صابن کی ٹکیہ سے بھی ہلکے جوتے جنھوں نے میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑنے میں مدد دی

بی بی سی اردو  |  Apr 29, 2026

Getty Imagesسباسچیئن ساوے نے دو گھنٹے سے کم وقت میں لندن میراتھن مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کی

جب سباسچیئن ساوے نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آنجہانی کیلون کیپٹم کا ورلڈ میراتھن ریکارڈ توڑنا ’صرف وقت کی بات‘ ہے تو کم ہی لوگوں نے سوچا تھا کہ وہ وقت اتوار کو لندن میں آ جائے گا۔

لیکن یہ محض ایک نیا عالمی ریکارڈ بنانے سے کہیں آگے کی بات تھی۔ ایک گھنٹہ 59 منٹ اور 30 سیکنڈ میں کینیا کے 31 سالہ ایتھلیٹ نے ممکنات کی سرحد ازسرِنو متعین کر دی۔

اگرچہ ایلیوڈ کیپچوگے 2019 میں دو گھنٹے سے کم وقت میں میراتھن دوڑنے والے پہلے شخص بنے تھے، مگر وہ کارنامہ ’کنٹرولڈ‘ حالات میں سرانجام دیا گیا تھا، اس لیے ریکارڈ کے طور پر منظور نہیں کیا گیا۔

حیرت انگیز طور پر، ساوے کے ساتھ ایتھوپیا کے یومِف کیجیلچا بھی ریکارڈ بکس میں شامل ہو گئے، جنھوں نے 1:59:40 کے وقت کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے دو گھنٹے سے کم وقت میں میراتھن مکمل کرنے والےدوسرے مرد ایتھلیٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

خواتین کے مقابلے میں، ایتھوپیا کی ٹگسٹ آسیفا نے اپنے ہی عالمی ریکارڈ کو نو سیکنڈ بہتر بنایا اور دوڑ 2:15:41 وقت کے ساتھ مکمل کی۔

وقت میں ’معمولی بہتری‘ کے اس کھیل میں، توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ برطانوی دارالحکومت میں اس ریکارڈ ساز اتوار کو یہ تینوں کھلاڑی کیسے کامیاب ہوئے۔

بہت سے لوگوں کے نزدیک اس کا جواب ان کے جوتے میں پوشیدہ ہے۔

Getty Imagesایتھوپیا کی ٹگسٹ آسیفا نے اپنے ہی عالمی ریکارڈ کو نو سیکنڈ بہتر بنایاایتھلیٹس نے کون سا جوتا پہنا ہوا تھا؟

ان تینوں کھلاڑیوں نے ایڈیڈاس کمپنی کے Adizero Adios Pro Evo 3 پہن رکھے تھے۔

یہ جوتا 25 اپریل کو لندن کی سڑکوں پر دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کے اترنے سے صرف دو دن پہلے متعارف کروایا گیا تھا اور اس نہایت مقبول جوتے کا یہ تیسرا ورژن ہے۔

ایڈیڈاس نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ساوے، کیجیلچا اور آسیفا کے ساتھ مل کر اس جوتے کو تیار کیا۔

ساوے کے معاملے میں، اسی جوتے نے انھیں کیپٹم کا لندن میراتھن کا ریکارڈ تقریباً دو منٹ کے فرق سے توڑنے میں مدد دی۔ فتح کے بعد ساوے نے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب تک ان جوتوں میں سب سے اچھے ہیں جو انھوں نے پہنے ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر ان کے کم وزن اور مستحکم ساخت کو سراہا۔

90 میٹر دور جیولن پھینکنے میں خاص کیا ہے اور ارشد ندیم کی ریکارڈ تھرو اتنی غیر معمولی کیوں تھی؟ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران محمد نواز پر منشیات استعمال کرنے کا الزام: ’ریکریئشنل ڈرگز‘ کیا ہوتی ہیں؟وہ غذا جو اولمپکس میراتھن کے فاتحین کو توانائی دیتی ہےسخت گرمی میں لگاتار چھ روز دوڑنا آسان نہیںپرو ایوو 3 میں مختلف کیا ہے؟

