میں کہا کہ دنیا بڑی طاقتوں کی سردجنگ روکے۔

روزنامہ اوصاف  |  Sep 24, 2020

مشرق وسطیٰ جنگوں میں پیوٹن‘ اردوان‘ ٹرمپاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس شروع ہوچکا ہے۔ ویڈیو کے ذریعے پہلے دن صدر ٹرمپ نے‘  چینی صدر جن پنگ نے‘ پھر صدر طیب اردوان نے خطاب کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے چین پر الزام لگایا کہ اس نے کرونا کو دنیا میں پھیلنے دیا۔ چینی صدر نے جواب دیا کہ وباء کو سیاسی رنگ دینے کی نفی ہونی چاہیے۔ صدر طیب اردوان نے شامی مظلوم مسلمانوں‘ مظلوم کشمیریوں‘ مظلوم فلسطینیوں کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گویٹرس نے ویڈیو خطابچین اور امریکہ میں سرد جنگ جاری ہے۔ پاکستان پر ہندوتوا بھارت نے سردجنگ سے متحرک اور فعال سرحدی محدود حملوں کی جنگ  مسلط کی ہوئی ہے۔ ایران اور عرب خلیجی و سعودیہ ریاستوں اور ممالک میں سرد جنگ طویل مدت سے جاری ہے۔ قطر کے خلاف امارات و سعودیہ کی سرد محاصرہ جنگ کے اثرات تاحال موجود ہیں۔ سعودیہ کے خلاف یمن سے حوثیوں نے جنگ مسلط کی ہوئی ہے۔ لیبیاء میں جنرل ہفتر نے امارات‘ فرانس‘ سعودیہ و مصر کی مدد سے سول حکومت کے خلاف جنگ مسلط کی ہوئی ہے جس کا وزیراعظم حال ہی میں استعفیٰ دے چکا ہے جبکہ لیبیاء کی سول (اخوان) حکومت کی مدد ترکی کے صدر طیب اردوان کرتے رہے ہیں۔ ترکی اور یونان میں بھی شدید قسم کی سردجنگ ہو رہی ہے۔ یونان کی مدد امارات‘ فرانس‘ امریکہ کرتے رہے ہیں۔ اس سرد جنگ کا سبب بحرروم میں ترکی کی طرف سے تیل و گیس کی تلاش کے حوالے سے بحری جنگی قسم کی مہم جوئی بتائی جاتی رہی ہے۔ ایک قسم کی داخلی اور جنگ لبنان میں ہوتی رہی ہے اور شام میں بھی جس میں مظلوم شامیوں کی مدد سعودیہ‘ خلیجی ریاستیں‘ مصر کرتے رہے ہیں جبکہ اس انسانی المیہ مسئلے کے خاتمے کے حوالے سے صدر اوبامہ کا منافقانہ کردار صدر اسد کو طاقتور بناتا رہا تھا۔ صدر اوبامہ اور پھر صدر ٹرمپ کے کردار نے عربوں کو شام میں مایوس کیا مگر صدر طیب اردوان نے مقدور بھر کوشش کی تھی کہ وہ مظلوم  شامیوں کی مدد کرتے رہیں۔ جبکہ شام میں روسی صدر پیوٹن نے اور اسی طرح ایران نے فوجی طور پر صدر بشارالاسد کی بھرپور مدد کی تھی لبنانی حزب اللہ نے بھی ایرانی ملیشیاء کے شانہ بشانہ صدر بشارالاسد کی بھرپور مدد کی۔یوں منظر سے غائب ہوتے ہوئے صدر بشارالاسد بچ گئے اور عربوں کو امریکی منافقت کا درد ملا جبکہ صدر بشارالاسد کو صدر پیوٹن اور ایرانی ولایت فقہیہ  بادشاہت کی طرف سے مکمل حمایت‘ مدد‘ وفاء کامل ملی ہے۔جنگوں کے ذریعے جغرافیے کو توڑنے کی بھرپور کوششیں مشرق وسطیٰ میں کافی ہوچکی ہیں۔ امریکہ نے شامی کردوں کو داعش کے خلاف استعمال اس وعدے کے ساتھ کیا تھا کہ انہیں ترکی کے بارڈر کے ساتھ شامی علاقہ بطور ریاست دے دیا جائے گا۔ اسرائیل نے عراقی کردوں کو شہہ دی کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا ’’کرد علاقہ‘‘ ریاست بنالیں۔ مگر صدر طیب اردوان کی بروقت جرات و دلیری نے امریکہ کی شامی کردوں کے لئے ترکی بارڈر کے ساتھ متوقع کرد ریاست کو نیست و نابود کر دیا تو دوسری طرف طیب اردوان نے ہی اسرائیلی سازش سے عراقی ترکوں کے لئے عراق میں ریاست حاصل کرتے عمل کو بھی تباہ کر دیا۔ ایران نے سنی عراقی کردوں کو کچل ڈالنے کے حوالے سے طیب اردوان کی جارحانہ کوششوں کو بہت پسند کیا کیونکہ سنی ایرانی کرد بھی اپنی ریاست کے حوالے سے احساسات رکھتے ہیں۔ جیسے سنی شامی و عراقی کرد رکھتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان جنگوں میں صدر طیب اردوان روسی صدر پیوٹن کی طرح جرات مند‘ دلیر‘ بروقت جنگی کارروائی کے ذریعے ترک مفادات کے اعلیٰ ترین نگران بن کر ابھرے ہیں جبکہ جس طرح انہوں نے صدر بشارالاسد کے شدید ظلم کے سامنے مظلوم شامیوں کی حمایت کی وہ بھی نادرقسم کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔صدر طیب اردوان نے اپنے خلاف ہونے والی امریکی حمایت سے فوجی بغاوت پر جس طرح صدر پیوٹن کی اطلاع اور مدد سے قابو پایا‘ اس کے بعد صدر طیب اردان امریکہ سے بدظن  اور روسی صدر پیوٹن کے بہت قریب ہوگئے۔ قطر کی جس طرح انہوں نے سعودیہ و امارات کی جنگی محاصرے میں دفاعی طور پر بھرپور مدد کی اس سے بھی وہ ایران کے قریب ہوگئے۔ مگر شام میں جس طرح روس اور ایرانی مفادات کے مدمقابل انہوں نے اخوانی شامیوں کی جس طرح مدد کی‘ روس اور ایران سے نئے تعلق کے سبب نیست و نابود ہوتے اخوانی مظلوم شامیوں کو محفوظ بنایا‘ وہ سفارتی طور پر صدر طیب اردوان کا نادار کردار ہے۔اوپر جن جنگوں کا میں نے ذکر کیا ہے وہ علاقائی اور نظریاتی کشمکش نام پاتی ہیں۔ ان جنگوں میں اکثر امریکہ پس و پیش کرتا رہا۔ وہ اپنے اتحادیوں کی فوجی طور پر عملاً مدد سے کتراتا رہا جبکہ صدر پیوٹن اور صدر طیب اردوان نے عملی طور پر پیش رفت کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں کی بھرپور مدد کی ہے۔ البتہ صدر ٹرمپ نے اپنی ڈیپ اسٹیس اور اپنے پینٹاگان کے جنرلز کی خواہشوں کے خلاف ایران کے خلاف خلیجی عربوں کی مدد کی ہے۔ نفسیاتی و اعصابی طور پر ایران کے ہاتھوں تباہ ہوتے ہوئے عربوں کو سہارا دیا ہے اور ایران پر نئے سرے سے پھر اقتصادی پابندیاں لگا دی ہیں جبکہ ایران معاشی طور پر مزید تباہ ہو رہا ہے۔ ایران میں جب جب بھی ولایت فقیہہ نظام بادشاہت کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں تو انہیں جنرل قاسم  سلیمانی نے کچل ڈالا تھا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے ہی انقلاب ایران کو عسکری و مسلکی طور پر عربوں کے ہاں برآمد کیا اور عربوں کو تہس نہس کر دیا۔ سلیمان کے قتل کا بدلہ ایران لینے کا دعویدار ہے۔ کیا ایران 3نومبر سے پہلے جنرل قاسم سلیمان کا بدلہ لینے کا اہم اقدام کرے گا؟سچ مچ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو خلیجی عربوں کے محبوب صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ آور ہونے کی ’’سہولت‘‘ آسانی سے میسر آجائے گی۔ یوں متوقع اکتوبر میں ہی صدر ٹرمپ لازماً ایران پر بھرپور حملہ کرکے خود کو اسرائیلی یہودی لابی کا محبوب بنا کر صدارتی انتخاب جیتنے کا ’’جوا‘‘ کھیلیں گے۔ کالم ختم ہو رہا ہے مگر صدر ٹرمپ کی ممکنہ نئی جنگوں کی بات ابھی باقی ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More