Getty Images
ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کے درمیان تلخ تنازع برسوں سے جاری ہے، تاہم الزامات، جوابات اور طنزیہ جملوں کا تبادلہ زیادہ تر آن لائن ہی ہوتا رہا۔
پیر کے روز ایلون مسک نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں سیم آلٹمین کو ’سکیم آلٹمین‘ لکھا۔
لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا کے ان ارب پتیوں کے درمیان یہ کشمکش اب آن لائن دنیا سے نکل کر عدالت میں منتقل ہو رہی ہے۔
ایلون مسک نے آلٹمین کے ساتھ اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ عدالت ایلون مسک کے اس دعوے پر غور کرے گی کہ سیم آلٹمین نے ان سے لاکھوں ڈالر بھی ہتھیا لیے اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی کو غیر منافع بخش رکھنے کے اصل مشن سے بھی انحراف کیا۔
ایلون مسک اور سیم آلٹمین دونوں ہی اس مقدمے میں گواہی دیں گے۔ اس مقدمے کے نتائج مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ اس مقدمے میں فتح کسی ایک فریق کو ملے گی لیکن اس بات کا امکان ہے کہ نقصان دونوں کا ہو گا۔
اس تصادم کو دو ہیوی ویٹ باکسرز کے رِنگ میں اترنے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ ایک مبصر نے اسے ’کنگ کانگ اور گاڈزیلا کے مقابلے‘ سے بھی تشبیہ دی ہے۔
تنازعات کے حل میں مہارت رکھنے والی یونیورسٹی آف سان ڈیاگو کی پروفیسر سارہ فیڈرمن کہتی ہیں: ’مسک اور آلٹمین اتنے بڑے، اتنے غیر معمولی اور عام لوگوں سے اتنے مختلف ہیں کہ ان کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کا بھی مزا ہے۔‘
ایلون مسک نے مقدمے میں اوپن اے آئی، اس کے شریک بانی اور صدر گریگ بروک مین، اور مائیکروسافٹ کو بھی نامزد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کو منافع بخش بنانے کا منصوبہ مائیکروسافٹ کا تھا، جبکہ مائیکروسافٹ اس کی تردید کرتی ہے۔
مسک اربوں ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنھیں ان کے وکلا ’غلط کمائی‘ قرار دیتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ یہ رقم اوپن اے آئی کے غیر منافع بخش شعبے میں لگائی جائے۔ وہ کمپنی میں بڑی تبدیلیوں اور آلٹمین کی برطرفی کے بھی خواہاں ہیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مسک یہ سب کچھ اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں حسد ہے اور کمپنی چھوڑنے پر پچھتاوا ہے۔
اوپن اے آئی کا ایلون مسک پر الزام ہے کہ وہ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کی دوڑ میں اپنے اس اہم حریف (یعنی اوپن اے آئی) کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تنازع شروع کیسے ہوا؟
ایلون مسک اور سیم آلٹمین نے جب اوپن اے آئی کمپنی بنائی تھی تو طے کیا تھا کہ یہ غیر منافع بخش رکھی جائے گی اور اس کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ آرٹیفییشل جنرل انٹیلی جنس کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچیں۔
آرٹیفیشیل جنرل انٹیلی جنس کی اصطلاح ایسی مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو انسانی ذہانت سے آگے بڑھ جائے۔
جب اوپن اے آئی نامی کمپنی بنائی گئی اس وقت بھی مسک کے ستارے عروج پر تھے۔ وہ ٹیسلا کے ذریعے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں عام کر رہے تھے، سپیس ایکس کے ذریعے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ تیار کر رہے تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر انھیں ایسا ٹیکنالوجسٹ سمجھا جاتا تھا، جس پر کبھی تھکن طاری نہیں ہوتی۔
جبکہ آلٹمین سلیکون ویلی (جسے ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہے) میں تو مشہور تھے، مگر اس سے باہر نہیں۔
Getty Imagesسنہ 2015 میں ایلون مسک اور سیم آلٹمین کی تصویر، اُسی سال انھوں نے اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی
بتایا جاتا ہے کہ مسک اور آلٹمین کی ملاقات سنہ 2012 میں سلیکون ویلی کے ایک سرمایہ کار کے ذریعے ہوئی۔ اُس وقت آلٹمین اپنی عمر کی 20 کی دہائی میں تھے اور مسک سے 14 سال چھوٹے تھے۔
