’خام تیل کی خریداری پر ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں‘: کیا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے عارضی خاتمے سے پاکستان کوئی فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jun 29, 2026

Getty Images

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے پاکستان خام تیل سمیت توانائی کے شعبے کی دوسری مصنوعات ایران سے حاصل کرنے کے حوالے سے ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔

اتوار کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان ’ایران سے خام تیل سمیت توانائی کے شعبے میں جتنی بھی اشیا لے سکا وہ لیے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ ہمارے فائدے میں ہو۔ ایران ہمارا برادر، ہمسایہ ملک ہے اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ اس سے فائدہ اُٹھائیں۔‘

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں ایران کو آئندہ 60 روز کے لیے خام تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت دی ہے۔

ایران سے خام تیل خریدنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ’ایران کے پاس موجود خام تیل بھاری (ہیوی کروڈ آئل) ہے، جس کے استعمال میں کچھ مسائل آتے ہیں، لیکن ہم ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں کہ ہم کس طرح سے اِسے بلینڈ کر کے پاکستانی عوام کے لیے سستا ایندھن فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے۔‘

یاد رہے کہ ہیوی کروڈ آئل سے فرنس کی زیادہ مقدار پیدا ہوتی ہے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ ’ایران خود بھی پیٹرول اور ڈیزل ترکمانستان اور دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے، کیونکہ اُن کے پاس اپنا خامتیل صاف کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ فی الوقت ’ہم یومیہ ایران سے تین سے چار ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کرتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ اسے بڑھایا جائے تاکہ ایل پی جی کی قلت کو کم کیا جا سکے۔‘

ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا یہ معاملہ اِس وقت پیرس کی ثالثی عدالت میں ہے۔

’یہ قطعی طور پر بھی مناسب نہیں ہے کہ دو ملک جو آپس میں اتنی محبت اور بھائی چارے کا تعلق رکھتے ہوں، وہ ایسے معاملات کو عدالتوں میں طے کریں۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہ معاملہ عدالت کے باہر ہی حل ہو جائے اور ہم ایران کے ساتھ بیٹھ کر گیس کی قیمت طے کریں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر مقامی سطح پر ہمیں چھ ڈالر کی گیس مل رہی ہے اور باہر سے ہم 10 ڈالر کی منگوا رہے ہیں، تو اگر ایران سے ہمیں اس سے مہنگی گیس ملتی ہے تو ہم اپنے عوام پر یہ بوجھ نہیں ڈالیں گے۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر دونوں ممالک کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور اُمید ہے کہ اس کا بہتر حل نکلے گا۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک پرانا منصوبہ ہے جس میں اس وقت ایک نمایاں پیش رفت ہوئی تھی جب سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آخری دنوں میں ا س وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایران کے دورے کے دوران اس کا افتتاح کیا تھا تاہم اس کے بعد اس میں کوئی خاص پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن بچھا دی ہے اور پاکستان نے 2014 میں اپنی جانب 780 کلو میٹر کی پائپ لائن بچھانی تھی، لیکن ایران پر امریکی پابندیوں اور فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان یہ کام نہیں کر سکا تھا۔

اس پر ایران نے 2024 میں فرانس میں ثالثی عدالت سے رُجوع کیا تھا۔

تاہم جب امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی خرید و فروخت پر عائد پابندیاں 60 روز کے لیے اٹھائی گئی تھیں تو بہت سے پاکستانی شہریوں اور ماہرین نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں تاکہ پاکستانی شہریوں کو سستا تیل و ڈیزل دستیاب ہو سکے۔

بی بی سی اُردو نے اس شعبے کے ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آیا پاکستان میں واقع آئل ریفائنریاں ایران کے بھاری خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اس حوالے سے کیا چیلنجز درپیش ہوں گے؟

تاہم اس سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی خرید و فروخت سے متعلق دی گئی عارضی مہلت ہے کیا؟

Getty Imagesعلی پرویز ملک کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات چیت جاری ہےایرانی تیل کی فروخت کے لیے 60 روزہ لائسنس کا مطلب کیا ہے؟

اس سے متعلق اعلان کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کیا جا رہا ہے۔

ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کا معاملہ مفاہمتی یادداشت کی شق سات میں درج ہے، جس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عائد پابندیاں اور وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو امریکہ نے یکطرفہ طور پر نافذ کی تھیں۔

اس امریکی اقدام کی بدولت کئی دہائیوں میں پہلی بار ایران کو امریکی ڈالر میں تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