99 گرام وزن کے ساتھ، یہ پہلا 'سپر شُو' ہے جس کا وزن 100 گرام سے کم ہے۔

یہ درمیانے سائز کے سیب، کیلے یا صابن کی ایک ٹکیہ سے بھی ہلکا ہے۔

حالیہ برسوں میں میراتھن مکمل کرنے کے وقت میں نمایاں بہتری کاربن پلیٹڈ مِڈسولز متعارف کروائے جانے کی بدولت آئی ہے۔

تاہم پرو ایوو 3 میں مِڈ سول کے گرد لپٹی پلیٹ کے بجائے کاربن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ ایڈیڈاس کے نائب صدر برائے رننگ، پیٹرک ناوا نے ڈیزائن کے عمل کے بارے میں کہا کہ ’اس سطح پر ہر تفصیل واقعی اہم ہوتی ہے۔ ہم نینوگرام کی سطح تک چیزوں کی پیمائش کر رہے تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’یہ ایک طویل عمل تھا، لیکن اس کے نتیجے میں ہمیں ایسی چیز ملی ہے جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس خیال کو بدل رہی ہے کہ دوڑ کے دن پہنے جانے والے جوتے کا احساس کیسا ہونا چاہیے۔‘

البتہ عام ایتھلیٹس کے لیے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا آسان نہیں۔ اگرچہ اس ہفتے محدود تعداد میں یہ جوتے عوام کے لیے دستیاب تھے، مگر ان کی بڑے پیمانے پر فروخت رواں سال کے آخر میں متوقع ہے، جب ان کی قیمت ساڑھے چار سو برطانوی پاؤنڈ ہو گی۔

کیا ایڈیڈاس نائیکی سے آگے نکل گیا ہے؟

2019 میں جب کیپچوگے نے نائیکی کے ایلفا فلائی جوتے پہنتے ہوئے دو گھنٹے سے کم وقت کی حد توڑی، تو امریکی سپورٹس ویئر برانڈ بلاشبہ مارکیٹ میں سب سے آگے تھا۔

2023 میں، جب کیپٹم نے شکاگو میں نائیکی ایلفا فلائی تھری ایس پہن کر عالمی ریکارڈ قائم کیا، تو اس کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔

لیکن یہاں بھی حدود کوان میں اضافے کے لیے ہی بنایا جاتا ہے۔ اتوار کے نتائج کے ساتھ، ایڈیڈاس اب یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میراتھن کی تاریخ کے تیز ترین مرد اور خاتون دونوں نے اس کے بنائے گئے جوتے پہنے ہوئے تھے۔

اس کے باوجود، بڑے سپورٹس ویئر برانڈز کے درمیان مقابلہ کبھی نہیں رکتا۔ اتوار کو لندن میراتھن میں ان دونوں کمپنیوں کے حریف برانڈز جیسے کہ بروکس، ہوکا، سکونی، ایسکس اور نیو بیلنس کے جوتے بھی بہت سے ایتھلیٹس کے پیروں میں نظر ائے۔

پیٹرک ناوا نے برانڈز کے درمیان مسابقت کے بارے میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم سب کھیلوں کے شوقین اور پُرجوش لوگ ہیں، اس لیے مسابقت اور جیتنے کی خواہش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’ لیکن آخر میں ہم چاہتے ہیں کہ کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کھلاڑی جیتیں۔ اس لیے ہمارے لیے اتنا ہی محرک یہ ہے کہ انھیں بہترین ممکنہ حالات میسر ہوں۔‘

BBC'سپر شوز' کے قواعد کیا ہیں؟

کھیل کے منتظم ادارے گزشتہ برسوں میں جوتوں کی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ورلڈ ایتھلیٹکس نے جنوری 2022 میں اپنے ضوابط کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔

18 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز میں کہا گیا کہ جوتے اس صورت میں استعمال کیے جا سکتے ہیں جب وہ ’متعلقہ مقابلوں میں شریک کسی بھی ایتھلیٹ کے لیے دستیاب ہوں۔‘

