امریکی پابندیاں ،چینی کمپنی ہواوے نے ہاتھ کھڑے کردئیے ،ایسااقدام جس سے صارفین میں تشویش کی لہردوڑ گئی

روزنامہ اوصاف  |  Aug 08, 2020

چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے نے کہا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے اپنی سب سے زیادہ جدید چپ اب نہیں بنائے گی، جس کی وجہ سے کمپنی کو بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ ہواوے دنیا بھر میں ٹیلی کام کے پرزے بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور امریکہ اور چین کے درمیان نتازع میں اس کا نام نمایاں ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ہواوے سے دنیا کو سائبر سیکورٹی کے خدشات ہیں۔خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق ہواوے کے سی ای او یو چنڈونگ نے ایک ٹیک انڈسٹری فورم پر جمعے کو بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی جانب سے ان کے جدید ترین کیرین 9000 چپ سیٹ کو بنانے کا عمل ستمبر کی 15 تاریخ سے روک دیا جائے گا۔امریکہ نے گذشتہ سال ہواوے کا گوگل میوزک اور دیگر امریکی ٹیکنالوجی سے تعلق ختم کر دیا تھا۔ان پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے رواں برس مئی میں دنیا بھر میں کمپنیوں کو امریکی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ہواوے کے لیے کام کرنے سے روک دیا تھا۔تائیوان کی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی جو امریکی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ہواوے کی یہ جدید چپ بناتی تھی، نے نتائج کے ڈر سے مئی سے ہواوے کے آرڈر لینا بند کردیے تھے۔چینی کمپنی ہواوے خود یہ چپ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جو اس کے جدید ترین سمارٹ فونز میں استعمال ہوتی ہے۔یو چنڈونگ نے یہ بھی بتایا کہ ہواوے کے پاس اپنے موبائل فونز کے لیے چپ کی رسد نہیں ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اس بار کم فونز کی کھیپ بھیجی اور یہ ان کے لیے بڑا نقصان ہے۔امریکہ نے چین کی کمپنی ہواوے کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے سفارتی مہم بھی چلائی۔برطانوی حکومت نے چین کی جوابی کارروائی کی تنبیہ کے باوجود امریکہ کے دباؤ کے تحت رواں مہینے ہواوے کو اپنے فائیو جی نیٹ ورک سے 2027 تک ہٹانے کا فیصلہ کیا۔آسٹریلیا اور جاپان نے بھی ہواوے کو اپنے فائیو جی نیٹ ورک سے ہٹانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔یورپی کمپنیاں جیسا کہ ناروے کی ٹیلی نار اور سویڈن کی ٹیلیا نے بھی ہواوے سے معاملات کی منظوری نہیں دی۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More