اس اقدام سے بینکاری لین دین، انشورنس اور نقل و حمل سے متعلق معاملات ممکن ہو جائیں گے جبکہ ایران کو خام تیل فروخت کرنے کے لیے ماضی میں استعمال کیے جانے والے پیچیدہ اور خفیہ نیٹ ورکس کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔

پاکستان ایران کا پڑوسی ملک ہے جہاں سے ہر روز ایرانی ڈیزل اور پیٹرول سرحد پار صوبہ بلوچستان میں بکنے کے علاوہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی پہنچتا ہے۔

یہ ایرانی تیل پاکستان سمگل ہو کر آتا ہے جس کی قیمت مقامی ڈیلرز اور سپلائرز طے کرتے ہیں۔ تاہم ان کی قیمت پاکستان کی تیل کمپنیوں کی جانب سے فروخت کیے جانے والے ڈیزل اور پیٹرول سے کم ہوتی ہے۔

کیا پاکستان ایران سے خام تیل اور پیٹرولیئم مصنوعات خرید سکے گا؟Getty Images

پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی سالانہ کھپت تقریباً ستر لاکھ ٹن ہے۔

پاکستان میں ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ پاکستان آئل رپورٹ میں مالی سال 2025 کے جو اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان نے تقریباً 20 لاکھ کے قریب ڈیزل درآمد کیا اور 50 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ڈیزل مقامی ریفائنریوں میں پیدا کیا گیا۔

مقامی طور پر پیٹرول کی پیداوار تقریباً 20 لاکھ ٹن تھی جب کہ 50 لاکھ ٹن کے قریب پیٹرول باہر سے درآمد کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مقامی ریفائنریز نے تقریباً سالانہ 90 لاکھ ٹن کے قریب خام تیل کو پراسس کر کے اس سے تیل مصنوعات پیدا کیں جن میں پیٹرول، ڈیزل کے علاوہ فرنس آئل، ایل پی جی اور لبریکنٹس بھی شامل تھے۔

پاکستان خام تیل کی زیادہ تر خریداری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ خام تیل امریکہ سے بھی منگواتا ہے۔

پاکستان میں تیل کمپنیوں کے خلیجی ممالک سے طویل مدتی معاہدے بھی ہیں جیسا کہ ڈیزل کے لیے پاکستان سٹیٹ آئل کا کویت پیٹرولیئم کارپوریشن سے معاہدہ ہے۔

تو کیا اب پاکستان ایران سے تیل خرید سکے گا؟

50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی اور مسلح تنازع کا سامنا کرنے والے موٹر سائیکل سوار جو ایرانی تیل پاکستان میں سمگل کرتے ہیں’پیٹرولیم لیوی کی کوئی گنجائش نہیں‘: کیا پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اُتنی ہی کم ہوئی ہے جتنی بڑھائی گئی تھی؟سستا ایرانی تیل یا امریکہ سے سفارتی فوائد، کیا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان کو امن معاہدے سے کچھ ملے گا؟متحدہ عرب امارات کا 60 سال بعد اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ اہم کیوں ہے؟

آئل اینڈ گیس شعبے کے ماہر زاہد میر نے بتایا کہ پاکستان کی زیادہ تر خام تیل سپلائی تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہوتی ہے۔

تاہم ان کے بقول اِن معاہدوں میں ’کچھ گنجائش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے ملک سے بھی تیل خریدا جا سکتا ہے جیسا کہ پاکستان نائیجریا سے بھی خام تیل خریدتا ہے اور روس سے بھی ماضی میں بھی خام تیل خریدا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ڈیزل کی مقامی پیداوار 70 فیصد ہے اور تیس فیصد امپورٹ ہوتا ہے اور وہ بھی زیادہ تر کویت سے درآمد کیا جاتا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یہاں بھی کچھ گنجائش ہوتی ہے جیسا کہ ایک تیل کمپنی سعودی آرامکو سے بھی کبھی کبھار ڈیزل امپورٹ کرتی ہے۔

زاہد نے بتایا کہ پاکستان میں 30 فیصد تک پیٹرول مقامی طور پر پیدا ہوتا ہے اور باقی 70 فیصد سپاٹ مارکیٹ سے خریدتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیٹرول کی خریداری کے لیے ایران کا انتخاب کیا جا سکتا ہے تاہم ان کے مطابق اس کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے تحت ہو گی۔

ان کے مطابق ریلیف محض یہی ہو گا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی ہیں لہذا فریٹ لاگت کم ہو گی جس کا تھوڑا سا فائدہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

BBCاس وقت ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب میں تقریباً 250 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ فروخت ہو رہا ہے

