ایکسپلوزیو میڈیا‘ کے ایکنمائندے سے بات کی ہے، جس کا فرضی نام اُن کی شناخت چھپانے کے لیے ’مسٹر ایکسپلوزیو‘ رکھا گیا ہے۔

وہ ایک سمجھدار سوشل میڈیا آپریٹر ہیں، جنھوں نے شروع میں ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر ایک ’آزاد ادارہ‘ ہے۔

لیکن مزید سوالات پوچھنے پر اُنھوں نے اعتراف کیا کہ ایرانی حکومت ان کی کسٹمر ہے۔ ماضی میں اُنھوں نے اس کی کبھی بھی تصدیق نہیں کی تھی۔

ان ویڈیوز کے ذریعے اس پیغام کو پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایران امریکہ کی جابرانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دُنیا کی واحد مزاحمتی قوت ہے۔

یہ ویڈیوز بہت ہی اشتعال انگیز ہیں اور ان میں بہت سے قابل اعتراض جملے بھی شامل ہیں، لیکن یہ ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

ایک ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ ’ایپسٹین فائل‘ کے طوفان سے گزر رہے ہیں اور ایک گانا چل رہا ہے کہ اب راز کھل رہے ہیں اور دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں امریکہ میں پولیس تحویل میں ہلاک ہونے والی سیاہ فام جارج فلائیڈ کو دکھایا گیا ہے، جن کے جسم پر پولیس اہلکار نے اپنے جوتے رکھے ہوئے ہیں اور اس دوران یہ کہا جا رہا ہے کہ ’ایران یہاں ہر شخص کے ساتھ کھڑا ہے جس کے ساتھ امریکہ میں برا ہو رہا ہے۔‘

معروف ماہرِ پروپیگنڈا ڈاکٹر ایما برائنٹ کا کہنا ہے کہ ’سلوپگینڈا‘ کی اصطلاح، پچھلے سال ایک علمی مقالے میں دوران متعارف کروائی گئی تھی،اس ’انتہائی جدید‘ مواد کی طاقت کو بیان کرنے کے لیے بہت کمزور لفظ ہے۔

جنگ کے دوران اندازاً اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈا کلپس کو کروڑوں نہیں بلکہ سینکڑوں ملین بار دیکھا جا چکا ہے۔ ہماری مسٹر ایکسپلوزیو کے ساتھ ویڈیو کال پر بات ہوئی، ان کا صرف سایہ سا نظر آ رہا تھا اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سرخ اور سبز روشنی تھی، جو ایرانی جھنڈے کے رنگ ہیں۔

ان کی میز پر ایک ہیلمٹ رکھا ہوا تھا، جو حسین ابن علی سے منسوب ہے اور وہ ان کی کئی ویڈیوز میں نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایکسپلوزیو میڈیا میں ان کی ٹیم دس افراد سے بھی کم پر مشتمل ہے، جو لیگو طرز کے گرافکس استعمال کرتی ہے ’کیونکہ یہ ایک عالمی زبان ہے۔‘

ایکس پر ایرانی اور روسی سرکاری میڈیا اکاؤنٹس باقاعدگی سے ان ویڈیوز کو اپنے لاکھوں فالوورز کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

امریکہ کی ’فائنل آفر‘، تہران کا جواب اور پاکستان کی امید: اسلام آباد مذاکرات ختم ہونے پر ایران نے کیا کہا اور اب کیا ہو گا؟ امریکی اور ایرانی وفد کی آمد سے مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے اعلان تک، اسلام آباد میں کیا ہوتا رہا؟جے ڈی وینس: اسلام آباد میں موجود امریکی نائب صدر کو کس مشکل صورتحال کا سامنا ہے؟امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات کیا ہیں؟

ہم نے مسٹر ایکسپلوزیو سے پوچھا کہ ان کی ویڈیوز میں ایپسٹین فائلز کو اتنی نمایاں جگہ کیوں دی جاتی ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ناظرین کو یہ دکھانا ہے کہ وہ ایران، جو ان کے مطابق ’سچ اور آزادی کی تلاش میں ہے‘ اور ’ان لوگوں کے درمیان کس نوعیت کے ٹکراؤ کو دیکھ رہے ہیں جو آدم خوروں سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں۔‘

