اینکر عمران ریاض خان بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے، وکیل کی تصدیق

اُردو وائر  |  Sep 25, 2023

تقریباً چار ماہ تک لاپتہ رہنے والے پاکستانی صحافی اور ٹی وی اینکر عمران ریاض خان کی بازیاب ہو گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ عمران ریاض کی بازیابی کی اطلاع پیر کی صبح پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفس نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دی۔ ڈی پی او آفس نے اپنی مختصر پوسٹ میں لکھا کہ ’صحافی/اینکرعمران ریاض خان بازیاب ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔‘ اس کے بعد عمران ریاض کے وکیل میاں علی اشفاق نے بھی عمران ریاض کی گھر واپسی کی تصدیق کی ہے۔ میاں علی اشفاق نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’اللہ کے خاص فضل، کرم و رحمت سے اپنے شہزادے کو پھر لے آیا ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’مشکلات کے انبار، معاملہ فہمی کی آخری حد، کمزور عدلیہ و موجودہ غیرمؤثر سرعام آئین و قانونی بے بسی کی وجہ سے بہت زیادہ وقت لگا‘ ’ناقابل بیان حالات کے باوجود اللہ رب العزت نے یہ بہترین دن دکھایا اس وقت صرف بے پناہ شکر‘ اینکر عمران ریاض خان کو رواں برس نو مئی کو تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں سیالکوٹ کے تھانہ کینٹ اور سیالکوٹ جیل لے جایا گیا۔ 15 مئی کو عدالت کو بتایا گیا کہ عمران ریاض خان تحریری حلف نامہ جمع کروا کے جیل سے رہا کر دیے گئے تھے۔ لیکن اس کے بعد عمران ریاض کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ 16 مئی کو عمران ریاض کے والد نے سیالکوٹ سول لائنز پولیس میں اپنے بیٹے کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی تھی اور بعد میں لاہور ہائی کورٹ میں بھی بازیابی کی درخواست جمع کرائی۔ اس کے بعد 22 مئی کو عدالت نے عمران ریاض کی یازیابی کا حکم جاری کیا تھا لیکن کئی ماہ تک عمران ریاض کا پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں ہیں۔ رواں ماہ چھ ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے آئی پولیس پنجاب کو عمران ریاض کو بازیاب کرنے کے لیے 13 ستمبر تک مہلت دی تھی جس کے بعد آئی جی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ’اس کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور چند دنوں میں اچھی خبر دیں گے۔‘ لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پولیس کو 20 ستمبر کو آخری مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ 26 ستمبر تک اینکر عمران ریاض کو بازیاب کرایا جائے۔

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More