تیل و گیس کے شعبے سے منسلک ماہرین نے اس امکان کو رد کیا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈیزل کی سرکاری قیمت 311 روپے فی لیٹر ہے اور پیٹرول کی قیمت 299 روپے فی لیٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب میں تقریباً 250 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ فروخت ہو رہا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی خام تیل پراسس کر کے اس سے پیٹرولیئم مصنوعات تیار کرنے والی ریفائنری سنرجیکو ریفائنری کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی تیل اُس وقت سستا تھا جب اس پر پابندیاں تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اب ایران بین الاقوامی مارکیٹ میں اسی قیمت پر تیل بیچے گا جو بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت ہو گی۔

انھوں نے کہا یہ تیل صرف پاکستان نے نہیں خریدنا بلکہ اس کے دوسرے بھی خریدار ہوں گے جیسا کہ انڈیا اور چین۔

اسامہ نے کہا اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت گرتی ہے تو اس کا فائدہ، بشمول پاکستان، سب کو ہو گا، تاہم یہ کہنا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل بھی سستا ہو جائے گا، اس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تیل و گیس شعبے کے ماہر زاہد میر نے بھی اس امکان کو رد کیا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے سے پاکستان میں صارفین کو تیل سستا ملنا شروع ہو جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی ملک اسی وقت تیل سستا بیچتا ہے جب اس پر پابندیاں ہوں۔ ’ماضی میں روس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جب روس پر تیل بیچنے پر پابندیاں تھیں تو اس نے بہت سستا تیل مارکیٹ میں بیچا۔ تاہم جب ان پابندیوں میں کچھ نرمی ہوئی تو اس نے بھی بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمت پر تیل فروخت کرنا شروع کر دیا۔‘

زاہد میر کے مطابق ایران کے اپنے معاشی مفادات ہیں اور ہمارے اپنے ہیں۔ انھوں نے کہا اگر دو طرفہ بنیادوں پر کوئی ایسا انتظام ہو کہ ایران پاکستان کو تیل کچھ رعایت پر دے تو وہ الگ بات ہے۔

زاہد میر نے مثال دی کہ پاکستان کے برادرانہ اور دیرینہ تعلقات تو سعودی عرب سے بھی ہیں لیکن سعودی عرب اسی قیمت پر تیل پاکستان کو فروخت کرتا ہے جو اس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت ہے۔

کیا ایرانی خام تیل پاکستانی ریفائنریوں میں پراسس ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں اس وقت پانچ ریفائنریاں خام تیل پراسس کر کے پیٹرولیم مصنوعات تیار کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایرانی خام تیل بھاری ہوتا ہے جس سے زیادہ تر فرنس آئل پیدا ہوتا ہے۔ فرنس آیل کی مقامی طور پر کھپت کم ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اِس کی قیمت کم ہے۔

اسامہ قریشی کے مطابق ایرانی خام تیل بھاری ہے جو زیادہ فرنس آئل پیدا کرتا ہے۔ انھوں نے کہا ’ایک بیرل ایرانی خام تیل سے 40، 45 فیصد فرنس آئل پیدا ہوتا ہے جو مالی طور پر کچھ زیادہ پُرکشش نہیں۔‘

زاہد میر نے بتایا کہ پاکستانی ریفائنریاں اپ گریڈ نہیں ہیں، اس لیے وہ لائٹ خام تیل استعمال کرتی ہیں جبکہ دوسری جانب ایرانی خام تیل سے زیادہ فرنس آئل پیدا ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا ایرانی خام تیل استعمال تو ہو سکتا ہے لیکن شاید وہ مالی طور پر زیادہ فائدہ مند نہیں ہو گا۔

سستا ایرانی تیل یا امریکہ سے سفارتی فوائد، کیا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان کو امن معاہدے سے کچھ ملے گا؟’پیٹرولیم لیوی کی کوئی گنجائش نہیں‘: کیا پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اُتنی ہی کم ہوئی ہے جتنی بڑھائی گئی تھی؟50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی اور مسلح تنازع کا سامنا کرنے والے موٹر سائیکل سوار جو ایرانی تیل پاکستان میں سمگل کرتے ہیںگوادر کے ماہی گیر، مہنگا ایرانی تیل اور سمگلنگ: ایران اور اسرائیل کی جنگ نے بلوچستان میں لوگوں کو کیسے متاثر کیا؟سمگل شدہ ایرانی تیل سے ’پریشان‘ پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کی جنگ عوام کی جیب پر بھاری پڑ سکتی ہے؟ ’یہاں پانی، بجلی سڑک نہیں لیکن سمگل شدہ ایرانی تیل کی فراوانی ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More