یہ اس نظریے کی طرف اشارہ ہے کہ ایپسٹین فائلز ٹرمپ انتظامیہ کو آدم خوری سے جوڑتی ہیں، ایک ایسا دعویٰ جس کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں ہے۔

Getty Imagesایکسپلوزیو میڈیا کی ویڈیوز پہلی بار 2025 کے اوائل میں سامنے آئیں

ان ویڈیوز میں حقائق کی کئی غلطیاں ہیں، ہم نے اس بارے میں مسٹر ایکسپلوزیو سے سوالات کیے۔

ایک ویڈیو کلپ میں ایرانی فوج کی طرف سے گرائے گئے امریکی جنگی طیارے کے پائلٹ کو گرفتار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ پائلٹ، جو اس وقت ایران کے ایک دور افتادہ اور پہاڑی علاقے میں پھنس گیا تھا، کو 4 اپریل کو امریکی سپیشل فورسز نے بحفاظت ریسکیو کر لیا تھا۔

مسٹر ایکسپلوزیو اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں: ’ممکن ہے کہ کوئی پائلٹ کھویا ہی نہ ہو اور کوئی ریسکیو آپریشن بھی نہیں ہوا ہو۔ ان کا اصل مقصد ایران سے یورینیم چرانا تھا۔‘

جب ہم نے ان کے مؤقف کی تردید کی اور امریکی حکام کا حوالہ ہوئے انھیں بتایا کہ وہ فوجی اہلکار اس وقت کویت میں علاج کروا رہا ہے تو مسٹر ایکسپلوزیو نے دعویٰ کیا: ’ٹرمپ جو کچھ کہتے ہیں، اس کا صرف 13 فیصد ہی حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔‘

ایکسپلوزیو میڈیا کی اس ویڈیو نے انگریزی بولنے والے ناظرین کے درمیان اس متبادل بیانیے کو کامیابی کے ساتھ پھیلا دیا ہے۔

امریکہ میں مقیم ایک جانب دار ٹک ٹاک انفلوئنسر @newswithsteph نے اپنے ناظرین کو بتایا کہ لیگو طرز کی یہ ویڈیوز اب تک ’حیران کن حد تک درست ثابت ہوئی ہیں، انہوں نے حالیہ امریکی پائلٹ مشن کی خبر سب سے پہلے دی، جو دراصل کوئی ریسکیو مشن نہیں تھا بلکہ یورینیم لے جانے کے لیے ایک خصوصی آپریشن تھا۔‘

ڈاکٹر ایما برائنٹ کے مطابق اے آئی نے ایران اور دیگر ممالک کو مغربی ناظرین سے براہِ راست اور پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں رابطہ کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ وہ ایسے ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جو زیادہ تر مغربی ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہیں، جس کی وجہ سے وہ ’ثقافتی طور پر موزوں‘ مواد تیار کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔

یہ وہ چیز ہے جس کی ماضی میں ’مغرب کو نشانہ بنانا چاہنے والے آمرانہ ممالک میں کمی تھی۔‘

نوٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی سے منسلک سائبر وارفیئر کی ماہر ڈاکٹر ٹائن منک ایران کی حکمتِ عملی کو ’دفاعی میمیٹک جنگ‘ قرار دیتی ہیں، جسے اس مواد کے تخلیق کار امریکی بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

Getty Imagesایران میں بمباری کے بعد تباہ شد عمارتوں کا ایک منظر

ایکسپلوزیو میڈیا کی ویڈیوز پہلی بار 2025 کے اوائل میں سامنے آئیں، لیکن امریکا۔ایران جنگ کے بعد ان کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

لیگو طرز کی یہ ویڈیو کلپس اب تیزی سے زیادہ تفصیلی ہوتی جا رہی ہیں، جن میں خلیج کے انتہائی مخصوص مقامات دکھائے جا رہے ہیں، جن میں پاور سٹیشنز، ہوائی اڈے اور صنعتی تنصیبات شامل ہیں، جنھیں ایرانی میزائلوں کے ذریعے مکمل طور پر تباہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

