آن لائن کلاسیں لینے والے بین الاقوامی طلبہ امریکہ میں نہیں رہ سکیں گے، نیا حکم جاری

نوائے وقت  |  Jul 07, 2020

 امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں زیرِ تعلیم وہ یونیورسٹی طلبہ جن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں، ان کا ملک میں قیام پزیر رہنا غیر قانونی قرار پائے گا۔ امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ( آئی سی ای) نے گزشتہ روز کہا کہ اگر وہ خزاں کے سمیسٹر کے دوران امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کوئی کورس لینا ہوگا جہاں آف لائن کلاسیں جاری ہوں ورنہ انہیں امریکہ چھوڑنا ہوگا۔ ادارے نے کہا کہ قواعد کی پاسداری نہ کرنے والوں کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الوقت یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے طلبہ اس پابندی سے متاثر ہوں گے تاہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث کئی یونیورسٹیاں اپنی کلاسوں کو آن لائن نظام پر منتقل کر رہی ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے بڑی تعداد میں طلبا تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ آتے ہیں اور یونیورسٹیوں کو اس سے مکمل ٹیوشن فیس کی مد میں خاصی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب طلبا نئے تعلیمی سال کا آغاز کریں گے، تو تمام تدریسی عمل آن لائن نظام پر منتقل کر دیا جائے گا۔ اس میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو یونیورسٹی میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام نے غیر ملکی طلبہ کو بہار اور گرما2020سمسٹر کے آن لائن کورسز ملک میں رہتے ہوئے لینے کی اجازت دی تھی۔ تاہم پیر کے روز کیے گئے اعلان میں حکام نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی طلبہ جو آن لائن کلاسوں کے لیے مندرج ہوتے ہوئے امریکہ میں رہیں گے اور ذاتی طور پر پڑھائے جا رہے کسی کورس میں حصہ نہیں لیں گے، انہیں امیگریشن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں ان کی ملک بدری بھی شامل ہے۔ نئے ضوابط کا اطلاق ایف ون اور ایم ون ویزا کے حامل طلبہ پر ہوگا جو طلبہ اور کسی ہنر کی تربیت حاصل کرنے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق محکمہ نے2019 ءمیں 3 لاکھ 88 ہزارون 839 ایف ون ویزے اور 9 ہزار 518 ایم ون ویزے جاری کیے تھے۔ پاکستان کا خطے میں امن واستحکام کیلئے پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور

پاکستان کا خطے میں امن واستحکام کیلئے پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More