بعد ازاں انھوں نے اوپن اے آئی کا تصور ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ (ایلون مسک) کے سامنے پیش کیا۔ وہ اس سے قبل مسک کو اپنا ہیرو بھی کہہ چکے ہیں۔
آلٹمین کی پیشکش کا اہم حصہ یہ بات تھی کہ مصنوعی ذہانت کو ترقی دیتے ہوئے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اوپن اے آئی کے آغاز میں دونوں کے درمیان تعاون خوشگوار رہا، دونوں ہی ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر یکساں یقین رکھتے تھے۔
سنہ 2015 میں دونوں نے ایک کانفرنس سے گفتگو کی۔ ایلون مسک نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت وہ واحد ٹیکنالوجی ہے جو ’انسانیت کو سب سے زیادہ بدل سکتی ہے‘ مگر ساتھ ہی اسے ’انتہائی فریبی‘ اور ’مشکلات سے بھری‘ بھی قرار دیا تھا۔
’اے آئی نے کہا کہ لوگ مجھے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، میں ہتھوڑا اُٹھا کر جنگ کے لیے تیار ہو گیا‘چِپس کا پیکٹ یا پستول، اے آئی کی غلطی جس کی وجہ سے سکول کے طالب علم کو ہتھکڑیاں لگ گئیںڈاکٹروں کے بجائے مصنوعی ذہانت: کیا چیٹ بوٹس سے طبی مشورہ لینا درست ہے؟چین میں ’جھینگوں کی پرورش‘ جنھیں کھایا نہیں جاتا بلکہ ان سے کام کروایا جاتا ہے
مسک کہتے ہیں کہ ادارہ بناتے وقت طے ہوا تھا کہ اس سے منافع نہیں کمایا جائے گا، لیکن بعد میں اسے غیر قانونی طور پر ایک منافع کمانے والے ادارے میں بدل دیا گیا۔
اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ ایلون مسک نے جن فریقوں پر مقدمہ کیا ہے، وہ اور ایلون مسک خود سنہ 2017 میں اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ ’مشن کو آگے بڑھانے‘ کے لیے اسے منافع بخش بنانا ہی منطقی طور پر اگلا قدم ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق اُس وقت ایلون مسک نے اس سے اتفاق کیا تھا لیکن ’مکمل اختیار‘ کے ساتھ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بننے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔
یوں، سیم آلٹمین کے ساتھ اختیارات کی مبینہ کشمکش کے بعد سنہ 2018 میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی چھوڑ دی۔
اپنی رخصتی سے چند ماہ قبل مسک نے ایک ای میل میں لکھا: ’لوگوں، بس بہت ہو گیا۔ یا تو خود کچھ کرو یا اوپن اے آئی کو غیر منافع بخش ہی رہنے دو۔‘
مسک نے کمپنی کو مزید فنڈ دینے سے بھی انکار کیا اور لکھا کہ ’میں اس وقت تک اوپن اے آئی کو مالی معاونت فراہم نہیں کروں گا جب تک آپ (کمپنی میں) رہنے کا حتمی عزم ظاہر نہیں کرتے۔ ورنہ میں محض ایک احمق ہوں جو سٹارٹ اپ بنانے کے لیے مفت میں سرمایہ فراہم کر رہا ہے۔‘
سنہ 2022 میں اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی متعارف کروایا اور صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا آغاز ہوا۔ چند ہی ماہ میں 10 کروڑ افراد اسے استعمال کر رہے تھے۔
مسک نے بعد میں مصنوعی ذہانت کی اپنی کمپنی ایکس اے آئی قائم کی، جو چیٹ بوٹ گروک بناتی ہے اور تا حال اپنے حریفوں سے پیچھے ہے۔
سنہ 2024 میں مقدمہ دائر کرتے وقت مسک نے الزام لگایا کہ اوپن اے آئی اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ کر مائیکروسافٹ کے لیے ’منافع بڑھانے‘ پر توجہ دے رہی ہے۔
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ انھوں نے چار کروڑ ڈالرز کے قریب رقم اوپن اے آئی کو عطیہ کی، لیکن مدعا علیہان انھیں گمراہ کر کے ادارے کو منافع بخش کمپنی بنانے کی طرف لے گئے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے دو بڑے کھلاڑیوں کا ٹکراؤ
مقدمے کے بعد سے مسک اور آلٹمین کے درمیان دشمنی بارہا عوامی سطح پر سامنے آئی ہے۔
گذشتہ سال مسک اور سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے اوپن اے آئی کے اثاثے 97.4 ارب ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کی۔
حالیہ فنڈنگ راؤنڈ میں کمپنی کی قدر 157 ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔ اب یہ کمپنی سٹاک مارکیٹ میں پہلی بار حصص پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں اس کی ممکنہ مالیت تقریباً 850 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