حقیقت میں ان میں سے زیادہ تر مقامات کو صرف محدود نقصان ہی پہنچا ہے۔

یہ ویڈیوز اکثر ’ریئل ٹائم‘ میں تیار کی جاتی ہیں اور جنگ میں ہونے والی کسی بڑی پیش رفت کے فوراً بعد سامنے آ جاتی ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق ایک ویڈیو تو کسی بھی سرکاری اعلان سے پہلے ہی شائع ہو گئی تھی۔

ان ممالک کے حکام کے مطابق ایران، لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ موجودہ تنازع فروری میں اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔

ہماری گفتگو کے دوران بالآخر مسٹر ایکسپلوزیونے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ ایرانی حکومت واقعی ان کی کمپنی کی ایک ’کسٹمر‘ ہے۔

اس سے پہلے انسٹاگرام پر بھیجے گئے پیغامات میں وہ ہمیں بتا چکے تھے کہ ان کا یہ آپریشن ایرانی حکام کی جانب سے متعدد منصوبوں کے لیے براہِ راست کمیشن کیا گیا تھا۔

اس سال جنگ شروع ہونے سے پہلے ایرانی حکومت نے ایک بے رحمانہ کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا تھا۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ہرانا) کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 7,000 تک پہنچ چکی ہے۔

لیکن مسٹر ایکسپلوزیو حکومت کے ساتھ اپنی ٹیم کے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وطن کے لیے کام کرنا ایک باعزت عمل تھا۔‘

وہ حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کو صدر ٹرمپ کی مالی اعانت سے ہونے والی ایک ’بغاوت قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔

مسٹر ایکسپلوزیو ویڈیوز میں یہودیوں کے خلاف تعصبانہ تصورات استعمال کیے جانے سے متعلق الزمات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہماری ویڈیوز یہودی مخالف نہیں ہیں، ہماری ویڈیوز صیہونیت مخالف ہیں۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خون پیتے ہوئے دکھانے کی تصویر کشی کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی علامتی تصاویر ان کی جانب سے کیے گئے ’مظالم کو نمایاں کرتی ہیں۔‘

ملک گیر انٹرنیٹ بندش کے باعث زیادہ تر ایرانی انٹرنیٹ استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ مسٹر ایکسپلوزیوکا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے ’صحافی انٹرنیٹ‘ کے ذریعے بی بی سی سے رابطہ کر سکے۔ ایران کو مسلسل صحافتی آزادی کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ جابرانہ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

Getty Imagesدوسری جانب لبنان میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز لیگو طرز کی ویڈیوز والے اکاؤنٹس کو بند کر رہے ہیں، لیکن نئے اکاؤنٹس اتنی ہی تیزی سے دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ٹائن منک منک کے مطابق یہ تیز، جارحانہ آن لائن سفارت کاری کی ایک شکل ہے، جو بظاہر طویل عرصے تک برقرار رہنے والی ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل ’درمیانی ذرائع پریس اور عوامی ذرائع ابلاغ کو بالکل نظرانداز کر دیتا ہے اور میمز کو مسلسل گردش میں رکھتا ہے۔‘

’روایتی سفارت کاری یہاں وجود ہی نہیں رکھتی اور یہ ہمارے اس فہم کو دھندلا دیتی ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ غلط تشریح اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔‘

’تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک طرح کے خلا میں ہیں۔‘

’ہم دوست نہیں بھائی ہیں‘: ایرانی عوام کی پاکستان سے امیدیں مگر امریکہ پر عدم اعتماداسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ اور نیتن یاہو کی خواہش: ’مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں کا سلسلہ ابھی تھما نہیں‘آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیارکیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟ایرانی سرزمین پر امریکی اہلکار کو ریسکیو کرنے کا مشن: ’بتایا گیا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک مشن ہے، مجھے لگا کہ خطرہ مول لیا جا سکتا ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More