’گاڑی روک کر پولیس نے کہا خوراک اور ادویات ضائع کرو‘: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اشیا کی قلت سے لوگ پریشان

بی بی سی اردو  |  Jun 24, 2026

Reutersپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے

’میں نے پولیس والوں کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے کھانے پینے کی چیزیں گھر لے کر جانے دیں کیونکہ میرے گھر میں نوبت اب فاقوں تک پہنچ چکی ہے، بیوی بھی حاملہ ہے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کہا کہ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دو تو جانے کی اجازت ہے، ورنہ واپس چلے جاؤ۔‘

یہ الفاظ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی نوید (فرضی نام) کے ہیں۔ نوید کا تعلق پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے پاس واقع گاؤں عباس پور سے ہے اور وہ اپنے خاندان کے لیے راولپنڈی سے کھانے پینے کی اشیا جیسے آٹا، چاول، چینی اور دالیں لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کو پورا کروانے کے لیے ہڑتال کر رکھی ہے جسے دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے خطے کے تر حصوں میں کاروباری سرگرمیاں بند ہیں۔

اب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ باہر سے خوراک اور پیٹرول لانے والی گاڑیوں کو ریاستی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اگر لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں میں محدود سامان لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں بھی روکا جا رہا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام اور مظاہرین دونوں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔

جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی ترسیل ایک منصوبہ بندی کے تحت روکی گئی ہے اور اشیائے خور و نوش کے روکے جانے سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ یا آزاد پتن میں پولیس نے کسی بھی ایسی گاڑی کو نہیں روکا جس میں کھانے پینے کا سامان لادا گیا ہو۔

Getty Images’علاقے میں اشیائے خورد و نوش ناپید ہو رہی ہیں‘

نوید کا کہنا ہے کہ پونچھ سیکٹر کے قریب ایل او سی کے ساتھ 50 کے قریب گاؤں ہیں جہاں کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’تمام علاقے میں اشیائے خورد و نوش ناپید ہو رہی ہیں اور اب تو لوگوں نے گھروں میں جو سٹاک جمع کیا ہوا تھا وہ بھی ختم ہو رہا ہے۔‘

نوید راولپنڈی میں ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ وہ عباس پور میں اپنی فیملی کے لیے راولپنڈی سے اشیا لے کر جا رہے تھے کہ آزاد پتن کے قریب پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور گاڑی کی تلاشی لینا شروع کر دی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ’زبردستی گاڑی سے سامان اتارا اور سڑک کے کنارے رکھ دیا۔‘

نوید نے کہا کہ آزاد پتن کے قریب درجنوں ٹرک سڑک کنارے کھڑے تھے جن پر وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں کے بقول کھانے پینے کی اشیا لدی ہوئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ اور پونچھ سیکٹر کے لیے کھانے پینے کا زیادہ تر سامان آزاد پتن کے ذریعے ہی آتا ہے۔

نوید کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے علاقے میں پیٹرول کی بھی کمی تھی اس لیے وہ پیٹرول سے بھرا ایک کین بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے لیکن پولیس والوں نے پیٹرول ضائع کر کے خالی کین ان کے حوالے کیا اور کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کو بھی ضائع کرنے کا کہا۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں ہسپتال کھلے ہیں اور ان کی حاملہ اہلیہ کو ’کسی بھی وقت ہسپتال لے کر جانا پڑ سکتا ہے لیکن علاقے میں پیٹرول ناپید ہے۔‘

نوید کا کہنا ہے کہ ’یہاں پر پیٹرول 500 روپے لیٹر مل رہا ہے اور موٹر سائیکل والے کو ایک لیٹر سے زیادہ پیٹرول نہیں دیا جاتا، جبکہ ہسپتال ہمارے گاؤں سے کافی دور ہے۔‘

Getty Images’پیٹرول کی ترسیل ایک منصوبہ بندی کے تحت روکی گئی ہے‘

راولاکوٹ شہر کے رہائشی سردار سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں گذشتہ 16 روز سے اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے والی تمام دکانیں اور میڈیکل سٹور بند ہیں، ’ادویات نہ ملنے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔‘

سلمان نے کہا کہ لوگوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال پر جو سامان گھروں میں سٹاک کیا ہوا تھا وہ بھی ختم ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ اور باغ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے لوگ کسی نہ کسی طرح اپنے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں لیکن انھیں راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں جانے کے لیے شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ کے رہائشی ذوالفقار عباسی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں اگرچہ زیادہ تر دکانیں بند ہیں لیکن کچھ دکانداروں نے دکانوں کے شٹر نیچے کیے ہوئے ہیں اور جو بھی گاہک سامان لینے کے لیے آتا ہے تو شٹر تھوڑا سا اوپر کر کے اس کو سامان دے دیتے ہیں۔

کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ لوگوں نے دکانیں اپنی مرضی سے بند کی ہوئی ہیں اور ضلعی انتظامیہ کسی بھی شخص کو زبردستی دکانیں کھولنے کا نہیں کہہ سکتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار وحید نے کہا کہ راولاکوٹ میں مجموعی طور پر حالات کنٹرول میں ہیں اور صرف اسی علاقے میں لوگوں کی آمد و رفت کو محدود کیا گیا ہے جہاں پر کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی نے دھرنا دے رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’علاقے میں پیٹرول کی ترسیل ایک منصوبہ بندی کے تحت روکی گئی ہے اور اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق جلد ہی اجلاس طلب کیا جائے گا۔‘

خوراک کی فراہمی معطل کیے جانے یا شہریوں سے خوراک ضبط کرنے کے الزمات پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ ملک لیاقت نے بی بی سی کو بتایا کہ راولاکوٹ یا آزاد پتن پر پولیس نے کسی بھی ایسی گاڑی کو نہیں روکا جس میں کھانے پینے کا سامان لادا گیا ہو۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جو ٹرک آزاد پتن کے قریب کالعدم تنظیم کے کارکنوں کی طرف سے لگائے گئے ناکے کو عبور کر کے آ جاتا ہے اس کو پولیس حکام اس کی منزل تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے خود اعلان کر رکھا ہے کہ وہ سڑکیں بلاک کریں گے، نہ کسی کو آنے دیں گے اور نہ ہی باہر جانے کی اجازت ہوگی۔‘

دوسری طرف مری کے علاقے پھگواڑی اور کشمیر میں آزاد پتن کے قریب درجنوں ٹرک سڑک کے کنارے کھڑے ہیں۔ یہ بتایا جا رہا ہے کہ زیادہ تر ٹرکوں میں کھانے پینے کا سامان ہے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھیجا جانا ہے۔

پھگواڑی کے قریب سڑک کنارے رکے ہوئے ٹرک ڈرائیور سردار عاشق کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ چار روز سے کھڑے ہیں اور ان کے ٹرک پر دالیں، گندم اور چاول لدے ہوئے ہیں۔ سردار عاشق کے مطابق یہ سامان انھوں نے وادی نیلم پہنچانا ہے۔

سردار عاشق نے کہا کہ کوہالہ کا پل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملاتا ہے، وہاں دیگر ٹریفک رواں دواں ہے لیکن ٹرک روکے گئے ہیں جن میں زیادہ تر کھانے پینے کا سامان لدا ہے، بہت سے ٹرکوں میں سبزیاں اور پھل ہیں جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہو رہے ہیں۔

ٹرک ڈرائیور سردار عاشق کے بقول جب انھوں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہاں پر تعینات پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کا حکم انھیں افسران کی جانب سے دیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل جاری ہے اور فروٹ اور سبزیوں کی منڈیاں کھلی ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خوراک کی سپلائی معطل یا روکے جانے کے حوالے منیر قریشی نے مکمل لا علمی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حدود کوہالہ سے اِس طرف ہیں۔ ہماری طرف سے نہ سرکاری سطح پر اور نہ ہی نجی سطح پر کسی گاڑی کو روکا گیا ہے۔ اُس پار کیا ہو رہا ہے مجھے اس کا علم نہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انھیں یہ شکایات موصول ہوئی تھیں کہ آزاد پتن اور پھگواڑی کے قریب پنجاب پولیس کے اہلکار ٹرک اور لوڈر گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے علاقے سے گزارنے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ معاملہ پنجاب پولیس کے سربراہ اور صوبے کے چیف سیکرٹری کے سامنے بھی اٹھایا ہے اور ان دونوں افسران نے اس معاملے کی چھان بین کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

راولاکوٹ میں احتجاج جاری، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 سے زیادہ کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شاملپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 12 مہاجرین نشستوں کا تنازع: کیا سیاسی جماعتوں کے مفادات نے معاملے کو ڈیڈ لاک تک پہنچایا اور اب آگے کیا ہو گا؟طلبہ رہنما سے انتہائی مطلوب تک: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما کون ہیں؟’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟وادیِ نیلم کی مرکزی شاہراہ بند، خوراک، پیٹرول کی کمی سے لاکھوں افراد متاثر

دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر واقع 3621 مربع کلو میٹر پر پھیلی وادی نیلم ان دنوں احتجاجی مظاہروں کے باعث کشمیر کے دیگر اضلاع کی طرح مکمل بندش کی صورتحال سے دوچار ہے اور یہاں تجارتی سرگرمیاں گذشتہ 12 روز سے متاثر جبکہ روزمرہ زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد سے تقریباً 77 کلومیٹر پر وادی نیلم میں ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال پر جاری مظاہروں کے باعث کاروباری مراکز بند ہیں اور ٹریفک معطل ہے، اس صورتحال کے نتیجے میں پوری وادی میں بسنے والے افراد کو خوراک، نقل و حمل اور ضروریاتِ زندگی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وادی کے داخلی مقام چلہانہ سے آخری مقام تاوبٹ تک تمام چھوٹے بڑے بازار، ایمرجنسی سروسز سے متعلق دکانوں کے علاوہ بند ہیں۔ احتجاج کے 11 ویں روز ضلعی انتظامیہ نے میڈیکل سٹورز، کریانہ، بیکرز اور سبزی فروشوں سمیت ضروری اشیائے خورد و نوش سے وابستہ دکانیں کھولنے کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد شام کے اوقات میں بعض مقامات پر کاروباری سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔

وادی نیلم کو مظفر آباد سے ملانے والی واحد مرکزی شاہراہ اس وقت احتجاجی مظاہرین نے ضلعی ہیڈکوارٹر اٹھ مقام سے تقریباً ایک کلومیٹر پہلے چک مقام کے مقام پر بند کی ہوئی ہے۔

اس بندش کے باعث ضلع نیلم میں رہنے والے لاکھوں افراد عملی طور پر لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہڑتال کے 11 روز بعد انتظامیہ نے وادی نیلم کے ابتدائی حصے نوسری سے کنڈل شاہی تک سڑک بحال کر دی ہے، تاہم چک مقام میں جاری احتجاجی دھرنے کے مقام سے تاوبٹ تک جانے والی یہی واحد مرکزی شاہراہ تا حال بند ہے۔

مظفر آباد سے کنڈل شاہی تک پرائیویٹ گاڑیوں کی محدود آمد و رفت جاری ہے، تاہم عوام ضروری کاموں کے لیے کرائے کی گاڑیوں کے ذریعے مظفر آباد کا سفر کر رہے ہیں، جنھیں شاکوٹ پلنگ کے مقام پر مظاہرین شناخت کے بعد گزرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔

سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس کام) کی جانب سے فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروس بھی مکمل طور پر بند ہے جبکہ کال سروس بحال ہے۔ ضلع نیلم میں ایس کام کے علاوہ کسی دوسری موبائل کمپنی کی سروس دستیاب نہیں۔

انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے بینک کی سروس بھی معطل ہے، تمام اے ٹی ایم بند ہیں، جس کے باعث لوگوں کو رقوم کی فراہمی اور منتقلی میں بھی مشکلات ہیں۔

ضلع نیلم کے ضلعی ہیڈکوارٹر کے قریب چک مقام میں احتجاجی مظاہرین کا دھرنا 12 جون سے جاری ہے۔ اس سے قبل نو جون سے 12 جون تک یہ دھرنا ضلع نیلم کی آخری حدود کے قریب باڑیاں کے مقام پر جاری رہا تھا۔

دن کے اوقات میں دھرنے میں شریک افراد کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جبکہ رات کو تعداد نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ مظاہروں میں مردوں کے ساتھ خواتین، بزرگ اور بچے بھی شریک ہیں جو ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ضلع نیلم میں پاکستان سے آنے والی فورسز تعینات نہیں کی گئیں اور امن و امان کی صورتحال مقامی پولیس کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر اس وقت اپنی سرکاری رہائش گاہ سے سرکاری امور سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ ضلعی ہیڈکوارٹر جانے والی واحد سڑک احتجاجی مظاہرین کی جانب سے بند ہے۔

علاقے میں احتجاج کے دوران اس وقت تک دو افراد زخمی جبکہ پانچ گرفتار ہوئے ہیں۔

نیلم کے ڈپٹی کمشنر احسن اقبال نے بتایا کہ ’نیلم میں امن ہے، یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ چک مقام سے کچھ مظاہرین نے سڑک بند کر رکھی ہے، تاہم ہمارے پاس متبادل راستہ موجود ہے۔ آٹے کا مسئلہ سڑک کی وجہ سے نہیں، جو گاڑی آتی ہے وہ گزار دی جاتی ہے۔ آٹے کی مل سے اگر آٹا کم آ رہا ہو تو یہ الگ معاملہ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پیٹرول کی کمی ضرور ہے لیکن وہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیدا ہوئی۔‘

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ انتظامی حکمت عملی کی وجہ سے انھوں نے اب تک سرکاری امور اپنی رہائش گاہ سے ہی سر انجام دیے، جو بالکل دفتر کے قریب ہے۔