اوپن اے آئی نے 97.4 ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کی، آلٹمین نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: ’نہیں شکریہ، لیکن اگر آپ چاہیں تو ہم ٹوئٹر 9.74 ارب ڈالر میں خرید لیں گے۔‘
آلٹمین کی پوسٹ کے کمنٹ میں مسک نے جواب دیا: ’دھوکے باز۔‘
مارک زکربرگ کے ساتھ نجی پیغامات میں مسک یہ پوچھتے بھی دکھائی دیے کہ کیا میٹا کے سربراہ ’اوپن اے آئی کی بولی میں اُن (ایلون مسک) کے اور چند دیگر کے ساتھ شامل ہونا چاہیں گے۔‘
کولمبیا لاء سکول کی پروفیسر ڈوروتھی کے مطابق کمپنی خریدنے میں مسک کی دلچسپی اس مقدمے کو مزید الجھا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’مسک کئی بار اوپن اے آئی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں اور ہر بار ٹھکرا دیے گئے۔ اس لیے یہ سوچنا غلط نہیں کہ ان کے محرکات مشکوک ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ مقدمے میں جج نے بھی اس نکتے کی نشاندہی کی ہے۔‘
Getty Imagesدلچسپ تفصیلات
عدالت میں مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا، اوپن اے آئی کے سابق سائنسدانوں میرا موراتی اور ایلیا سٹسکیور اور سابق بورڈ رکن شیون زیلس کی گواہی بھی متوقع ہے، جو مسک کے چار بچوں کی والدہ ہیں۔
مقدمے سے قبل وکلا کے درمیان ثبوت اور گواہی پر کشمکش کے دوران ارب پتیوں کی نجی زندگی سے متعلق کئی رنگین تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
جج نے فیصلہ دیا ہے کہ مسک کی جانب سے منشیات کے مبینہ استعمال سے متعلق باتیں عدالت میں نہیں آئیں گی۔
مسک کی قانونی ٹیم بھی خبروں میں رہی ہے۔ کاروبار سے متعلق خبریں دینے والے ادارے بزنس انسائیڈر کے مطابق ایلون مسک کے ایک وکیل فارغ وقت میں مسخرہ بنتے ہیں، جبکہ دوسرے وکیل ہالی ووڈ کے پروڈیوسر بھی ہیں اور حال ہی میں وینیٹی فیئر (ثقافت اور فیشن کا جریدہ) نے ان کا پروفائل شائع کیا۔
بڑا داؤ
یہ مقدمہ نہ صرف ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے لیے اہم ہے، بلکہ ممکنہ طور پر ہم سب کے لیے بھی اہم ہے۔
سنہ 2023 کے آخر تک ایلون مسک کہہ رہے تھے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں وقفہ لیا جانا چاہیے۔
اسی دوران مختصر عرصے کے لیے آلٹمین کو اوپن اے آئی کے سی ای او کے عہدے سے ہٹایا گیا، اس الزام پر کہ انھوں نے بورڈ ممبران کو گمراہ کیا ہے۔
اور اب ایکس اے آئی کے ذریعے ایلون مسک خود مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں قانون کی پروفیسر روز چن لُوئی کے مطابق اگر مسک جیتتے ہیں تو آرٹی فیشیل جنرل انٹیلی جنس کی دوڑ میں ایک بڑے حریف کی شکست ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’جو بھی یہ دوڑ جیتے گا، اس کے پاس بے پناہ طاقت ہو گی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مسک یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر وہ اوپن اے آئی کے مفادات کے درست نمائندگی کرتے ہیں۔
روز نے کہا: ’اگرچہ میں اس مسئلے کو عوامی سطح پر اجاگر کرنے پر ان کی قدر کرتی ہوں، لیکن بہت سوں کو خدشہ ہے کہ وہ غیر جانب دار نہیں، کیونکہ ان کی اپنی ایک بڑی اے آئی کمپنی ہے۔‘
مسک بنام آلٹمین مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب لوگ اپنی زندگیوں میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دونوں شخصیات صارفین تک یہ ٹیکنالوجی پہنچانے میں پیش پیش رہی ہیں۔
یہ مقدمہ ان کے عزائم اور اس ٹیکنالوجی کی ترقی سے متعلق نیت پر نئی روشنی ڈال سکتا ہے، جو اب دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے زیر استعمال ہے۔
’چین ٹیکنالوجی کو عوامی بنا رہا ہے‘: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکہ کے مقابلے میں خاموشی سے آگے بڑھتی چینی کمپنیاں’میں چاہتی تھی چیٹ جی پی ٹی میری مدد کرے لیکن اس نے مجھے خودکشی کا طریقہ بتایا‘سوشل میڈیا پر نظر آنے والی جعلی اے آئی ویڈیوز کی شناخت کیسے کریں؟ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا کے پانچ سب سے جدید شہر جہاں بنا ڈرائیور کے گاڑیاں اور کیش لیس سٹور عام ہیںچِپس کا پیکٹ یا پستول، اے آئی کی غلطی جس کی وجہ سے سکول کے طالب علم کو ہتھکڑیاں لگ گئیں