قواعد میں یہ بھی کہا گیا کہ زیادہ سے زیادہ ’سٹیک ہائٹ‘ 40 ملی میٹر سے تجاوز نہیں کر سکتی اور جوتے میں ایک سے زیادہ کاربن پلیٹ نہیں ہونی چاہیے۔

اگرچہ ایتھلیٹ ایسے جوتوں میں دوڑ سکتے ہیں جن کی سٹیک ہائٹ 40 ملی میٹر سے زیادہ ہو، مگر ان کا وقت ریکارڈ بکس میں شامل نہیں کیے جائے گا کیونکہ ایسے ٹرینرز کو ’غیرقانونی‘ سمجھا جاتا ہے۔

کھیل کے منتظمین کو ان برانڈز کے ساتھ قدم ملانا ہو گا جو مسلسل نئے فوائد تلاش کر رہے ہیں جبکہ ناوا کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی کوئی حد ہے یا نہیں۔

انھوں نے مزید کہا، ’چند چیزیں ہیں جن پر ہم پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ سباسچیئن نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے بھی تیز جا سکتے ہیں۔ اس لیے نامعلوم حدود کی جانب جانا دلچسپ ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کو کیا مل سکتا ہے۔‘

تو کیا یہ سب صرف جوتوں کی وجہ سے ہے؟

گزشتہ 20 برسوں میں سپورٹس سائنس میں ہونے والی تیز رفتار ترقی، ریسنگ شوز میں ٹیکنالوجی کی بہتری کے ساتھ ساتھ چلتی رہی ہے۔

سادہ الفاظ میں، اب ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ یہ معلوم ہے کہ 26.2 میل کی دوڑ کے دوران گلائیکوجن کی سطح کو کیسے برقرار رکھا جائے۔

ساوے کے معاملے میں، سپورٹس نیوٹریشن برانڈ مورٹن کی ایک تحقیقی ٹیم نے گزشتہ 12 مہینوں میں چھ دوروں کے دوران مجموعی طور پر 32 دن ان کے ساتھ گزارے۔

یہ ٹیم، جو ہائیڈروجلز میں مہارت رکھتی ہے، ساوے کے ساتھ مل کر اس پر کام کرتی رہی کہ وہ ایک گھنٹے میں 90 سے 120 گرام کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل جیلز بغیر کسی تکلیف کے ہضم کر سکیں۔

گلائیکوجن کی سطح برقرار رکھنے سے، جسم توانائی کے لیے چربی کے ذخائر کے بجائے کاربوہائیڈریٹس پر انحصار کر سکتا ہے۔

یہ ناگزیر ہے کہ جب ایسے سنگ میل قائم ہوں تو کچھ لوگ شکوک و شبہات ظاہر کریں۔

2024 کی شکاگو میراتھن کی فاتح، روتھ چیپنجیتچ کو، جنھوں نے 2:09:56وقت کے ساتھ عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، 2025 میں ڈوپنگ کے باعث تین سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنی ہم وطن کی معطلی کے بعد، ساوے اور ایڈیڈاس نے ایتھلیٹکس انٹیگریٹی یونٹ سے درخواست کی کہ ان کی اینٹی ڈوپنگ جانچ میں اضافہ کیا جائے اور 2025 میں ایڈیڈاس نے برلن میراتھن سے قبل تیاری کے دوران ساوے کی ڈرگ ٹیسٹنگ بڑھانے کے لیے 50 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

90 میٹر دور جیولن پھینکنے میں خاص کیا ہے اور ارشد ندیم کی ریکارڈ تھرو اتنی غیر معمولی کیوں تھی؟چین: میراتھون میں انسان اور روبوٹ مدِمقابلدنیا کے’معمر ترین‘ میراتھن رنر فوجا سنگھ انڈیا میں گاڑی کی ٹکر سے ہلاک، ایک شخص زیرِ حراستسال 2022 میں ہر روز ایک میراتھن دوڑ کر دس لاکھ پاونڈ جمع کرنے والا شخصٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران محمد نواز پر منشیات استعمال کرنے کا الزام: ’ریکریئشنل ڈرگز‘ کیا ہوتی ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More