اگرچہ بالائی نیلم کے علاقوں کیرن، شاردہ، کیل، سرگن، پھلاوئی، جنوائی، اڑنگ کیل اور تاوبٹ کا زمینی رابطہ ضلعی ہیڈکوارٹر اٹھ مقام سے برقرار ہے، تاہم مظفر آباد سے رابطہ منقطع ہونے کے باعث ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

دو روز قبل احتجاجی مظاہرین نے بالائی نیلم جانے والے آٹے کے پانچ ٹرکوں کو راستہ دیا تھا جس کے بعد ان علاقوں میں محدود مقدار میں سبسڈائزڈ (رعایتی نرخوں پر) آٹا پہنچایا گیا، تاہم دیگر ضروری سامان کی فراہمی تاحال محدود ہے۔

ضلع نیلم کے رہائشی الف دین نے بتایا کہ ’15 روز سے پیسے ڈپو پر جمع کیے ہوئے ہیں مگر ابھی تک آٹا نہیں ملا، روزانہ میں ڈپو پر جاتا ہوں مگر آٹا نہیں دیا جاتا، بازار میں جو دکانیں کھلی ہیں ان کے نرخ بڑھا دیے گئے ہیں۔‘

وادی میں پیٹرول پمپس مکمل بند ہیں اور پیٹرول کی فراہمی متاثر ہے۔ کرائے کی گاڑیاں مظفر آباد یا گڑھی حبیب اللہ سے کین کے ذریعے پیٹرول وادی نیلم پہنچاتی ہیں۔ لیکن اس پیٹرول کے لیے بھی پیشگی آرڈر دینا پڑتا ہے اور ایک لیٹر پر 100 روپے اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔

نیلم سے مظفرآباد سفر کرنے والے ایک بولان گاڑی کے مالک شہزاد نے بتایا: ’مجھے 500 لیٹر پیٹرول کا آرڈر ملا ہے جو میں گڑھی حبیب اللہ سے لے کر نیلم پہنچاؤں گا اور صرف وہ اضافی رقم وصول کروں گا جو میری اپنی گاڑی کے اخراجات ہیں، کیونکہ اس وقت ٹرانسپورٹ بند ہے۔ مظفر آباد سے نیلم کے لیے بولان گاڑی 10 ہزار روپے کرائے پر دستیاب ہوتی ہے۔‘

سیاحت مکمل طور پر معطل

وادی نیلم کو قدرتی حسن کے اعتبار سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورت ترین وادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں لاکھوں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں، تاہم اس مرتبہ احتجاجی صورتحال کے باعث سیاحتی سرگرمیاں پانچ جون سے تقریباً مکمل طور پر معطل ہیں۔

گیسٹ ہاؤسز، ریستوران اور پکنک پوائنٹس بند پڑے ہیں جبکہ سیاحت سے وابستہ کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں۔

وادی نیلم گیسٹ ہاؤس ایسوسی ایشن کے سربراہ راجہ امجد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہی چار پانچ ماہ ہمارے سیزن کے دن ہوتے ہیں، جن کا ہم پورا سال انتظار کرتے ہیں۔ ہم بھی نہیں چاہتے کہ سیاحت متاثر ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کے مطالبات پورے کرے اور مظاہرین احتجاج ختم کریں۔ یہ ملک بھی ہمارا ہے اور مطالبات بھی ہماری اپنی حکومت سے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا: ’سیاحوں کو تو حکومت نے پانچ جون سے سیاحتی علاقے چھوڑنے کے حکامات جاری کیے، تب ہڑتال بھی نہیں تھی، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، بینک کا نظام معطل ہوا تو سیاحوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت سیاحتی سرگرمیاں بحال رکھتی تو ہم پرائیویٹ سطح پر کوئی بھی مشکلات پیدا نہ ہونے دیتے۔‘

راجہ امجد کے مطابق 'اگر صورتحال معمول پر آتی ہے تو ہم پاکستان بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے خصوصی پیکیجز متعارف کرائیں گے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں اور کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔‘

ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک انیل کاشر نے بتایا کہ ’اس وقت صرف وادی نیلم کی سیاحت کا نقصان ہو رہا ہے، حکومت کو بھی اور مظاہرین کو بھی چاہیے کہ سیاحت کو بچایا جائے، یہ ہڑتالیں ختم کی جائیں۔‘

’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟راولاکوٹ میں احتجاج جاری، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 سے زیادہ کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شاملپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 12 مہاجرین نشستوں کا تنازع: کیا سیاسی جماعتوں کے مفادات نے معاملے کو ڈیڈ لاک تک پہنچایا اور اب آگے کیا ہو گا؟راولاکوٹ میں 8 سے 10 ہزار مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکومتی دعویٰ، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلانطلبہ رہنما سے انتہائی مطلوب تک: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما کون ہیں؟پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More