بائرن میونخ فٹبال اکیڈمی، نسل پرستی کے الزامات کی زد میں

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 20, 2020

جرمن کا یہ شہرہ آفاق فٹ بال کلب نسل پرستی کے الزامات کے اس معاملے سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ جرمن چیمپیئن بائرن میونخ نے اس سلسلے میں ایک داخلی تفتیش کی تھی، جس کے تحت یوتھ پرفارمنس سینٹر میں نسل پرستی سے متعلق الزامات کی چھان بین کی گئی۔ اگست میں اسی حوالے سے ایک کوچ کو کلب سے برخاست بھی کیا گیا تھا۔

جرمن پولیس کے لیے انسداد نسل پرستی کی تربیت

مسلم دنیا میں نسل پرستی کا کیا عالم ہے؟

جرمن نشریاتی ادارے ڈبلیو ڈی آر نے سب سے پہلے بائرن میونخ کی فٹبال اکیڈمی این ایل زیڈ میں نسلی تفریق سے متعلق معاملے پر روشنی ڈالی تھی۔ الزامات میں کہا گیا تھا کہ اس اکیڈمی میں ایک یوتھ کوچ گزشتہ کئی برس سے نسلی بنیادوں پر ایک واٹس ایپ گروپ میں جملے بازی کا استعمال کرتے آئے ہیں جب کہ اس گروپ میں اس اکیڈمی کے متعدد دیگر اسٹاف ممبرز بھی موجود تھے۔

اس کلب کی جانب سے  جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ''این ایل زیڈ میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق چھان بین کی گئی اور ایف سی بائرن کے تشخص سے متصادم عوامل کو شناخت کیا گیا۔ اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں یوتھ ٹیمز یو نائن سے یو فیفٹین تک اسٹرکچرل تبدیلیاں ہوں گی۔ ایف سی بائرن ان تمام ضروری اقدامات کا تعین کر چکی ہے، جو تفتیش میں سامنے آنے والے محرکات کے حوالے سے درکار دیکھی گئی ہیں۔

اس بیان میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ 'کچھ اہم افعال سے متعلق ذمہ داریاں‘ اب زیادہ افراد کے سپرد کی جائیں گی جب کہ مسائل کی صورت میں نئے سرے سے رابطے کے پوائنٹس تربیت دیے جائیں گے۔

ویڈیو دیکھیے 01:38 ’یہ ایک احساس ہے، قبول نہ کیے جانے کا‘

بھیجیے Facebook Twitter google+ Whatsapp Tumblr Digg stumble reddit Newsvine

پیرما لنک https://p.dw.com/p/3ijIW

’یہ ایک احساس ہے، قبول نہ کیے جانے کا‘

ٹوئٹر پر ایک نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کیے گئے اسکرین شاٹس، جو ڈبلیو ڈی آر اور ڈی ڈبلیو کے سامنے آئے ان میں بہ ظاہر بائرن میونخ کو واٹس ایپ گروپ دکھائی دیتا ہے، جس میں ایک معروف کوچ کی جانب سے  شیئر کردہ ایک ٹرک کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے، جس کے ساتھ لکھا ہے ''بِمبو‘‘ نیچے اس کوچ کی جانب سے ٹرانسپورٹ درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی نسل پرستی سے متعلق ایک اور جملہ بھی تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے ردعمل میں گروپ میں شریک دو افراد مسکراتی سمائلیز بھی بھیجتے ہیں۔

ایک اور اسکرین شارٹ میں اس کوچ کی جانب سے 'کیمل جوکی‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ متعدد مرتبہ کھلاڑی کو 'گندے ترک‘ اور دیگر نامناسب الفاظ میں پکارا گیا۔

چارلیس ڈوگوئڈ پین فولڈ، ع ت، ک م

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More