Getty Images
پیر کے روز جیسے جیسے انڈین ریاست مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے رجحانات آنے لگے، دارالحکومت کولکتہ اور ریاست کے دوسرے علاقوں میں جے شری رام کے نعرے گونجنے لگے۔
بنگال کی تاریخ میں ایسا شاید ہی پہلے دیکھا گیا تھا۔ عام طور پر بنگال کی سڑکوں اور گیلوں میں لال سلام، جے بانگلا، مائے ماٹی مانُس، جے دُرگا اور جے ماں کالی جیسے سیاسی اور مذہبی نعرے سننے کو ملتے رہے ہیں۔
لیکن اب بنگال کا سیاسی اور سماجی منظر نامہ بدل چکا ہے۔ مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کرنا تو دور کی بات، اس کے قریب پہنچنا بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جیسی قوم پرست سیاسی جماعتوں کے لیے ایک ناممکن سا خواب معلوم ہوتا تھا۔
لیکن یہی بی جے پی حالیہ انتخابی نتائج کے بعد ریاست کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اس رپورٹ کے لکھے جانے تک، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق، 294 میں سے بی جے پی نے 206 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جو کہ ہر اعتبار سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
واضح رہے کہ ریاست میں حکومت سازی کے لیے کُل نشستوں کی نصف تعداد (یعنی 147) سے ایک نشست زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں، 206 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی بی جے پی آسانی سے حکومت بنا سکتی ہے۔
گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو صرف 77 جبکہ ممتا بینرجی کی قیادت والی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو 213 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ تاہم اس بار ٹی ایم سی صرف 81 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ خود ممتا بینرجی کو اپنی نشست پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ اپنے روایتی اسمبلی حلقہ بھوانی پور سے بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری سے 15 ہزار ووٹوں سے ہار گئی ہیں۔
بی جے پی نے اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل کی؟
اس سوال کے جواب میں سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار نیلانجن مُکھوپادھیائے نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر اس کی دو وجوہات ہیں۔ ’اول، ممتا حکومت کے خلاف اینٹی انکمبنسی (یعنی ووٹر کی ناراضی) اور دوم، سپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کا نام لسٹ سے نکالا جانا۔‘ ان کے مطابق ممتا بینرجی کی گذشتہ 15 سالہ حکومت کے دوران بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور تشدد کے واقعات نے انھیں ریاست میں غیر مقبول بنا دیا تھا، جس کا فائدہ بی جے پی نے اس انتخاب میں اٹھایا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے مرکزی ایجنڈے، یعنی فرقہ پرستی اور مسلم مخالف پروپیگنڈا کا بہت زیادہ استعمال کر کے بھی فائدہ حاصل کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے سینیئر بی جے پی رہنما اور ریاست کے متوقع وزیرِ اعلیٰ سویندو ادھیکاری کے اس تازہ ترین بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں ادھیکاری نے بی جے پی کی حالیہ کامیابی کو ہندو ووٹوں کے اتحاد کا نتیجہ بتایا۔
سیاسی تجزیہ کار سنجے کمار بھی اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مسلم پرستی اور غیرقانونی تارکین وطن کو پناہ دینے کا جو بیانیہ مغربی بنگال میں بنایا گیا اور اس کی وجہ سے اگر کسی پارٹی (ٹی ایم سی) پر مسلم پرست ہونے کا لیبل لگ جائے تو اس کا نتیجہ کچھ اسی طرح کا نکلتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اقلیتوں کے سامنے اکثریت کو نظر انداز کرنے کا بیانیہ آگے بڑھایا گیا، جس کا بی جے پی کوفائدہ ملا۔‘
انڈیا میں سیاستدان ہاتھوں میں مچھلیاں اٹھا کر انتخابی مہم کیوں چلا رہے ہیں؟جس کا نام لینا گوارا نہیں تھا ’وہ عورت‘ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کیسے بنی؟مالیگاؤں دھماکوں کے 20 برس بعد تمام ملزمان کی بریت جو انڈیا میں پولیس، عدلیہ اور حکومت پر کئی سوال چھوڑ گئی ہے’مسجد کو خالی دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘: انڈیا کے ایک ہائی کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے لیے آسانی کا باعث بن سکتا ہے؟ ایس آئی آر نے بی جے پی کی راہ آسان کی
نیلانجن مُکھوپادھیائے کے مطابق ایس آئی آر کے عمل نے بھی بی جے پی کو زبردست فائدہ پہنچایا۔ دیگر ماہرین بھی ان کی اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔
صبر انسٹی ٹیوٹ کولکتہ کے چیف ریسرچر صابر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ایس آئی آر کے تحت ناموں کے نکلنے سے نتائج پر کافی اثر پڑا ہے۔ ’ایس آئی آر کے تحت ناموں کے نکلنے اور دو تین فیصد ووٹوں کے اِدھر اُدھر ہونے سے مجموعی طور پر نتائج میں بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔‘
سینیئر تجزیہ نگار اور انتخابی امور کے ماہر یوگیندر یادو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جس طرح ایس آئی آر کو نافذ کیا گیا، اس نے جمہوریت پر یقین رکھنے والے ہر فرد کو مایوس کر دیا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’عام طور پر لوگ ووٹ دے کر طے کرتے ہیں کہ حکومت کون بنائے گا لیکن جب حکومت یہ طے کرنے لگے کہ ووٹ کون دے گا، تو اس سے ہماری جمہوریت کے مستقبل پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ ایس آئی آر کی وجہ سے تقریباً 27 لاکھ نام مغربی بنگال کے ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ ترمیم کے بعد انتخابی فہرست میں ووٹرز کی تعداد سات کروڑ 60 لاکھ سے کم ہو کر چھ کروڑ 82 لاکھ رہ گئی تھی۔
بی جے پی کے لیے اس جیت کا کیا مطلب ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی یہ جیت پارٹی، بالخصوص نریندر مودی کو سیاسی طور پر مزید مضبوط بنا دے گی۔
تاریخی طور پر بھی پارٹی کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالیہ دنوں تک بہار اور مغربی بنگال ہی مشرقی انڈیا کی دو ایسی ریاستیں تھیں جہاں تمام تر کوششوں کے باوجود بی جے پی کی حکومت نہیں بن سکی تھی۔ لیکن گذشتہ دنوں بی جے پی بہار میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی اور اب مغربی بنگال میں۔
نیلانجن مُکھوپادھیائے بی جے پی کی اس جیت کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ’بنگال میں ٹی ایم سی اور ممتا کی شکست صرف ایک پارٹی اور اس کے لیڈر کی ہار نہیں ہے بلکہ اس مخالف فورس کی بھی ہار ہے جو بہت سارے اہم معاملات پر مودی اور بی جے پی کو چیلنج کرتی رہی ہے۔‘
’چاہے وہ شہریت کے متعلق متنازع قوانین (سی اے اے اور این آر سی) ہوں، یا وقف ایکٹ، یکساں سول کوڈ اور دیگر معاملات۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی قریب میں ممتا بینرجی مودی اور بی جے پی کے خلاف ایک اہم آواز بن کر ابھری تھیں اور ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ وہ واحد لیڈر ہیں جو مودی کو ان کے ہی انداز میں جواب دے سکتی ہیں۔‘
کیرالہ میں لیفٹ جبکہ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے کی شکست اور بی جے پی
مغربی بنگال میں تاریخی جیت کے علاوہ بی جے پی نے آسام میں بھی اپنی پارلیمانی تعداد بڑھائی ہے۔ گذشتہ انتخابات میں بی جے پی نے آسام میں 60 نشستیں حاصل کی تھیں لیکن اس بار یہ 82 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔
لیکن بنگال کے بعد سب سے اہم نتائج تامل ناڈو اور کیرالا کے ہیں جہاں بی جے پی کو تو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی مگر ان دونوں ریاستوں میں ہارنے والی پارٹیوں، خاص طور پر ان کے وزرائے اعلیٰ کے اقتدار سے بے دخل ہونے سے بی جے پی اور نریندر مودی کو اپنی پالیسیاں اور ایجنڈا منوانے میں مزید آسانی ہو گی۔
در اصل ممتا بینرجی کے علاوہ ان دو ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ مودی اور بی جے پی کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔ کیرالہ میں پنیاری وجئین کی قیادت والی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور تامل ناڈو میں ایم کے سٹالن کی قیادت والی ڈی ایم کے کی ہار نے بھی بی جے پی کو مضبوط بنا دیا ہے۔
غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی کی شکست کے بعد ملک میں کوئی ایسی ریاست نہیں بچی ہے جہاں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہو۔ ایسا پچھلی پانچ دہائیوں میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والے اتحاد ایل ڈی ایف کو کانگریس کے قیادت والے اتحاد یو ڈی ایف نے شکست دی ہے، جس کا ایک اہم حصہ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) بھی ہے۔
مسلم لیگ نے ان انتخابات میں 27 میں سے 22 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ تعداد نہ صرف گذشتہ انتخابات کی نسبت زیادہ ہے بلکہ گذشتہ 15 برس میں سب سے زیادہ ہے۔ اس انتخاب میں مسلم لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ پارٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون ایم ایل اے بھی منتخب ہوئی ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے سات اراکینِ پارلیمان کی بی جے پی میں شمولیت: کیا اروند کیجروال کی جماعت ’طاقت اور سرمائے‘ کا مقابلہ کر پائے گی؟انڈین حکومت کی سوشل میڈیا پر کنٹرول سخت کرنے کی کوشش: انفلوئنسرز اور پوڈکاسٹرز بھی نئے قوانین کی زد میںانڈین ریاست کیرالہ میں تقسیم کے بعد بننے والی ’قائد ملت‘ کی مسلم لیگ کا ’قائد اعظم‘ کی مسلم لیگ سے کیا تعلق ہے؟کارگل جنگ: کیا نواز شریف کو زمینی حقائق کا علم انڈین وزیراعظم واجپائی سے ہوا؟’مقدس‘ حیثیت کی حامل مہنگی ’ہلسا‘ مچھلی جو انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدہ تعلقات کا مرکز بنی